چھیڑے نہ ھمیں دنیا ، ھم ھیں مصطفی ﷺ والے !
کوئی تو جگہ ایسی ھوتی ھے جہاں اعتبار کرنا پڑتا ھے !
ھماری مائیں ھم سب کو معلوم ھے کہ جھوٹ بولتی ھیں ،ھمیں زندگی میں کئ بار ان سے جھوٹ کا تجربہ ھوا ھے ،ھمارا والد گواہ ھے ، دادا ، دادی گواہ ھیں کہ وہ جھوٹ بولتی ھے ،،، اس سے بھی آگے بڑھ کر پورا محلہ ان کے کئ جھوٹوں کا گواہ ھے !!
مگر ھم اس جھوٹی کے اس قول پر صدیوں سے اعتبار کرتے چلے آ رھے ھیں کہ ھم اس کے شوھر کی ھیں ! ھر بچہ چاھے وہ امام ابوحنیفہ ھو یا امام بخاری ھو یا محمود غزنوی ھو یا راحیل حسن ھو یا ھو ،، سب ایک ایسی عورت کی بات پر آنکھیں بند کر کے بغیر ثبوت مانگے اعتبار کر لیتے ھیں کہ جس کے جھوٹ کا نہ صرف ھمیں تجربہ ھے بلکہ سارا محلہ گواہ ھے ،، کیا کبھی کسی نے اپنی ماں سے اس کے اس دعوے کا ثبوت مانگا ھے کہ میں اپنے باپ کی ھی اولاد ھوں ؟ آج جب کہ ڈی این اے کی سہولت حاصل ھے اور ھر ملحد اپنی ماں سے ڈی این اے ٹیسٹ کا مطالبہ کر سکتا ھے ،میں نے ایک ملحد بھی نہیں دیکھا کہ جس نے اپنا اور اپنے باپ کا ڈی این اے ٹیسٹ میچ شدہ ریزلٹ کے ساتھ اسکین کر کے اپنی پروفائل پہ لگایا ھو ،میں ھمیشہ کہتا ھوں کہ شک کرنا اگر عقلمند اور ریشنلسٹ ھونے کی علامت ھے تو شک کی ابتدا اپنے گھر سے کرو ،، اپنی امی سے شروعات کرو ، اپنے وجود کی حلت و قانونیت کا ثبوت لگا کر آگے چلو !
تم ایک جھوٹی کے قول پر اعتبار کر کے اپنے نام کے ساتھ مغل ، بھٹی ، بنگش لگا لو تو عقلند ،،، حالانکہ اس قومیت کا ثبوت تمہارے پاس سوائے نادرا کے شناحتی کارڈ کے اور کچھ نہیں ،،
ھم اس ھستی کی بات پر اعتبار کر لیں جس کے دشمن نے قیصر کے دربار میں کھڑے ھو کر اعلان کیا کہ ھمیں ان سے کبھی جھوٹ کا تجربہ نہیں ھوا ،، تو ھم بے وقوف ؟ یہ کہاں کا انصاف ھے ؟ جس نے اپنے دشمنوں کو کوہ صفا کے سامنے نام لے لے کر بلایا اور اپنا آپ پیش کر دیا ،کیف وجدتمونی ؟ تم نے مجھے کیسا پایا ؟ اس دن ایک انگلی اٹھ جاتی ، ایک زبان کھل جاتی کہ آپ نے ھم سے کئ بار جھوٹ بولا ،، تو بات ختم ھو جاتی ، نہ کوئی تبلیغ ، نہ دعوت ، نہ وحی ، نہ قرآن ، نہ ھجرت نہ جہاد ، نہ بدر نہ احد ، نہ احزاب نہ فتح مکہ ،، کچھ بھی نہ ھوتا !! سارا دین کوہ صفا پہ کھڑے محمد ﷺ کے کندھوں پہ رکھا ھوا ھے ،، کلمے میں وہ اعزازاً پیچھے ھیں، میں وہ اللہ سے پہلے ھیں ،، جس نے آپ کی رسالت کا انکار کر دیا ،،باقی کچھ بھی نہیں بچتا ،،
ھمارے پاس قرآن کے اللہ کا کلام ھونے کا کوئی ثبوت نہیں ھے ،سوائے محمد ﷺ کی گواھی کے ،کہ یہ اللہ کا کلام ھے ،، قرآن کی قرآنیت محمد ﷺ کے قول سے ثابت ھے ، قرآن پہ نہ اللہ کے دستخط ھیں ،، نہ عرش کی مہر ھے ،، نہ جبرائیل کی گواھی ھے ،، قرآن اس لئے اللہ کا کلام ھے کہ یہ محمد ﷺ کا فرمان ھے کہ یہ اللہ کا کلام ھے !
اس دین اسلام کی ابتدا بھی محمدﷺ ھیں کہ ایمان ان سے ھے ،، اس کی انتہا بھی محمد ﷺ ھیں کہ اسلام کے احکامات کی عملی صورت بھی وھی ھیں ،،
جب ملحد محمد مصطفی ﷺ کو رسول نہیں مانتے تو ھمارا مکالمہ وھیں ختم ھو جاتا ھے ،، اگر وہ اللہ کو مان بھی لیں تو بھی کافر کے کافر رھیں گے جس طرح ابولہب اللہ کو مان کر اور محمد ﷺ کی رسالت کو نہ مان کر کافر تھا ، اللہ کے گھر کا متولی ھو کر بھی کافر کا کافر تھا ،

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *