یادوں کی بارات

October 6, 2013 at 9:03am

اپنے یہاں رواج تھا کہ دولہے کو صحن میں چوکی پر بٹھاتے ھیں اور سلامی شروع ھوتی ھے،، تیل شیل ملا جاتا ھے،،وٹنا ملا جاتا ھے،اس زمانے میں شیمپو جیسی نحوست ابھی ایجاد نہیں ھوئی تھی،، اس کے بعد ماشکی چھت کے اوپر سے پانی دولہا پر گراتا ھے اور دولہا جو کپڑے پہن کر بھی ننگا ھوتا ھے، آخر میں پانی ھتھیلیوں میں بھر کر اپنے چاروں طرف کھڑے لوگوں پر پھینکتا ھے تا کہ اللہ پاک انہیں بھی اس پانی کی برکت سے جلد دلہن نصیب کرے – اپنے اندر تجسس چونکہ بچپن سے وافر مقدار میں موجود تھا ،لہذا اپنی کوشش ھوتی تھی کہ دولہا کے قریب کھڑا ھوا جائے نتیجتاً پانی میں بھیگ بھیگ جاتے،، اور جزاء یوں ملی کہ ساڑھے سترہ سال کی عمر میں ھم بھی مشک کے نیچے بیٹھے ھوئے تھے،، گویا محمد بن قاسم کی عمر میں ھمیں بھی جرنیل بنا دیا گیا،، پانی ھم نے بھی پھینکا ،مگر زیادہ تر شادی شدہ لوگوں پر پڑا اور وہ دوسری شادی کو چل دیئے،، اب عورتیں ھم کو گھور گھور کر دیکھا کرتیں اور ھم احساسِ ندامت سے اکبر الہ آبادی کی طرح زمین میں گڑ جاتے – اس کے بعد ھم مولوی ھو گئے اور الحمد للہ کسی اور کو چوکی نہیں چڑھنے دیا،،بلکہ سیدھا پکڑ کے حمام پر لے جاتے اور دولہا بنا کے لے آتے،، جس شادی میں گانا بجانا ھوتا ھم وھاں اسی طرح فساد مچا دیتے جیسے جنازے کے بعد دعا پر مولانا حضرات مناظرہ شروع کر دیتے ھیں اور اس طرح میت کے لواحقین کی پریشانی میں اضافے کا سبب بنتے ھیں،، آئستہ آئستہ رشتہ داروں نے ھمیں شادی پر بلانے سے ھی توبہ کر لی،،انہیں سب سے بڑا اور ٹھوس اعتراض یہ تھا کہ اپنی شادی پہ سب کچھ کر کے،، جب ھمارے بچوں کی شادیاں شروع ھوئی ھیں تو تم کو اسلام چڑھ گیا ھے ؟ ھمیں ایک نئی نسل کی گھوڑی پر بٹھایا گیا جو تھی تو گھوڑی مگر گدھی سے بھی چھوٹے سائز کی تھی،ایسی گھوڑی ھم نے پرایم منسٹر ھاؤس میں بعد میں دیکھی تھی،، ھمیں پیسوں کے ھار بھی پہنائے گئے،، بلکہ سہرے اور ھاروں کے پیچھے ھمارا چہرہ دیکھنے کے لئے پیسے دینے پرتے تھے،جس کو سلامی کہتے ھیں،، برات پورے گاؤں میں پھری اور گاؤں کے بچے میری گھوڑی کے دونوں جانب سے میرے گھٹنوں پر ھاتھ رکھے میرے ساتھ ساتھ رھے،، میں حیران تھا کہ میرے دبئ جانے کے بعد اس گاؤں کے بچے کتنے مؤدب اور مودت و محبت سے مزیں ھو گئے ھیں،، بچے بھی اتنے تھے کہ وہ بچوں کی بارات لگتی تھی، سوچا تھا دادا جی کے گھر بارات اترے گی تو ان سے بچوں کے اس سلوک کی وجہ پوچھوں گا،، مگر جب بارات اتری اور ھم گھوڑی سے اترے تو وجہ خود ھی پتہ چل گئی،، ھاروں کے ساتھ صرف اتنی جگہ روپے باقی رہ گئے تھے جو ھمارے گریبان کے پاس تھے،، باقی نیچے سے سارے نوٹ بچے اتار کر لے گئے تھے !!

میرے والد مرحوم اللہ پاک انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور ان کی خطاؤں سے در گزر فرمائے بہت ھی درویش منش انسان تھے، وہ والد کم اور دوست زیادہ تھے، میں نے اس قسم کے والد نہ تو کتابوں میں پڑھے ھیں نہ عملی زندگی میں دیکھے ھیں،،ھر لحاظ سے پرفیکٹ،،ان کی شادی میری شادی کے بعد یعنی میرے ولیمے پر ھوئی تھی، اور وہ الاقربُ فالاقرب کے اصول کے تحت چوکی کے پانی کا پہلا شکار بنے ، وہ ویسے بھی کفایت شعار تھے بچوں کے عقیقے پر بھانجیوں اور بھتیجیوں کی بارات بھگتا دیتے تھے،،سو میرے ولیمے پر اپنی بارات بھگتا لی،، پوری زندگی میں انہوں نے ایک دفعہ ھی میری پٹائی کی ھے،جبکہ والدہ صاحبہ کبھی ناغہ نہیں کرتی تھیں،،ھمیں اللہ پاک نے نہ صرف دائیں ھاتھ کی جگہ بائیاں نصیب فرمایا ھے بلکہ ابا کی جگہ امی پکڑا دی ھے ،، والد صاحب کی مار کا سبب بھی ھم خود بنے انہوں نے تو صرف کان پکڑائے تھے،، پھر تایا کو اشارہ کیا کہ تم چھڑوا دو،،تایا کان چھڑواتے اور ھم ٹھیک اسی جگہ جا کر پھر پکڑ لیتے ،والد صاحب کو بہت غصہ آیا کہ اس کی انا میری انا کی بھی ماں بن گئی ھے،، بھر انہوں نے شاھد حیات والا اپریشن شروع کیا ، اب ھم آگے آگے تھے اور والد صاحب پیچھے پیچھے ! اس ایکشن کی وجہ یہ ھوئی کہ ھم مٹی بہت رغبت سے کھایا کرتے تھے جبکہ ھمیں اس نشے پر لگانے والی وہ خواتین تھیں جو ھمیں مٹی خریدنے اپنے شوھروں سے چوری بھیجا کرتی تھیں، ھماری معصوم شکل و صورت کو کہاں کہاں ایکسپلائٹ نہیں کیا گیا،، اللہ معاف کرے خواتین کو شاہ کمال کے مزار پر بچے لینے ھم ھی ساتھ لے کر جایا کرتے،اور دعا قبول ھونے کے بعد بچہ بنانے کے لئے مٹی بھی ھم کو ھی خرید کر لانی پڑتی قرآن میں جو لکھا ھے کہ ھم نے انسان کو کھنھکناتی مٹی سے بنایا ھے تو وہ ھمارے گاؤں میں اسی طرح مٹی سے بچے بنایا کرتی تھیں،، پھر کہیں سے سنا کہ مٹی کھانے سے پیٹ بڑا ھوتا ھے تو ایک خالہ کو ھم نے ٹوک بھی دیا کہ ماسی خدا کا خوف کرو پہلے ھی پیٹ پھٹنے والا ھوا ھے اوپر سے روز کی آدھ کلو مٹی کھا جاتی ھو،، خالہ نے ھمیں گھور کر دیکھا اور خواتین سے مشورے کے بعد ھمیں ھماری خدمات سے اسی طرح ڈی نوٹیفائی کر دیا جس طرح میاں صاحب نے ابا جی سے مشورے کے بعدسجاد علی شاہ کو ڈی نوٹیفائی کیا تھا، حالانکہ اللہ جانتا ھے ھمیں نازک صورتحال کا بالکل علم نہیں تھا،،خیر ڈیوٹی تو ختم ھوئی مگر اس کے نتیجے میں ھمیں بھی مٹی کھانے کی لت لگ چکی تھی،، خواتین کی مٹی سے اتنی رغبت پر تجسس کے مارے ھم بھی ایک دن چکھ بیٹھے،، بس پھر تو ھر کنسائنمنٹ میں سے اپنی چونگی وصول کر لیتے اور سکول تفریح کے ٹائم بچے کھانا کھاتے اور ھم مٹی تناول فرماتے ! مٹی چھڑوانے کے لئے یہ طے کیا گیا کہ ھمیں بھنگالی شریف لے جایا جائے،،،بھنگالی والے پیر عبداللہ شاہ ماشاء اللہ بہت نورانی چہرے والے باوقار بزرگ تھے، ان کے یہاں پرنٹیڈ تعویزوں کا ٹوکرا پڑا ھوتا تھا،جس میں سے وہ اس بھینس کے لئے بھی مٹھی بھر نکال کر دے دیتے جو دودھ سکھا گئی تھی،،اس ساس کو بھی دیتے جس کا بیٹا چھٹی نہیں آتا تھا اور بہو سوکھ کے کانٹا ھو گئی تھی،اسی ٹوکرے میں سے مٹھی بھر کے انہوں نے ھمیں بھی تعویز عنایت فرما دیئے،، ھم نے کچھ اس شان سے وہ تعویز کھائے کہ تعویز تو ھفتے بھر میں ختم ھوگئے مگر ھمیں کاغذ کھانے کی لت پڑ گئی،، اور اس کا پہلا شکار ھمارے والد صاحب کا دبئی سے لایا ھوا انتہائی خوبصورت قرآن بنا، جس کی ایک لائن سفید ایک گرین جبکہ پیپر کا بیک گراؤنڈ ھلکا گرین تھا،، ھم جتنا سبق روز ختم کرتے اتنا گرم گرم کھا لیتے، سال بعد والد صاحب تشریف لائے اور پڑھنے کے لیئے قرآن مانگا تو ھم نے بغدادی قاعدے کے حجم جتنا قرآن لا کے ان کے سامنے رکھ دیا، امریکہ والوں سے بہت پہلے ھم نے بستہ چھوٹا رکھنے کا اصول دریافت کیا تھا،ھم جتنا سبق پڑھتے اس پیج کو اگلی صبح نصیب نہیں ھوتی تھی،، روز کا روز کھا لیتے،ایک صفحہ معاشرتی علوم کا،ایک انگلش کا ،ایک سائنس کا ،ایک اسلامیات کا اور ایک میتھ کا،ھمارا ٹھیک ٹھاک لنچ ھو جاتا،،بچے تفریح کے وقت چنے کھاتے اور ھم آرام سے جیب سے صفحہ صفحہ نکال کر تناول فرماتے- اس میں بھی اگرچہ ھم نے فلم انصاف کا ترازو نہیں دیکھی تھی مگر انصاف کو ملحوظ خاطر رکھتے ھوئے پیریڈ کی ترتیب سے کھاتے ،یہ جو آج کل آپ منبر سے سنتے ھیں یہ پڑھے ھوئے سے زیادہ کھائے ھوئے کا کمال ھے ! مذھبی رجحان کی وجہ سے عموماً چوری وغیرہ کا پتہ چلانے کے لئے معمول بچے کے طور پر ھمارا ھی انتخاب ھوتا،، اس بہانے ھمیں شہر شہر جانا پڑتا،، ساتھ لے جانے والے بھی سارا رستہ کھلاتے پلاتے لے جاتے،،جہاں بس رکتی مونگ پھلی،گنڈیریاں پیش کی جاتیں تا کہ بچہ بھوکا نہ رھے،بھوک کا پہلا اثر نظر پر پڑتا ھے ،اور وھاں سارا کمال ھی نظر کا ھوتا ھے، انگوٹھے کے ناخن کی اسکرین میں چوری کا پورا کلپ دیکھنا اور بندہ پہچاننا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں ھوتا،،پیٹ میں کچھ ھو تو نظر کام کرتی ھے،، ساتھ ساتھ وہ یہ خوراک بھی دیتی جاتیں کہ ھمیں تو فلاں پر شک ھے تا کہ بچہ ان کے دشمنوں کا نام لے،مگر بچے کو اپنے بزنس کی زیادہ فکر تھی ،، صورتحال زیادہ گھمیبر اس دن ھوتی جس دن ساتھ جانے والی کسی خاتون کے بھائی یا بہن کا نام نکل آتا،،پھر عموماً واپسی پر بھوکا رھنا پڑتا مگر رزقِ حلال میں یہ دن تو دیکھنے ھی پڑتے ھیں ! جب تیاری شروع ھوتی تو خواتین آتیں اور کوئی روپیہ کوئی آٹھ آنے اور تو اور اگر کوئی غریب ھوتی تو ھمیں گلے سے لگا ایک دو بوسے دیتی،سر پر ھاتھ پھیرتی اور دعاؤں کے ساتھ رخصت کرتی،، مقصد سب کا ایک ھی ھوتا کہ ناہنجار کہیں ھمارا نام ھی نہ لے دے، ھم بھی دیانتداری کے ساتھ سب کو ذھن مین رکھتے اور آخر نام اسی کا لیتے جس نے کچھ نہیں دیا تھا تا کہ آئندہ اسے احساس ھو جائے کہ یہ غلطی جان لیوا بھی ثابت ھو سکتی ھے،، وہ بےچاری لاکھ انکار کرتی مگر وہ تو سی سی ٹی وی فوٹیج میں پکڑی گئی تھی،آج بھی یہ واردات کل کی طرح جاری وساری ھے انکار کرنے والے قرآن بھی اٹھا لیں مگر انگوٹھے والے کی بات کو رد نہیں کیا جا سکتا،،

حضرت علی بن ابی العاص رضی اللہ عنہ،نبیﷺ کے پہلے شہید نواسے !

حضرت علی بن ابی العاص رضی اللہ عنہ،نبیﷺ کے پہلے شہید نواسے !

November 22, 2013 at 8:01pm

نبی کریمﷺ نے رمضان 8 ھجری میں مکہ فتح کیا اور سب سے پہلے حرم میں تشریف لائے،، آنے حرم کے صحن اور مطاف میں موجود سارے بت اپنی چھڑی کے ساتھ گرائے،، گویا انہیں ھاتھ لگانا بھی گوارا نہ فرمایا ! اس کے بعد بیت اللہ میں داخل ھوئے اور عمر الفاروقؓ کو ارشاد فرمایا کہ بت اٹھا کر باھر پھینک دو،، عمر الفاروقؓ انہیں توڑتے جاتے اور اٹھا کر بیت اللہ سے باھر پھینکتے جاتے،، اللہ کا رسولﷺ اور نبی کی مراد الفاروق دونوں ” جاء الحق و زھق الباطل، ان الباطلَ کان زھوقاً تلاوت فرماتے جاتے اور بتوں کو توڑتے جاتے ! اس کے بعد آپﷺ بیت اللہ کی چھت کی طرف متوجہ ھوئے اور حضرت علی بن ابی العاصؓ سے فرمایا کہ مجھے اٹھا کر بلند کرو،، یہ علیؓ ابن ابی العاص حضور ﷺ کی سب سے بڑی بیٹی زینب بنت محمد ﷺکے بیٹے تھے،، مکہ میں داخلے کے وقت نبی پاک ﷺ ان کو ھی اپنے ساتھ اونٹ پر پیچھے بٹھائے ھوئے تھے،، علی ابن ابی العاصؓ نے آپ کو اٹھایا مگر اٹھا کر سیدھے بھی نہ ھونے پائے تھے کہ ٹانگیں کانپ گئیں ، آپ ﷺ نے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ،اور ان پر سے اتر گئے، آپ ﷺ نے فرمایا،، وہ بارِ نبوت اٹھانے والا کوئی اور ھی تھا ! یہ اشارہ ھے ابوبکر صدیقؓ کی طرف جنہوں نے ھجرت کے وقت کھوجی کو دھوکا دینے کے لئے کافی فاصلہ نبی کریمﷺ کو کندھوں پر اٹھا کر طے کیا تھا،، اس کے بعد آپﷺ نے علی ابن ابی العاص سے فرمایا کہ تم میرے کندھوں پر بیٹھو اور پھر آپ نے انہیں بلند کیا،جس کے بعد بقول علی بن زینبؓ ، اللہ کی قسم میں نے اپنے آپ کو اتنا بلند پایا گویا میں چاھوں تو آسمان کو چھو لوں ،، یہ حضرت علی بن زینب بنت رسول اللہ گو سترہ سال کے تھے مگر لمبے دھڑنگے تھے اور بت توڑنے کے لئے چھوٹی عمر اور لمبے قد والا بندہ چاھئے تھا،، !! اس واقعے کو ھر ذاکر ھر مجلس میں علیؓ بن ابو طالب کی طرف منسوب کر کے خوب حاشیئے چڑھاتے ھیں،،جیسے عامر لیاقت کہہ رھا تھا،، ادرکنی یا علی، یا علی میری مدد کر،،وغیرہ ! حضرت علیؓ اور عبداللہ ابن مسعودؓ صحابہ میں سب سے چھوٹے قد کے مالک تھے ! حوالہ جات کے لئے ملاحظہ فرمایئے (سنن ابو داؤد،فحمل علی ابن ابی العاص علی عاتقہ ) یہ نبی کریمﷺ کے سب سے بڑے نواسے تھے، ان کے والد ابی العاص بنو امیہ کے ایک مالدار اور سخی شخص تھے،، انتہائی شجاع جنگجو تھے،، حضرت علیؓ نے عرب کے رواج کے مطابق دو سال رضاعت کا وقت صحراء کے بدوؤں کے یہاں گزارا اور پھر چار سال کی عمر سے نبی کریمﷺکی گود میں ھی پرورش پائی ،آپﷺ کو ان سے بہت محبت تھی اور یہ ھر اھم موقعے پر نبی کریمﷺ کے ساتھ ھوتے،، غزوہ حنین میں بھی یہ آخر وقت تک نبی کریمﷺ کے خچر کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں رھے تا کہ تیروں سے نبیﷺ کی حفاظت کریں فتح مکہ پر بھی یہی نبیﷺ کے ردیف تھے اور نبیﷺ کے حکم کے مطابق آپﷺ کے کندھوں پر چڑھ کر بیت اللہ کی چھت کو بتوں کی الائش سے پاک کیا( الاصابہ فی تمییز الصحابہ ج 2 صفحات، 503 رحمۃ للعالمین ص 98 ج 2) الصداقۃ العظمی ص 32 اس وقت حضرت علیؓ کی عمر 15 سال تھی ( الاصابہ) یہ علی الزینبی رضی اللہ عنہ،، رومی کافروں کے خلاف دادِ شجاعت دیتے ھوئے عمر فاروقؓ کے دور میں 15 ھجری میں جنگِ یرموک میں 22 سال کی عمر میں شہید ھوئے،،یوں نبی پاکﷺ کے نواسوں میں کافروں کے خلاف لڑ کر تاجِ شہادت اپنے سر پر رکھنے والے یہ پہلے اور سب سے بڑے نواسے تھے ! مگر ستم ظریفی یہ ھے کہ ھمارے واعظ حضرات ھی نبیﷺ کے کسی تیسرے نواسے اور اس کی شہادت سے واقف نہیں،، یہ ھے میڈیا کا کمال

آج ھوں میں جو کچھ بھی،یہ آپ کی عنایت ھے ! اپنے محبوب ابا جی کے نام !

آج ھوں میں جو کچھ بھی،یہ آپ کی عنایت ھے ! اپنے محبوب ابا جی کے نام !

November 6, 2013 at 9:03pm

اولاد کو برباد کرنا!

انہیں پل پل زخم دینا!

ان کی شخصیت کو کچل کچل کر مسخ کرنا !

کھلا پلا کر اپنا دشمن بنانا کوئی والدین سے سیکھے

 

ان میں کبھی بھی اعتماد کو پنپنے نہ دینا،بلکہ دوسرے اگر اعتماد کا اظہار کریں تو تعجب کا اظہار کرنا اور اپنی اولاد کے

لطیفے بنا بنا کر انہیں سنانا، ان کی ھر قسم کی صلاحیتوں پر شک کا اظہار کرنا، اگر وہ اچھے نمبر لے آئیں تو حلف لے

 

کر اس بات کا یقین کرنا کہ انہوں نے نقل نہیں کی،، غلطی کسی کی بھی ھو مار اور گالیاں اپنی اولاد کو دینا،، سودا

سلف لائیں تو بار بار شک کا اظہار کرنا کہ پیسے مار تو نہیں لیئے ؟ اور دکاندار سے فون کر کے ایک ایک چیز کا ریٹ

پوچھنا،، دکان پر بھیجنا تو پیسے پورے گن کر دینا،چار آنے زیادہ نہ چلے جائیں،، سکول جائے تو بس کے کرائے کے

پورے پیسے دینا،، یہ گنجائش نہ رکھنا کہ شاید ٹیکسی پہ آنا پڑ جائے،، جو بھی کاپی یا کتاب لینا ،،بچے کی خوب

کلاس لے کر اور اگلا ھفتہ اسی ورد میں گزارنا کہ ھم تیرے اوپر کتنا خرچ کر رھے ھیں، ھمارے والدین یہ کچھ ھم کو

نہیں لے کر دیتے تھے،،بچہ کچھ کھانے کو مانگے تو اسے یاد کرانا کہ اسلامک اسٹڈی کی بک 90 درھم کی لائے

ھیں،،وہ کوئی اچھی ڈش پکانے کا بولے تو پورے سال کی فیس کا بل اس کے آگے رکھ دینا،، وہ کہیں آؤٹنگ میں جانے

کی فرمائش کرے تو اس کی مارکس شیٹ اس کے سامنے رکھ کر اسے پڑھائی پر لیکچر دینا تا کہ آئندہ وہ اس قسم کے

شوق سے توبہ کر لے،عین جس وقت وہ کارٹون دیکھنے کو ریموٹ پکڑے یا کھیل کے لئے بیٹ اٹھائے تو اس سے سوال

کرنا کہ کیا قرآن پڑھا تھا؟ وہ وضو کرے تو اس کے ھاتھ پاؤں کو بار بار ھاتھ لگا کر چیک کرنا،، گیلے ثابت ھو جائیں تو پھر

بھی کہنا کہ کمال ھے ابھی ابھی تو تم غسل خانے میں گئے تھے،ھمارے زمانے مین اتنا جلدی وضو تو نہیں ھوتا

تھا،،اس کے برعکس جب غسل کے لئے جائے تو تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد دروازہ بجا کر پوچھتے رھنا کہ کیا کر رھے ھو؟

نہانے میں اتنی دیر تو نہیں لگتی؟ اور جب نماز پڑھ کے آئے تو یقین نہ کرنا اور اس سے پوچھنا مولوی صاحب نے

کونسی سورت پہلی رکعت میں پڑھی تھی،،پھر اس کے دوست کو فون کر کے تصدیق کرنا یا پوچھنا کہ تیرے دائیں طرف

کون تھا اور بائین طرف کون تھا،،پھر اس کے باپ سے تصدیق کرنا،، پیرینٹس ٹیچرز میٹنگ پہ جانا ھی اس نیت سے کہ

بچے کی برائیاں کر کے اسے ٹیچر کی نگاھوں سے بھی گرانا ھے ، مولوی صاحب کو ختم شریف پہ بلانا تو سارا وقت

اولاد کی برائیاں بیان کرتے رھنا اور کہنا کہ یہ نماز پڑھنے جائے تو اس پر خصوصی نظر رکھا کریں یا کوئی تعویز دیں جو

اس کو انسان کا بچہ بنا دے یوں بچے کو امام مسجد کی نظروں سے بھی گرا دینا،،اس کے سامنے دوسروں کے بچوں

کی ھر وقت تعریف کرنا اور ان کی ماؤں کی بیان کردہ خوبیاں اپنے بچوں کے سامنے بیان کر کے انہیں لعن طعن کرنا

حالانکہ وہ بچے اچھی طرح جانتے ھیں کہ ممدوح بچے کیا گُل کھلاتے پھرتے ھیں،، شوھر کو ھر وقت ٹوکتے رھنا کہ تم

بچے پر سختی نہیں کرتے ھو، اسے تھپکی دے کر اولاد پر پھینکنا کہ مرد بنو مرد،، باپ بن کے دکھاؤ،،بچہ فیس بک پر

بیٹھے تو تھوڑی تھوڑی دیر بعد سلام پھیرنے کے انداز مین نظر ڈال لینا، کہیں شادی کا کہہ دے تو تمسخر اڑانا اور دنبی

 

میں دانا پڑنے کی بشارت سنانا ،، سہیلیوں کو فون کر کے بتانا کہ اس کا بیٹا” وہٹی "مانگتا ھے- جاب کی تلاش مین

 

دھکے کھا کر آئے تو اسے دیکھتے ھی کہنا” کھا آئے او” مجھے پہلے ھی پتہ تھا،، یا کہنا دوستوں کے ساتھ ھوٹلوں

میں بیٹھ کر گپیں لگا کر آ جاتے ھو ،تم کام ڈھونڈتے کب ھو،، کڑیاں پچھے پھر کے آ جاتے ھو،، شادی مین کوشش کرنا

 

کہ لڑکا اپنی پسند کی لڑکی سے شادی نہ کرنے پائے بلکہ کسی ایسے رشتہ دار کی بیٹی سے شادی کرے جس نے

زندگی مین آپ پر احسان کیا تھا، تاکہ اسے بَلی کا بکرا بنایا جا سکے،، شادی کے بعد پہلی صبح کو دلہن کے کمرے

 

کے بعد اپنی برادری کی عورتوں کو لے کر گِــــــــدھــــــــــــوں کی طرح جھرمٹ لگا کر بیٹھ جانا تا کہ لڑکی کی عصمت کا

حساب کتاب ان خرانٹ عورتوں پر مشتمل جیـــــــــــــــــــــــــوری میں پیش کر کے نشانِ حیدر لیا جائے،، دو چار ماہ اولاد

کا سلسلہ نہ چلے تو ،،بار بار بچے کو اکیلے میں امان جی کا مشکوک انداز میں پوچھنا” منڈیا تو ٹھیک تو ھے ناں ؟

،

اور پھر تعویز دھاگے اور پیر بابے کے چکر،، پھر ھم بریکنگ نیوز سنتے ھیں،، پنڈی چھاونی میں حاضر سروس کیپٹن بیٹے

 

نے اپنے ریٹائرڈ برگیڈیئر والد ،والدہ اور تین بہنوں سمیت پورے خاندان کو رشتے کے تنازعے میں قتل کر دیا،، کل ماں اور

باپ کو قتل کرنے والا بیٹا اورنگی ٹاؤن مین گرفتار ! لوگ والدین کو کیوں مارتے ھیں ؟ اس لئے کہ وہ خود چلتی پھرتی

لاش ھوتے ھیں !! فــاعتبروا یا اولو الابصار،،اھل بصیرت عبرت پکڑو

!

یہ وہ ساری شکایات ھیں جو والدین یا بچوں کے ذریعے مجھ تک پہنچیں اور میں نے دونوں فریقوں کو یہ سمجھایا کہ اولاد کو اس طرح رسوا نہیں کرتے اور دوسری طرف اولاد کی سمجھایا کہ اگرچہ ان کے طریقہ کار میں خامی ھو مگر ان سے بڑھ کر تمہارا ھمدرد کوئی ھے نہ ملے گا، یہ تمہارے وجود کا حصہ ھیں اور تم ان کی ایکسٹینشن ھو،، وہ تمہیں اپنا آپ سمجھ کر اس طرح کا سلوک کرتے ھیں،،وہ جس طرح خود ھونا چاھتے ھیں تمہیں ویسا بنانے کی کوشش کر رھے ھیں یہ الگ بات ھے کہ وہ عمر کے فرق کو بھول گئے ھیں، اولاد نے وقتی طور پہ اگرچہ میری نصیحت کا برا بھی منایا مگر پھر وقت آیا کہ انہیں اعتراف کرنا پڑا کہ میری بات ھی ٹھیک تھی،جبکہ ان کو بھڑکانے والے انہیں دھوکا دے رھے تھے-

خود میری تربیت الحمد للہ والد صاحب نے اس طرح کی کہ مجھے محسوس ھی نہیں ھونے دیا کہ مجھے کوئی حکم دیا جا رھا ھے،زندگی بھر انہوں نے جب کوئی کام کروانا چاھا مجھ سے مشورے کے انداز میں پوچھا اور مجھے پتہ چل گیا کہ وہ کیا چاھتے ھیں،دین میں جبر نام کی کوئی چیز میں نے ان کی طرف سے محسوس نہیں کی،انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ ان کو اور مجھ کو حکم دینے والی ایک ھی ھستی ھے اور ھم دونوں کو اس کے حکم پر برابر چلنا ھے اور اس چلنے میں ایک دوسرے کی مدد کرنی ھے،اگر کہیں کوئی کوتاھی ھوئی ھے تو انہوں نے مجھ سے پہلے آگے بڑھ کر اسے عمر کا تقاضہ سمجھا اور بغیر معافی مانگے معاف کیا ھے اور بغیر نصیحت کیئے اپنے حسن سلوک سے نصیحت کر دی ھے،ان کے چہرے کی ایک ایک سلوٹ سے میں آگاہ تھا،ان کی ناراضی کو ان کے چہرے کی سلوٹ میں پڑ لیتا تھا اور درستگی پر اسی سلوٹ میں خوشی کا سورج طلوع ھوتے بھی دیکھتا تھا،مجھے اچھی طرح یاد ھے جب انہیں پتہ چلا کہ ھم بھائی فرضوں اور سنتوں کے بعد مسجد سے نکل جاتے ھیں اور تراویح نہیں پڑھتے بلکہ پاس کے ھوٹل کے باھر لگے ٹی وی پر ریسلنگ دیکھتے رھتے ھیں اور جب  وتر کی باری آتی ھے تو فوراً مسجد پہنچ کر شریک ھو جاتے ھیں تو بجائے ڈانٹنے کے جب انہوں نے قہقہ مار کر والدہ کو ھم بھائیوں کا یہ کارنامہ بتایا اور فرمایا کہ چھوٹے بھوت بڑے بھوتوں کو ٹھگتے رھے ھیں،،پھر فرمایا دیکھو مسجد سے نکل کر دوبارہ مسجد میں آنا بڑے کمال کی بات ھوتی ھے،اس کھیل میں بھی یہ کان اور دھیان اس بات پر رکھتے تھے کہ کب تراویح ختم ھوئی ھے اور وتر کھڑے ھوئے ھیں،، بس ان کا یہ فرمانا ھی ھماری اصلاح تھی، پھر زندگی میں کبھی ھم سے ایسی خطا نہیں ھوئی، آج جو اعتماد آپ کو مجھ میں نظر آتا ھے یہ اللہ کا فضل اور میرے والد کا مجھ پر احسان ھے کہ انہوں نے مجھ پر اعتماد کی حد کر دی ،ان کے نزدیک حنیف سب علماء سے زیادہ جانتا تھا اور حنیف کا کہا اخری ھوتا تھا، اسی اعتماد پر میں نے اپنی اولاد کی تربیت کی ھے،، میں نے کل جب وہ یونیورسٹی چلے جائیں گے تو بھی ان کے کہے پر اعتبار کرنا تھا،اس اعتبار کی ابتدا میں نے گھر سے کر دی تھی، یہ اعتبار کی مار بھی بڑی کارآمد ھوتی ھے،میں دسویں کلاس میں تھا،ظہر کی نماز کے بعد میں ھیڈ ماسٹر صاحب کے پاس گیا چھٹی لینے کے لئے جو صحن میں ھمارے اردو کے استاد ماسٹر نواز صاحب آف آدڑہ کے ساتھ ٹہل رھے تھے،میں نے کہا کہ  سر مجھے بخار ھے گھر جانا ھے،ماسٹر نواز صاحب نے ھیڈ ماسٹر سے کہا کہ یہ لڑکا ماشاء اللہ بہت لائق اور نمازی پرھیز گار ھے،بہانہ نہیں کرتا،ان کی اس بات پر ھیڈ ماسٹر صاحب نے چھٹی دے دی،مگر اس چھٹی کی خوشی ختم ھو کر رہ گئی ،ایک آدمی مجھے کتنا نیک سمجھتا ھے اور میں نے بہانہ کر کے اس کے اعتماد کو دھوکا دیا ھے،، اس کے بعد مین نے کبھی یہ حرکت نہیں کی اور زندگی بھر ان کے اعتماد و اعتبارکو یاد رکھا،بعد مین میں نے انہیں یہ بات بتائی جب میں ابوظہبی سے واپس چھٹی گیا تو انہوں نے ھنس کر کہا کہ یہ اعتراف بھی آپ کی نیک شرست کی نشانی ھے، آپ اولاد پر اعتماد کرتے ھیں تو وہ کوشش کرتے ھیں کہ اس اعتماد کو ٹھیس نہ لگنے دیں،، آپ ان کی تعریف کرتے ھیں تو وہ کوشش کرتے ھیں کہ آپ تعریف کر کے شرمندہ نہ ھوں،،آپ ان کے پاس نہیں ھوتے مگر آپ کا اعتماد ان کے ساتھ ھوتا ھے ،اسی اعتماد کی رشتے میں آپ بندھے ھوتے ھیں،، شک ھمیشہ تباھی مچاتا ھے ،جس کے دل میں پیدا ھوتا ھے اس میں بھی اور جس کے بارے میں پیدا ھوتا ھے اس میں بھی ،اس سے کبھی بھی خیر برآمد نہیں ھوتا، میں نے بالکل اسی اعتماد پر اولاد کو پالا ھے، انہیں اجازت ھے کہ وہ جس موضوع پر چاھئیں مجھ سے ڈسکس کریں،میرا بیٹا قاسم جو حافظِ قران بھی ھے ،عربی مادری زبان کی طرح بولتا ،لکھتا اور پڑھتا ھے، اس نے بہت سارے معاملات میں میری رائے کو تبدیل کیا ھے،  میں اگر پھر بھی پیدا ھوں تو اسی حیثیت مین پیدا ھونا چاھوں گا ،انہی والدین کے گھر ،اسی اولاد کے والد کی حیثیت سے،، یہ میرےاطمینان کی حد ھے،،

زمانوں کے تقدس کا المیہ !

! superiority copmlex of ages November 8, 2013 at 7:05pm زمانوں کا احساسِ برتری ! انسانوں میں نفسیاتی خلیج کو وسیع کرنے، اور جینیریشن گیپ کی تخلیق میں زمانوں کے تقدس کو ایک کلیدی حیثیت حاصل ھے ! یہی زمانی تقدس نئی تحقیق و تخلیق میں زھرِ قاتل اور انسان کی ذھنی نشو و نما … Read more

انسان بمقابلہ شیطان اور توبہ کا امتحان

  اس میں کوئی شک نہیں کہ جھگڑا انسان اور شیطان کے درمیان ھے، اللہ پاک نے ھر جگہ شیطان کو انسان کا دشمن کہا ھے اپنا دشمن کہیں نہیں کہا،، یہ اللہ تھا جس نے انسان کو ایک سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے شیطان کے وہ سارے سجدے اٹھا کر باھر پھینک دیئے … Read more

انسان بمقابلہ شیطان اور توبہ کا امتحان !

اس میں کوئی شک نہیں کہ جھگڑا انسان اور شیطان کے درمیان ھے،

اللہ پاک نے ھر جگہ شیطان کو انسان کا دشمن کہا ھے اپنا دشمن کہیں نہیں کہا،، یہ اللہ تھا جس نے انسان کو ایک سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے شیطان کے وہ سارے سجدے اٹھا کر باھر پھینک دیئے جو اس نے اللہ کو کیئے تھے اورجنت اور دوزخ سے بالا ھو کر سوچیں تو یہ ھماری اخلاقی کمینگی کی انتہا ھے کہ ھم پھر بھی اللہ کو سجدہ نہ کریں ،، فرمایا،، یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ھے( یآدم ان ھٰذا عدو لک و لزوجک -طہ ) (الم اقل لکما ان الشیطان لکما عدو مبین ؟ کیا میں نے تم دونوں کو نہیں بتایا تھا کہ شیطان تم دونوں کا دشمن ھے-الاعراف )، (کیا تم اللہ کی بجائے شیطان اور اس کی ذریت کو دوست بناتے ھو حالانکہ وہ تمہارا دشمن ھے،ظالموں نے بہت برا متبادل چنا ھے -بنی اسرائیل) تم ایک دوسرے کے دشمن ھو -البقرہ )جو لوگ اسے اللہ کا دشمن سمجھتے ھیں اور خود کو ھیرو جو اللہ کی مدد کو پہنچے ھیں وہ الٹا اللہ پر احسان دھرتے ھیں کہ جناب ھم تو اللہ کے دشمن سے سینگ پھنسا بیٹھے اور اللہ ھمیں اکیلا چھوڑ کر الگ ھو گیا، گویا مرے تھے جن کے لئے وہ رھے وضو کرتے،جبکہ حقیقی صورتحال یہ ھے کہ الٹا اللہ نے ھماری وجہ سے شیطان سے دشمنی کی اور اس کے سجدے اور اطاعتیں اس وقت تک اٹھا کر پھینک دیں جب تک وہ انسان کی عظمت تسلیم نہ کرے –
شیطان کو انسان کی بڑائی یا عظمت قبول نہیں، اللہ کو تو وہ سجدہ کرنے کو تیار ھے،مگر اس کے بقول جونیئر کو چیف بنا کر اس کے ساتھ زیادتی کی گئ ھے،جواب یہ ھے کہ جونئیر صلاحیتوں میں تجھ سے بہتر ھے مجبوراً اسی کو چیف بنانا پڑا کیونکہ اصل بات سنیارٹی کی نہیں اس ڈیوٹی کی ھے جو تجھے ادا کرنی ھے ! سوال اٹھا وہ ڈیوٹی کیا ھے،،جواب ملا گر کے اٹھنا،، پرچہ آدم کو بھی دیا گیا اور ابلیس کو بھی تھما دیا گیا،، آدم گر گر کے اٹھتا ھے جبکہ شیطان ایک ھی دفعہ جو گرا ھے تو پھر گرتا ھی چلا گیا ھے، ھم سے دنیا میں گناہ اسی لیئے سر زد ھونے دیئے جاتے ھیں کہ دیکھیں کون گر کے اٹھتا ھے اور اپنی انسانیت ثابت کرتا ھے،جبکہ گر کے پڑے ھی رھنے والے شیطانوں کی صف میں چلے جاتے ھیں،یہ سارا امتحان کا گھڑاک ھی گرنے اور اٹھنے کا ھے،اگر انسان فرشتہ ھو جائے تو بساط آج ھی لپیٹ لی جائےیہی مفہوم ھے مسلم شریف کی اس آخری حدیث کا ،،لو لم تذنبوا لذھب اللہ بکم و،،،، اگر تم سے گناہ سرز زد ھونا بند ھو جائیں تو اللہ تمہیں یقیناً لے جائے اور ایسے لوگ لائے جن سے گناہ سر زد ھوں پھر وہ اٹھیں اللہ سے معافی مانگیں اور اللہ انہیں معاف فرمائے ،، اس میں زور” اٹھنے اور معافی مانگنے "پر ھے،،ورنہ خطا احتیاطاً کرنے کی ضرورت نہیں،یہ ھماری انسانیت کا لازمہ ھے،، میں آدمی ھوں کوئی فرشتہ نہیں حضور ،، میں آج اپنی ذات سے گھــبرا کے پی گیا ! مفتی تقی عثمانی صاحب اپنی یاد داشتوں میں لکھتے ھیں کہ ساؤتھ افریقہ کے دورے کے دوران ھم ایک ٹرین میں سفر کر رھے تھے جو دورانِ سفر خراب ھو گئ، تمام پسینجر ٹرین سے اتر کر باھر بیٹھ گئے جن میں ھم بھی شامل تھے، وھاں بیٹھے بیٹھے میری نظر ایک بہت ھی خوبصورت پودے پر پڑی جس پر انتہائی پرکشش پھول لگا ھوا تھا،، میں بے ساختہ اس پھول کو توڑنے لپکا مگر میرے میزبان نے تقریباً چیختے ھوئے مجھے للکارا مولانا، مولانا اس کے پاس مت جایئے،، میں اس کی اس سنجیدہ وارننگ پر ٹھٹک کر رک گیا اور پوچھا بھائی کیا ھوا؟ کیا یہ کسی کی ذاتی ملکیت ھیں؟ کہنے لگے مولانا اس پھول کے ساتھ ھی اس کا ھم رنگ کانٹا ھوتا ھے جو سانپ کے زہر کا سا اثر رکھتا ھے،، ادھر وہ آپ کو چبھا اور ادھر آپ کا خون گاڑھا ھونا اور جمنا شروع کر دیتا ھے،جس سے انتہائی اذیت ھوتی ھے اور علاج میں دیر سے جان بھی چلی جاتی ھے – میں نے کہا ارے میاں یہ تو بہت خطرناک پودا ھے،حکومت کو اس کے گرد یا تو باڑ لگانی چاھئے یا پھر کوئی تحریری وارننگ اس کے ساتھ کھڑی کرنی چاھئے! وہ کہنے لگا مولانا یہاں کے لوگوں کے لئے یہ کوئی مسئلہ نہیں، اجنبی اس کا شکار ھو جاتے ھیں، پھر وہ اٹھا اور بہت احتیاط سے اس پودے کی جڑ کو کھودا اور ایک ایک جڑ نما چیز نکال کے لایا ،کہنے لگا مولانا ایسے ھر پودے کے ساتھ ھی نیچے قدرت نے اس کا علاج بھی رکھا ،،آپ اس پانی سے بھری جڑ کو جونہی چبا کر چوستے ھیں،،اس پودے کا زھر اسی لمحے تحلیل ھو جاتا ھے،اور یوں وہ صرف عام کانٹا رہ جاتا ھے،، ابھی میں نے یہ جڑ نکال لی ھے چند گھنٹوں بعد ویسی ھی تریاق سے بھری جڑ پھر تیار ھو جائے گی ! اللہ نے جہاں گناہ کا پرکشش پودا اگایا ھے وھیں اس کے پڑوس میں توبہ کا تریاق بھی رکھا ھے، جب زھر کھانے سے نہیں شرماتے تو تریاق کھانے سے شرم کیسی ؟ جب اللہ معاف کرنے سے نہیں تھکتا تو تم توبہ کرنے سے کیوں تھک جاتے ھو،، لوگ عام طور پر کہتے ھیں کہ جی یہ بھی کوئی توبہ ھے کہ روز توبہ کر لی اور پھر گناہ کر لیا،،گویا رند کے رند رھے ھاتھ سے جنت نہ گئ والا معاملہ ھو گیا ! میں کہتا ھوں کہ یہ شیطانی سوچ ھے،وہ کسی نہ کسی طرح انسان کو توبہ سے روکنا چاھتا ھے، اگر یہ دو لفظ کہنا اتنا اسان ھوتا تو شیطان کب کا کہہ کے فارغ ھو گیا ھوتا ! یہ ھی تو اس سے ادا نہیں ھو پا رھے،یہی دو لفظ تو اس کے اور رب کے درمیان آڑ بن گئے ھیں،، بھلا وہ انسان کو انہیں ادا کرتے کیسے دیکھ سکتا ھے،، توبہ مومن کا سرپرائز ویـپن ھے،،شیطان نیکیوں سے نہیں ڈرتا ،اسے پتہ ھے میں ایک ھی گناہ ایسا کروا لوں گا کہ ساری نیکیاں ضائع ھو جائیں گی،،وہ تو توبہ سے خوفزدہ رھتا ھے کیونکہ توبہ کی وجہ سے گناہ بھی نیکیوں میں تبدیل ھو جاتے ھیِں ” اولئک یبدل اللہ سیئآتھم حسنات ” یہ وہ توبہ کرنے والے لوگ ھیں جن کی بدیوں کو اللہ نیکیوں مین تبدیل کر دیتا ھے ( الفرقان ) گویا یہ سانپ اور سیڑھی کا کھیل ھے،،کبھی گناہ اسے سانپ کی طرح ڈس کر پاتال میں پہنچا دیتا ھے تو کبھی توبہ اسے پاتال سے نکال رب کے قدموں میں عرش کے سامنے لا سجدے مین ڈالتی ھے !

سورس

گاھے گاھے باز خواں ایں قصہ پارینہ را

میں کئی بار گزارش کر چکا ھوں کہ میں بچپن سے ھی مذھبی رجحان رکھتا تھا، اور اس رجحان کی وجہ ھمارا علمی اور مذھبی بیک گراؤنڈ نہیں تھا بلکہ ھماری جسمانی کمزوری تھی، پیدائشی طور پر ھی ھم کچھ اس طرح لحیم شحیم پیدا ھوئے تھے کہ کئی دفعہ کتا ھمیں پوتڑے سمیت ھی … Read more

سائیں جی کا وضو اور ھمارا میڈیا

جب بھی پاکستانی چینلز دیکھتا ھوں، خاص کر جیو چینل کی کرامات دیکھتا ھوں تو ایک بزرگ مجھے ٹوٹ کر یاد آتے ھیں ! میں انہیں سائیں جی کہا کرتا تھا، بہت نیک انسان تھے،مردانہ وجاھت کا شاہکار سرخ و سپید،، لمبی سفید داڑھی، پر جلال چہرہ،، ھمیں دو چار چلے بھی کرائے تھے،، ھر … Read more

چارپائی کا تعاقب

  لیڈیز اینڈ جینٹلمین ! سلامتی ھو آپ سب پر اور مجھ پر بھی ! پچھلے دو چار دن سے کچھ ایسی کیفیت سے گزرا ھوں کہ سمجھانے میں کافی وقت لگ جائے گا،، ھمارے دیہات کی خواتین کوئی سال چھ ماہ بعد ھفتہ صفائی مناتی ھیں،، چارپائیاں بھی تالاب پر پہنچ جاتی ھیں، اور … Read more

امام مہدی کی حقیقت،احادیث کے آئینے میں !

امام مہدی کی حقیقت،احادیث کے آئینے میں !اس سلسلے میں سب سے بہترین حدیث، عبداللہ ابن مسعودؓ سے مروی ھے جسے ان سے زر بن حبیشؓ نے اور پھر عاصم کوفیؓ نے روایت کیا ھے ! حدیث کا متن کچھ اس طرح ھے !نبی کریم ﷺ نے فرمایا ؛ کہ اگر دنیا کے خاتمے میں … Read more