Assalamalekum jnab qari sahab.
Hindu hmsaay sy kesy taulaqat rkhny chahiyn.unsy khanay peeny ki cheez lena dena jaiz h? Jb k neeyt ye ho k wo hmaary ikhlaq sy ki trf mayil hon.
بیرون ملک ھمیں سب سے بڑا مسئلہ پڑوس اور دفتر میں ھندو یا عیسائی لوگوں درپیش رھتا ھے ، اگر کوئی ھندو آپ کے پڑوس میں ھے تو آپ پر حق ھمسائیگی رکھتا ھے ، اگر وہ بھوکا سو گیا تو آپ کے پر سوالیہ نشان لگ جائے گا ، ان کے حال احوال کی خبر رکھنی چاھئے ، بچی بچے کی پیدائش پر تحفہ اور مبارکباد دینی چاھیئے ، اچھا پکائیں تو اس کے گھر بھیجیں وہ اگر آپ کے گھر کوئی کھانے کی چیز بھیجے اور وہ حلال ھو تو ضرور کھائیں کوئی حرج نہیں ، اگر وہ بیمار ھو تو تیمارداری کریں ، پیسے نہ ھوں تو مالی مدد کریں اور آپ کے پاس گاڑی ھو تو اسے اسپتال لے کر جائیں ، وھاں رک کر اس کی مدد کریں ، اس کی بیوی کو تسلی دیں ( یہ تسلی اپنی بیوی کے ذریعے دی جا سکتی ھے ) جب تک وہ مریض گھر واپس نہ آئے آپ اس کے گھر روزمرہ ضرورت کی اشیاء پہنچاتے رھیں ،، دفتر کا ساتھی ھے تو اسے ترقی پر مبارکباد دیں اور اگر پارٹی دے تو ضرور جوائن کریں ، کوئی پیسہ دھیلا ضرورت پڑے تو اسے دیں وہ اپنی امی سے بات کر رھا ھو تو اپنا سلام بھی عرض کر دیں ، سلام سے ڈر لگتا ھو تو نمستے کہہ دیں یہ وہ چیزیں ھیں جن سے آپ کی انسانیت ناپی جاتی ھے اور کوئی آپ کو بھی اور آپ کو تربیت دینے والے مذھب کو بھی شاباش دیتا ھے اور متأثر ھوتا ھے ،، روزہ ھماری ذاتی نیکی ھے ، اس کا دوسرے انسانوں پہ کوئی اثر نہیں پڑتا

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *