Home / Humanity / الرجال قوامون علی النساء ( القرآن )

الرجال قوامون علی النساء ( القرآن )

اللہ پاک نے مرد کو قوام بنایا ھے ،،،،،،،،،،،،،،،،،
یہ قوام کیا ھے ؟ اس مادہ وھی قام یقوم قائم ھے ،،،،،،،،،،،،،
اللہ قیوم ھے ،، کائنات اس کے سہارے قائم ھے ،کھڑی ھوئی ھے ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
عورت ذات ذھین فطین ھونے کے باوجود اپنی فطرت میں ایک ایسی بیل سے مشابہ ھے جس کا اپنا کوئی تنا نہیں ھوتا ، لہذا وہ بیل اپنے قائم ھونے، کھڑے ھونے کے لئے جس سہارے کو استعمال کرتی ھے وہ اس بیل کا قوام کہلاتا ھے ،، آپ پودوں کی نرسری میں چلے جایئے وھاں آپ کو گملوں میں کمزور پودوں اور بیلوں کے ساتھ ایک ڈنڈی سی ٹھکی ھوئی ملے گی ، وہ اس پودے کی قوام ھے ، اسے قائم رکھے ھوئے ھے ،، حالات کی آندھی اور طوفانوں میں وہ ڈنڈی اس پودے یا بیل کو ادھر ادھر سر پٹخنے اور بکھر جانے سے بچاتی ھے ،،
قوام کا پورٹ فولیو مرد کو دے کر اللہ پاک نے مرد پر بہت اھم مادی ، اخلاقی اور ذمہ داریاں ڈال دی ھیں ،، اور سارے گھر کا بوجھ اس کے کندھوں پر جا لادا ھے ،عورت کو کے لئے جس لطافت کی ضرورت تھی اس کا عظیم ذخیرہ عورت کی فطرت میں رکھنے کے بعد اس کا متبادل اسے شوھر کی قوامیت کی صورت میں عطا فرمایا تا کہ وہ معاشرتی دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائے ،،،،،،،،،،،،،،،،،،
مگر آج کل یار لوگ سمجھتے ھیں کہ مرد کو قوام اس لئے بنایا گیا ھے کہ ” اس کا مُکا پسلیاں توڑ دیتا ھے ”

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *