Home / Humanity / Family / سماعی ماں

سماعی ماں

عربی میں مؤنث اور مذکر کا اپنا ھی اصول ھے ! اردو کے مذکر عربی میں منتقل ھوتے ھی مؤنث بن جاتے ھیں ، پٹھان علماء جو اپنی گفتگو میں مؤنث مذکر کی غلطی کرتے ھیں ، وہ اصلاً عربی کو اردو میں بول رھے ھوتے ھیں ،، اب اگر سورج آگ برساتی ھے اور بہت گرمی کرتی ھے تو یہ اس کا حق بنتا ھے کیونکہ وہ عربی میں مؤنث ھے ،، مؤنث کیوں ھے ؟ نہ تو کسی نے اس کے ھارمونز چیک کیئے ھیں اور نہ ھی اپنے اعضاء و جوارح سے وہ عورت لگتا ھے ،، اس کی دو وجوھات ھو سکتی ھیں ، ایک تو اس کو دیکھ کر نظر جھک جاتی ھے ، اس پہ نظر ٹھہرتی نہیں ،، دوسرا چونکہ ھمارے نظامِ شمسی کے سارے سیارے اس کی اولاد ھیں یعنی اسی کے جگر گوشے ھیں لہذا اسے ماں والا مقام مل گیا ھے ،، سورج مؤنث سماعی ھے ،، سنی سنائی بات ھے ،، کسی اصول کے تحت مؤنث نہیں ھے ،، نہ تائے مربوطہ اور نہ تائے تانیث ،، چاند مذکر سماعی ھے ،، باپ دادا سے اسے اسی طرح سنتے آئے ھیں ، غالباً یہ سورج کا بیٹا ھے اور زمین اس کی بیٹی ھے ،، مصیبت یہ ھے کہ پہاڑ اردو میں گرتا ھے اور عربی میں گرتی ھے ،،، پہاڑ بھی مؤنث سماعی ھے ،،
اسی طرح ماؤں کی بھی مختلف قسمیں ھیں ،، ایک ھے حقیقی ماں جس کے بطن سے آپ پیدا ھوئے ،، وھی حقیقی ماں ھے اور آپ کی جائداد کی وارث بھی ھے ، باقی کی تین جو اگر ابا جی کی لاٹری نکلے اور وہ کر لیں تو بھی ان سے آپ کا نکاح ماں کی طرح حرام ھو جاتا ھے ،، وہ محرم ھو جاتی ھیں مگر جائداد کی وارث نہیں ھوتیں یہ سوتیلی ماں کہلاتی ھے ،، اسی طرح رضائی ماں ھوتی ھے جو آپ کو دودھ پلاتی ھے ،، ان کی تعداد آپ کی امی کی سُستی پر منحصر ھے ، جتنی عورتوں کو پکڑاتی جائے گی کہ ” تُو اس کو دودھ پلا میں ذرا تندور پر روٹیاں لگا لوں ،، وہ آپ کی مائیں بنتی جائیں گی اور ان کے اولاد آپ کے بہن بھائی ،جن سے آپ کا رشتہ حرمت کا بن جائے گا اور نکاح حرام ھو جائے گا ،رضاعی ماں سے بھی اور اس کی اولاد سے بھی ،مگر نہ تو وہ رضاعی ماں آپ کی جائداد کی وارث ھو گی ،، نہ اس کی اولاد ،،، ماں کی چوتھی قسم سماعی ماں کہلاتی ھے ،، جس کا آپ کے ساتھ حرمت کا کوئی رشتہ قائم نہیں ھوتا ،، البتہ آگے چل کر اگر اس سے رشتہ ناتہ قائم ھو جائے تو وہ آپ کی جائداد میں وارث بن جاتی ھے ،، یہ سماعی ماں وہ ھوتی ھے جس کے بارے میں آپ امی کے منہ سے سنتے ھیں کہ ” اوئے تُوں ایس ویلے فون تے کہڑی ماں نال لگا ایں ؟

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *