Home / Humanity / انسان کی فطری کمزوری

انسان کی فطری کمزوری

ھر انسان کی ایک کمزوری ھوتی ھے اور وہ ھی اس اصل امتحان ھوتا ھے،، لوگ تیاری انگلش کی کرتے رھتے ھیں اور فیل فزکس میں ھو جاتے ھیں،، اللہ کا خاص الخاص فضل ھے اس شخص پر جسے کسی کی محبت اندھا نہ کر سکے اور وہ اپنے ھر محب کو محبت کی عینک اتار کر فیس ویلیو پر چیک کرنے کی صلاحیت رکھتا ھو ! یہ نعمتِ کبری ھے ھر ایک کے پاس یہ جوھر نہیں ھوتا،، ایک انسان اچھا ایماندار تاجر ھو سکتا ھے،،نمازی پرھیز گار ھو سکتا ھے،، خداخوف اور متقی ھو سکتا ھے،، ھر وقت ذکر مین ڈوبا ھو سکتا ھے،،مگر جس جگہ امتحان ھے وھیں فیل بھی ھو سکتا ھے،، آپ کے distribution panel میں ڈھیر سارے بریکر لگے ھوتے ھیں،، ان میں سے ایک شارٹ کا شکار ھوتا ھے،، آپ سارے آف کر کے دوبارہ آن کرنا شروع کرتے ھو تا کہ شارٹ والے کو علیحدہ کیا جائے،،آپ آن کرتے جاتے ھو بجلی چلتی رھتی ھے اچانک شارٹ بریکر کو آن کرتے ھی آٹو سرکٹ بریکر ٹرپ کر جاتا ھے،، اب آپ نے پن پؤائنٹ کر لیا کہ شارٹ اس میں ھے ،،اسے آف کر کے باقی بجلی آپ چلا لیتے ھو،، اب اگر تو وہ بریکر کسی اھم پؤائنٹ کو جاتا ھے،یعنی فوری ضرورت کی چیز ھے،فریج ،پانی کی موٹر وغیرہ تو آپ فوراً ایلکٹریشن کو بلا کر درست کراتے ھو،، بس ایویں قسم کا ھو تو اسے آف رھنے دیتے ھو اور سالوں گزارہ کر لیتے ھو،،بس انسانی زندگی کا یہی المیہ ھے کہ ھم بہت سارے بریکر آف کر کے زندگی گزار جاتے ھیں،، حالانکہ وہ بہت ھی اھم شعبہ جات کے بریکر تھے!
براھیــمی نظـــــــــــر پیــدا بڑی مشکل سے ھوتی ھے!
ھوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ھے تصویریں !

ھمیں زندہ بتوں کی پوجا نے مار ڈالا ھے، ورنہ مردہ بتوں کی مذمت میں ھم سب سے بڑے موحـــد شمار ھوتے ھیں،، ھر بندے کا اپنا زندہ بت ھے،کوئی فلاں شیخ الاسلام صاحب کی نظر کا اسیر ھے تو کوئی فلاں قطبِ دوراں کا ،، کوئی کسی شیخ العجم کا تو کوئی فلاں فخرِ اولیاء کا،، سارے بریکر چلتے ھیں شیخ والے پر ھاتھ ڈالو تو بلیک آؤٹ ھو جاتا ھے ،، خدا پرستی کے مقابلے میں یہی ھے بت پرستی،شخصیت پرستی اکابر پرستی،، جو اصل میں ایک لفظ ھے،انا پرستی ،،میرا شیخ میں زور “میرا ” پر ھے،

بتوں کو توڑ تخیل کے ھوں یا پتھر کے !
ذرا بھـــی دیـر نـہ کر لا الہ الا اللہ

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *