Home / Humanity / Ethics / ھمارے شیوخ اور سات سالہ بچیاں

ھمارے شیوخ اور سات سالہ بچیاں

علاقے میں قحط سالی تھی اور جانور سب کچھ کھا کر فارغ ھو گئے تھے مزید کچھ کھانے کو رھا نہیں تھا اور مویشی مالکان نہایت پریشان تھے ،، اس دوران مولوی اللہ وسایا صاحب نے جمعے کے خطبے میں نہایت یقین کے ساتھ یہ بات بتائی کہ اگر اللہ کا نام لے کر یعنی بسم اللہ پڑھ کر دریا کو حکم دیا جائے تو وہ بھی نافرمانی نہیں کرتا ،، شاید یہ اس کا مولوی صاحب کے پیچھے زندگی کا پہلا جمعہ تھا کہ بات اس کے دل میں اتر کر یقین کا درجہ پاگئ ،، اس نے واپس آ کر اپنی بکریاں کھولیں اور سیدھا دریا پہ چلا گیا ،، اونچی آواز سے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھا اور دریا کو کہا کہ وہ ذرا پار اپنی بکریاں چرانے جا رھا ھے اس لئے وہ اسے اپنے اوپر سے گزرنے دے،، یہ کہہ کر اس نے اپنی بکریوں کو ھانکا اور دریا کے اوپر سے چلتا ھوا دریا پار کر گیا ،علاقہ گھاس سے بھرا پڑا تھا ، درختوں کے پتے بھی سلامت تھے کیونکہ یہاں تک کسی کو رسائی حاصل نہیں تھی ،، اب تو یہ اس کا معمول بن گیا کہ وہ بکریاں پار چھوڑ کر خود واپس آ جاتا اور شام کو جا کر واپس لے آتا ، اس کی بکریوں کا وزن دگنا چگنا ھو گیا تو لوگ چونکے اور اس سے پوچھا کہ وہ اپنی بکریوں کو کیا کھلاتا ھے ، وہ سیدھا سادا صاف دل انسان تھا ، صاف صاف بات بتا دی کہ جناب ھم تو دریا پار اپنی بکریاں چرانے جاتے ھیں ،، بات سب نے سنی مگر یقین کسی نے نہ کیا کیونکہ یہ ایک ناقابلِ یقین بات تھی ،مگر بات ھوتے ھوتے مولوی اللہ وسایا تک جا پہنچی ،، مولوی اللہ وسایا نے اس بکروال کو بلوا بھیجا اور اصل حقیقت بتانے کو کہا ، بکروال نے مولوی اللہ وسایا ھی کو اپنا ریفرینس بنا لیا کہ مولوی جی میں تو خود آپ کے پاس شکریہ ادا کرنے آنے والا تھا کہ آپ نے ایک جمعے میں یہ نسخہ بتایا تھا کہ بسم اللہ کہہ کر دریا کو حکم دو تو وہ بھی انکار نہیں کرتا ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
مولوی اللہ وسایا صاحب ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کی تصویر بنے بیٹھے تھے ،، بھائی ایسی باتیں تو ھم ھر جمعے کو کرتے ھیں ،مگر ان کا مقصد تو لوگوں کا ایمان بنانا ھوتا ھے ،،، مگر بکریوں والا ڈٹا رھا کہ بس میں تو بسم اللہ کہہ کر پانی پر چلتا ھوا بکریوں سمیت پار چلا جاتا ھوں ،،،، آخرکار مولوی صاحب نے صبح خود یہ تجربہ کرنے کی ٹھانی ، لوگ بھی صبح دریا کے کنارے جمع ھو گئے اور بکروال بھی آ گیا ،،
مجمع بہت زیادہ تھا ، مولوی صاحب نے ایک دو دفعہ اندر ھی اندر ارادہ کیا کہ انکار کر دیں ،،مگر وہ جو مولوی صاحب کو مسجد سے کندھوں پر اٹھا کر لائے تھے ،اب بھی جوش و خروش سے اللہ اکبر کے نعرے لگا رھے تھے اور مولانا اللہ وسایا کے حق میں تعریفی موشگافیاں کر رھے تھے ،،
آخر کار مولوی صاحب نے ایک رسہ منگوایا اور پہلے اسے درخت کے ساتھ باندھا پھر اپنی کمر کے ساتھ باندھا ، اور پھر ڈرتے ڈرتے ڈھیلا ڈھالا سا بسم اللہ پڑھا اور دریا پر چلنا شروع ھو گئے ،، مگر پہلا پاؤں ھی شڑاپ سے پانی میں چلا گیا اور مولوی اللہ وسایا صاحب ڈبکیاں کھانے لگے ، بدحواسی میں وہ یہ بھی بھول گئے کہ وہ ابھی کمر کمر پانی میں ھیں اٹھ کر کھڑے بھی ھو سکتے ھیں ،، وہ پانی کے بہاؤ میں بہنا بھی شروع ھو گئے لوگوں نے کھینچ کھانچ کر باھر نکالا اور سوکھنے کے لئے سائڈ پہ ڈال دیا ،، مولوی صاحب کی درگت نے بکروال کو بھی پریشان کر دیا کہ مولوی صاحب کی بسم اللہ کو کیا ھو گیا ھے ۔ مگر چونکہ اس کا یہ روز کا معمول تھا لہذا اس کے اپنے یقین میں کوئی فرق نہ آیا ،، اس نے بسم اللہ کہہ کر بکریوں کو پانی کی طرف اشارہ کیا اور خود ان کے پیچھے چلتا ھوا ، ان کو پار چھوڑ کر واپس بھی آ گیا ،، لوگ اسے ولی اللہ سمجھ رھے تھے اور اس کے حق میں نعرے لگا رھے تھے،، مگر وہ سب سے بے نیاز سیدھا مولوی اللہ وسایا کے پاس پہنچا اور کہا کہ مولوی صاحب میں آپ کی بسم اللہ کی طرف سے کافی پریشان تھا ،مگر پانی پر چلتے ھوئے مجھے آپ کی بسم اللہ کی بیماری کا پتہ چل گیا ،، اس نے درخت سے بندھے رسے کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ مولوی صاحب یہ ھے آپ کی بسم اللہ کی بیماری ،، آپ کی بسم اللہ کی برکت کو یہ رسہ کھا گیا ھے ،، آپ کو اللہ اور بسم اللہ سے زیادہ اس رسے پر بھروسہ تھا لہذا اللہ نے بھی آپ کو رسے کے حوالے کر دیا تھا ،، کمال کرتے ھیں آپ بھی مولوی صاحب ،میں نے آپ کے منہ سے سنا اور یقین کر لیا اور میرے اللہ نے میرے یقین کی شرم رکھ لی ،،مگر آپ نے اللہ سے اللہ کا کلام سنا مگر یقین نہیں کیا ؟ لہذا اللہ نے آپ کو رسوا کر دیا !!
کراچی سے چکوٹھی تک اور گوادر سے گلگت تک سات سات سال کی بچیاں جس بے جگری کے ساتھ اگر مگر ،چونکہ چنانچہ کے لاحقے کے بغیر طالبان کی بربریت اور دھشت گردی کی مذمت کر رھی ھیں،، ھمارے نوے نوے سال کے قریب المرگ ،قرین القبر ،شیوخ کو ایسی دوٹوک مذمت نصیب نہیں ،، کیونکہ بچیاں تو بچیاں ھیں انہیں کیا پتہ ھے کہ زندگی جتنی تھوڑی رھتی ھے اُتنی زیادہ عزیز ھوتی ھے !!

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *