Home / Humanity / Religions / قوموں کی مشابہت اور اسلام

قوموں کی مشابہت اور اسلام

من تشبہ بقومٍ فھو منھم ! کا جس بے دردی سےاستعمال ھم کر رھے ھیں شاید کسی قوم نے نہیں کیا ھو گا ! پہلی بات یہ کہ اس حدیث کے کئ ٹکڑے کئے گئے ھیں جن میں سے ایک ٹکڑا یہ ھے،، اگر اسی طرح لا تقربوا الصلوۃَ کے ٹکڑے کیئے جائیں تو پہلے ٹکڑے کا مطلب یہی نکلتا ھے کہ ایمان والو نماز کے قریب بھی نہ پھٹکو ( اگر تم نشے میں ھو ) اس سے مشابہت سے مراد اعمال کی مشابہت بھی ھے اور لباس کی مشابہت بھی ھے،، اب اگر لباس پر اس کا اطلاق کیا جائے تو سب سے پہلے پینٹ شرٹ سے نہیں بلکہ شلوار قمیص اور جیکٹ شیروانی اور قراقلی سے شروع کرنا چاھئے کہ یہ کس کا لباس ھے؟ کیا محمد بن قاسم فوج کے ساتھ لنڈے کے بورے بھر کر شلوار قمیص اور شیروانیاں بھی لایا تھا ؟ یہ شلوار قمیص اور جیکٹ شیروانی راجپوتوں کا لباس ھے ھندوؤں کا لباس ھے،، اور صرف کتابوں میں نہیں پایا جاتا،ھندوستان کا راجپوت آج بھی یہی لباس پہنتا ھے،، واجپائی،وی پی سنگھ ،جسونت سنگھ ،، چوھدری چرن سنگھ،، کی تصاویر آج بھی آپ کو شیروانی اور جیکٹ میں مل جائیں گی،، وی پی سنگھ تو قراقلی بہت کم اتارتا تھا گویا وہ لباس جسے آج کل علماء بہت اھتمام کے ساتھ زیب تن کرتے ھیں وہ اسلام کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ راجپوتانہ ھندو کلچر کی نمائندگی کرتا ھے،مگر یہاں ایک اصول متعارف کرایا جاتا ھے کہ ‘ جب کوئی لباس ھر قوم پہننا شروع ھو جائے تو پھر وہ کسی مخصوص قوم کا لباس نہیں رھتا بلکہ سب کا مشترکہ کلچر بن جاتا ھے،چونکہ مسلمان بھی شلوار قمیص اور جیکٹ شیروانی کثرت سے پہنتے ھیں لہذا اب اس میں سے تشابہ کا عنصر ختم ھو گیا ھے،، بس تھوڑی سی وسعتِ قلبی اور وسعتِ ںظری اختیار کر کے اس دفعہ سے دوسروں کو بھی استفادہ اختیار کرنے دیجئے ، یہی دفعہ پینٹ شرٹ اور ٹائی پر بھی لاگو ھوتی ھے،اب یہ کسی خاص قوم کا لباس نہیں بلکہ بین الاقوامی اور ھر قوم کا مشترکہ لباس بن چکا ھے،، مصر کا قومی لباس پینٹ شرٹ اور ٹائی ھے،، الازھر میں ٹائی مفتی کے لباس کا لازمی جزو قرار پائی ھے،، ٹائی کا کوئی مذھبی بیک گراؤنڈ نہیں ھے،یہ سرد علاقوں کی ضرورت ھے،،گردن موٹی ھو جانے سے قمیص کا اوپر کا بٹن باندھنا پھانسی لینا بن جاتا تھا،اس کے لئے چائنا والوں نے کپڑے کی یہ چیز ایجاد کی تھی تاکہ بدصورتی بھی نہ ھو اور گلا حسبِ ضرورت ایڈجسٹ کر لیا جائے،، فرانس والوں نے کلپ ٹائپ نیکٹائی ایجاد کی مگر مقصد عمرانی ضرورت تھی،مذھب کا اس کے ساتھ کوئی تعلق کسی ملک میں بھی نہیں رھا،، خالد ابن ولید رضی اللہ عنہ نے مصر کے دارالخلافے کا محاصرہ کیا ھوا تھا،، آپ کو مخبروں نے اطلاع دی کہ شہر کا شہر مسلمان ھونے کو بیتاب ھے مگر انہیں یہ فکر کھائے جا رھی ھے کہ ایک ترقی یافتہ قوم صحراء کے بدوؤں کا کلچر کیسے اختیار کرے گی،، یہ سن کر آپ نے شہر کے تمام رؤساء کی دعوت کا انتظام کیا،، خود بھی مصری لباس پہنا،، باورچیوں کو بھی مصری باورچیوں کا سا رسمی لباس پہنایا اور کھانے بھی خالص مصری انداز کے پکائے،دسترخوان تک کی ھیئت میں مصری انداز اختیار کیا ،، مصری رؤساء جب دعوت میں آئے تو ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں، انہیں لگا گویا وہ کسی مصری تقریب میں ھی شریک ھیں،، کھانا کھانے کے بعد خالد بن ولیدؓ نے چھوٹا سا خطاب فرمایا جس میں ارشاد فرمایا ” مصر والو، جب ھم تم میں آئیں گے تو تمہارا لباس اور کلچر اختیار کریں گے،مصر میں ھم یوں ھونگے جیسا کہ تم نے ھمیں دیکھا ھے، صحراء میں ھم یوں ھونگے جیسا کہ تم نے ھمارے بارے میں سنا ھے اور میدان جنگ میں ھم یوں ھونگے جیسا کہ تم نے ھمیں آزمایا ھے،، فیصلہ تمہارا اپنا ھے،، اگلے دن شہر نے خالد ابن ولیدؓ کے لئے دروازے کھول دیئے ! دنیا اب ایک گاؤں بن چکی ھے اور ملک محلوں میں تبدیل ھو چکے ھیں،تعلیمی اور مالی تعامل نے لوگوں اور کلچروں کو ایک دوسرے میں یوں مدغم کر دیا ھے کہ لوگ اسے عمرانی اور سماجی پسِ منظر میں دیکھتے ھیں،مذھبی پسِ منظر میں نہیں،، تشابہ کی تلوار کو میان میں ھی رکھا جائے تو بہتر ھے اور اس کا اطلاق کردار پر کیا جائے جیسا کہ حدیث کا منشا بھی تھا،، قوم لوط کے فعل کا مرتکب قوم لوط کے مشابہ ھے،، ، متکبر فرعون و نمرود کے ساتھ -زکوۃ کا منکر قارون کے ساتھ،، حق پہچان کر انکار کرنے والا ابوجہل کے ساتھ،، دین میں چھوٹی چھوٹی باتوں کی فکر اور بڑے بڑے گناھوں کا ارتکاب کرنے والا یہود کے مشابہ،، وغیرہ وغیرہ !

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *