Home / History / Biography / توضیحات

توضیحات


صبح بخیر !
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ !
نارمل حالات میں لوگوں کے لئے اسپتال بنائے جاتے ھیں جہاں میڈیکل کالجز سے نکل کر آنے والے ڈاکٹرز پہلے ھاؤس جاب کرتے ھیں ،جہاں وہ پہلے سے موجود تجربے کار ڈاکٹروں کے ساتھ رہ کر سیکھتے ھیں کہ مریض میں کونسی امراض کے Symptoms کس طرح چیک کرنے ھیں ،Symptoms & signs میں کیا فرق ھے ،، دوائیاں کس طور تجویز کرنی ھیں وغیرہ یوں کالج سے آئے ڈاکٹرز بھی اس دھارے میں شامل ھوتے چلے جاتے ھیں ،، مگر جب وبائیں پھوٹ پڑیں بوڑھے بچے اور جوان ،مرد اور عورتیں گھروں میں سسک سسک اور تڑپ تڑپ کر مرنا شروع کر دیں تو ڈاکٹرز اسپتالوں میں بیٹھ کر ان علاج نہیں کرتے ، انہیں اسپتال آنے کے لئے اسپتال کا ایڈریس دیواروں پہ نہیں لکھتے بلکہ دستیاب وسائل لے کر جگہ جگہ میڈیکل کیمپس لگاتے ھیں ،،
فوج میں بھرتی ھونے والوں کو چھاونیوں میں قائم تربیتی مراکز میں تربیت دی جاتی ھے ، احکامات ماننے کی عادت پختہ کی جاتی ھے ، دال روٹی کھلا کر ، صبح سویرے جلدی اٹھا کر ، سردی میں نہلا کر ، میدان میں بوری پھروائی جاتی ھے ،، الغرض کچھ لوگوں کی ساری زندگی تربیتی مراحل میں گزرتی ھے ، مختلف امتحانات پاس کرتے گزرتی ھے ،اور ان کی ریٹائرڈمنٹ تک جنگ کی نوبت ھی نہیں آتی ،مگر ایک وقت آتا ھے کہ دشمن ملک حملہ کر دیتا ھے ، اس وقت صرف بندوق چلانا سکھا کر میدانِ جنگ میں اتار دیا جاتا ھے ، اب جو بھی ھے جتنا بھی ھے ،جیسا بھی ھے میدان جنگ میں جا کر عمل سے ثابت کرو وھاں نہیں تو اھم تنصیبات کی نگرانی ھی کرو ،، شہر کا گشت ھی کرو ،،
الغرض نارمل حالات اور ھنگامی حالات کے تقاضے الگ الگ ھوتے ھیں،،
ایک وقت تھا جامعات اور مدارس میں مفتیانِ کرام کے پاس جاکر پوچھا جاتا تھا ،، پوچھنے کوئی نہ آئے تو فوکسی لینڈ اور بلو لینڈ کی مصنوعی جنگی مشقوں کی طرح آپس میں ھی فقہی مصنوعی جنگیں بپا کی جاتی تھیں مگر اب حالات ھنگامی صورت اختیار کر چکے ھیں ، فیس بک سمیت سوشل میڈیا ایک وبا کی صورت اختیار کر چکا ھے جہاں وہ فتنے بپا کر رھا ھے جو کسی کے وھم و گماں میں بھی نہیں تھے ، احادیث کو لے کر وہ سوالات کیئے جا رھے ھیں جن کا جواب عام آدمی کے پاس تو کیا ھو گا خود علماء ان کا سامنا کرنے کی بجائے کنی کترانا زیادہ مناسب سمجھتے ھیں ،،
اس قسم کی صورتحال میں جس اسٹریٹیجی کی ضرورت ھے وہ یہ نہیں ھے کہ فیس بک پہ علمی مناظرے کیئے جائیں ،مناظروں سے پہلے کتنے لوگوں کو مسلمان کیا جا چکا ھے ؟ الٹا وہ ھر فقہ اور فرقے سے بدظن ھو کر ملحد ھو رھے ھیں ، وھی زھر ان کو یہاں بھی نہیں پلایا جا سکتا ،، کپڑے کی دکان پہ جائیں تو وہ آپ کو ڈیڑھ درھم اور تین درھم گز کپڑے سے لے کر 100 درھم فی گز کپرا دکھا دیتا ھے ،،یعنی سستے سے سستا اور مہنگے سے مہنگا ،، اب آپ کی مالی استعداد پہ ھے کہ آپ کس کا انتخاب کرنا ھے ، علماء کی دکان پہ 100 درھم گز سے کم کپڑا ھی کوئی نہیں ،جبکہ نوجوان کی علمی و ایمانی استعداد اتنی نہیں کہ وہ عبداللہ بن عمر بن سکے ،، اس صورتحال میں اسے یہ بتانا کہ بھائی تم اتنا بوجھ بھی اٹھا لو تو مسلمان رہ سکتے ھو،، یہ ھم جیسے گنہگاروں کا کام ھے ،، علامہ بدر عالم میرٹھی کے حوالے دینے والوں نے ان کی ترجمان السنہ میں یہ نہیں پڑھا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فاسد شرط پر بھی قبول فرما لیا ھے ،، بندہ کہتا ھے کہ میں مسلمان تو ھو جاتا ھوں مگر اس شرط پہ کہ شراب نہیں چھوڑوں گا ، آپ نے اس کی بیعت قبول فرما لی اور ارشاد فرمایا کہ ایمان چکھ لے گا تو شراب چھوڑ دے گا یعنی ایمان شراب چھڑا لے گا پہلے مسلمان تو ھو جائے ،،یہاں تو مستحبات کے ترک پر بھی کفر کے فتوے ملتے ھیں ،،
میں پہلے دن سے ایک مشن لے کر بیٹھا تھا اور آج تک بھی یکسو ھوں کہ تمام فقہوں اور تمام فرقوں سے بالا تر ھو کر ڈوبتے نوجوانوں کو بچانا ھے ، اسے ڈسکاؤنٹ دینی ھے کہ یہ وہ آخری حد ھے جہاں تک تم مسلمان رہ سکتے ھو ،، مریض کا چند گھونٹ سوپ پی لینا بھی اس کی صحت کی علامت ھوتا ھے ،، ھم سوپ سے شروع کرتے ھیں !
جو لوگ مجھے شہرت کے طعنے دیتے ھیں کہ تم شہرت کے لئے اس قسم کے مسائل چھیڑتے ھو ، وہ مجھے جانتے نہیں مجھے شہرت کی کوئی ضرورت نہیں لوگ شہرت کے بھوکے ھوتے ھیں اور ھماری شہرت کی وجہ سے بھوک مر گئ ھوئی ھے ، پاکستان کے تقریباً ھر اخبار ،مختلف دینی رسالوں اور ٹی وی چینلز کی طرف سے میرے پاس پیش کش موجود ھے ،مجھے لکھنے کا ڈھنگ بھی آتا ھے اور بولنے کا فن بھی آتا ھے ،، مگر میں نے سب کو انکار کیا ھے ،،
کسی خاص مسلک کی خدمت اور پروموشن سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں ھے ، نہ میں نے اسے زندگی کا مشن بنایا ھے ،، جو دوست مجھے کسی خاص مسلک کا مجاھد سمجھ بیٹھے ھیں اور دوسرے مسلک کے خلاف استعمال کرنا چاھتے ھیں وہ مجھے بے شک ان فرینڈ کر دیں ،میں ان کے بالکل کسی کام کا نہیں ھوں ،، نہ میں مناظرانہ بحثوں میں اس وال کو استعمال کرتا ھوں ، یہ بحثیں عوام کے سر پر سے گزر جاتی ھیں ، اور علماء کا ان سے بگڑتا کچھ نہیں ،، میں کسی عالم یا مفتی کی بجائے کسی کلین شیو پینٹ شرٹ ( یہودی ) والے کی ریکویسٹ ترجیحی بنیادوں پہ قبول کرتا ھوں کیونکہ میں ان کے لئے ھی دن میں پانچ سات گھنٹے دیتا ھوں ، ان موضوعات کو چھیڑتا ھوں جن کی میرے ان باکس میں بھرمار ھوتی ھے ،،
میں نے کئ بار اس فیس بک کو چھوڑنا چاھا ھے مگر صرف ان یہودی لباس والوں کی درخواستوں پہ دوبارہ آ بیٹھا ھوں یہ سمجھ کر کہ اللہ کو کیا منہ دکھاؤں گا حشر کے دن اگر ان میں سے کوئی اس وجہ سے بھٹک گیا کہ وقت پہ راھنمائی نہیں ملی ،،میری راتوں کی نیند حرام ھے اور کچھ دوستوں کو شہرت کی فکر لگی ھوئی ھے ، سچ کہتے ھیں کہ مومن ،مومن کا آئینہ ھوتا ھے وہ اس میں اپنا چہرہ دیکھتا ھے ،، شہرت کے بھوکوں کو وہ بھوک ادھر مجھ میں نظر آتی ھے !
Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *