Home / History / زکوۃ کے مسائل ،،،،،،،،،،،،،

زکوۃ کے مسائل ،،،،،،،،،،،،،

زکوۃ حکومت کا حق ھوتی تھی جو تلوار کے زور پر بھی اس کو وصول کر سکتی تھی ،، جیسا کہ خلیفہ اول نے کیا ،،، اب بیت المال حکومت کی وزارتِ خزانہ تھی ،، جس میں مالِ غنیمت میں سے بھی آتا تھا اور زکوۃ و خیرات و صدقات میں سے بھی آتا تھا اور حکومت اس کو بلا تفریق زندہ اور بے جان مدوں پر خرچ کرتی تھی ،، جہاں وہ غرباء مساکین اور بوڑھے معذور لوگوں کو الاؤنس دیتی تھی یہانتک کہ غیر مسلم بوڑھوں اور ناداروں کو ،، وھیں وہ سڑکیں چھاونیاں تالاب بنانے اور جہاد کے لئے گھوڑے اور اسلحہ خریدنے میں بھی اس کو استعمال کرتی تھی ،، اب یہ کہنا کہ زکوۃ میں تملیک ضروری ھے اور چونکہ تالاب کو مالک نہیں بنایا جا سکتا یا لوگوں کے لئے کہیں پانی کا نل لگا دینا جائز نہیں کیونکہ نل کے ھاتھ کوئی نہیں ھوتے کہ ان پر رکھ کر اسے مالک بنایا جا سکے بالکل غیرمتعلق بات ھے ،،،
اسی سے دوسرا مسئلہ بھی سمجھ لیجئے نبئ کریم ﷺ اسلامی ریاست کے پہلے سربراہ تھے ،، اللہ پاک نے سورہ الحشر میں خیبر کی زمینوں کو نبئ کریم ﷺ کی صوابدید میں دے دیا بطور امام یا حاکم ،، جب آنجناب ﷺ کی رحلت ھوئی تو یہ بطور امام یا حاکم جناب صدیقؓ کے تصرف میں آیا ،، جنہوں نے اس کو ان ھی مدوں میں صرف کیا جس میں رسول ﷺ کرتے تھے ،، جب بنو ھاشم کے تمام گھرانوں اور ازواجِ مطھرات کو اس جاگیر سے حصہ مل جاتا تھا جس سے ان کی گزر بسر ھو رھی تھی تو پھر زکوۃ کو ان سے روک لیا گیا کہ مبادا رائل فیملی کو ڈبل الاؤنس ملنا نہ شروع ھو جائے ،، اب وہ خیبر الاؤنس بھی سیدوں کو نہیں ملتا اور زکوۃ بھی ان پر حرام کر دی گئ ھے ،، تو پھر ان کے فقراء اب کیا کریں ،، کوئی حل ھے کسی کے پاس ؟ زکوۃ لوگوں کے مال کی گندگی ھے والی حدیث بھی محلِ نظر ھے ، زکوۃ غریبوں مسکینوں کا حق معلوم ھے ، قرآن نے اس کو حق کہا ھے گندگی نہیں کہا ، گندگی کہہ کر زکوۃ اور زکوۃ دینے اور لینے والے سب کی توھین کی گئ ھے ،، گویا ایک خاص جانور ھے جو لوگوں کے لئے تو حلال ھے مگر وہ جانور ھے نری گندگی جو نبی کے گھر والوں کو نہیں کھلائی جا سکتی ، اسی طرح جس طرح کوئی دیگ لئ نالے کے کنارے الٹ دی گئ ھے جس میں سے مساکین بچے پوٹلیاں بھر بھر کر لے جارھے ھیں مگر میاں نواز شریف کے بچے اس گندگی میں سے نہیں کھا سکتے ،، کیا اسلام ایسا ھی دوغلا مذھب ھے کہ دوسروں میں گندگی بانٹنے پر ثواب دیتا ھے مگر ایک نسل کو کہتا ھے چھی چھی یہ گندگی ھے لوگوں کو کھانے دو یہ گندے لوگ ھیں ، ھم صاف ستھرے لوگ اس کو نہیں کھاتے ؟ میری والدہ نے مجھے 10 درھم دیئے ھیں کہ باقی دو بھائیوں کو بھی دو دو درھم دے دو ،، میرے دو درھم پاک اور باقی بھائیوں کے دو درھم گندگی کیسے ھو گئے جبکہ وہ ان کا حق معلوم ھے ؟ والذین فی اموالھم حق معلوم ،، للسائلِ والمحروم ،، قرآن اس کو بار بار طیب کہہ رھا ھے ،، نبی ﷺ اس کو گندگی کیسے کہہ سکتے ھیں ؟

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *