Home / Hadith / Mozoat / بات سوال اور جواب کی نہیں

بات سوال اور جواب کی نہیں

کرنے والے سوال کرتے ھیں اور کرنے چاھئیں ،، مگر یاد رکھئے یہی سوال آپ کو ایکسپوز کر دیتے ھیں کہ آپ مائنڈ سیٹ کیا ھے اور اپروچ کیا ھے ،، جب تک گاھک بولتا نہیں دکان پہ کھڑا رہ سکتا ھے مگر جب اس کے سوال کے جواب میں اسے بتا دیا جاتا ھے کہ جس چیز کی اسے تلاش ھے وہ اس دکان پہ نہیں ھے تو پھر اسے اگلی دکان کی طرف روانہ ھو جانا چاھئے ،اب اس دکان پہ کھڑا رھنا وقت ضائع کرنا ھے !
اس کے بعد معلوم ھو جاتا ھے کہ آپ کا مدعا یہ وال پورا نہیں کر سکتی ،، یہاں مناظرانہ موشگافیاں بالکل نہیں ھوتیں،، ایک دو کمنٹس میں آپ کا نقطہ نظر بھی سامنے آ جاتا ھے اور میرا بھی ،، اس کے بعد آپ اپنے موقف پہ ڈٹے رھئے ،،مگر تھریڈ کو گزوں کے حساب سے لمبا نہیں کرنے دیا جائے گا،، اسی کا نتیجہ ھے کہ بعض اچھے دوست بھی بلاک کرنے پڑے ھیں ،، مجھے کوئی بتا دے کہ میں نے کسی کی کسی پوسٹ پر ایک آدھ سے زیادہ کمنٹ کیا ھو ؟ اس لئے کہ میں اس مناظرانہ دور سے نکل چکا ھوں ، میں اپنی سوچی سمجھی رائے پیش کرتا ھوں اور پیش کرنے کا حق رکھتا ھوں ، آپ اس کو قبول کرنے یا رد کرنے کا حق رکھتے ھیں ،، مگر پانی میں مدھانی مارنے کا میں قائل نہیں !
دوسری بات یہ کہ میں عموماً جو مواد پیش کرتا ھوں اپنے دوستوں کے لئے پیش کرتا ھوں جن کی ذھنی تربیت ھو چکی ھے اور ھم ایک دوسرے کے مزاج آشنا ھو چکے ھیں ،، یہ جو دوستوں کے دوست ایک آدھ بار مہمان آ جاتے ھیں اور شور مچانا اور فتوے لگانا شروع کر دیتے ھیں ،ان کو بلاک کرنا ضروری ھو جاتا ھے ،، ان کا حال دھوتی کرتا پہننے والے اس جٹ جیسا ھوتا ھے ،جو ایک دن پینٹ شرٹ پہن کر شہر جانے کے لئے بس میں بیٹھ گیا ،، مگر تھوڑی تھوڑی دیر بعد زور زور سے کہتا ، ” اوئے مینوں چھڈو اوئے ” آخر اسے ساتھ والوں نے بتایا کہ چوھدری صاحب آپ کو آپ کی پینٹ نے پکڑا ھوا ھے ،،ھم نے نہیں ،،
تھوڑے لکھے کو زیادہ سمجھیں اور اسے خط نہ سمجھیں تار سمجھیں

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *