انسانِ کامل محمدمصطفیﷺ! خاتم نبوت،خاتم شریعت،خاتمِ کتاب !

June 20, 2013 at 2:59pm

الحمد للہ و کفی والصلوٰۃ والسلام علی اشرف الانبیاء ،محمدٍالمصطفیﷺوعلیآلہوصحبہومنوالاہ،امابعد ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا سوال پیدا ھونا ھی ایمان میں کسی قسم کے خلل یا علم میں کسی قسم کے نقص کی نشاندھی کرتا ھے ،، یہ وہ بات ھے جو کامن سینس کی ھے مگر عجیب بات یہ ھے کہ یہ سوال اٹھایا ان خواتین و حضرات کی طرف سے جاتا ھے ،جن کا دعوی یہ ھے کہ وہ اصحاب الرائے اور رؤسائے فھم و فراست ھیں،، جب تک کسی جواب کے ساتھ عقلی دلیل نہ ھو بقول ان کے نہ تو وہ ان کے حلق سے اترتی ھے اور نہ دل و دماغ میں بیٹھتی ھے ،، بات عقلی دلیل سے ھی شروع کرتے ھیں، کہ نبوت اور رسالت ایک ادارہ ھے،جس میں سارے نبی،نبی ھی ھیں اور ایک ھی ھستی کے فرستادہ ھیں،، بحیثیت نبی اللہ اور رسول اللہ ان کی ذمہ داریاں یکساں ھیں،، مثلاٍ بحیثیت شوھر،، سارے شوھر ایک جیسے ھیں اور یہ ادارہ احترام اور تابعداری کا تقاضہ کرتا ھے،، جہاں بھی اور جس جگہ بھی اس کی ذمہ داریاں اور حقوق گنوائے گئے ھیں کسی شوھر کا نام لے کر نہیں گنوائے گئے بلکہ ایک ادارے کے طور پر گنوائے گئے ھیں،، مگر جس خاتون کو اصرار ھے کہ کسی نبی کو کسی دوسرے نبی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ھے ،،میں ان سے پوچھتا ھوں کہ کیا آپ کے شوھر کا نام کہیں کتاب و سنت میں آیا ھے ؟ شوھر تو سارے محترم ھیں،،مگر کیا آپ کے لئے آپ کا شوھر افضل ھے یا نہیں؟ یا سارے شوھروں کے ساتھ آپ کا معاملہ مساوات پر مبنی ھے؟ کیونکہ ذمہ داریاں تو سب شوھروں کی ایک جیسی ھیں ،، اور نکاح رجسٹر بھی ایک جیسے ادارے میں ھوتا ھے؟ مگر اپ افضلیت اپنے شوھر کو دیتی ھیں،، اسی طرح سارے نبی اور ان کی ذمہ داریاں ایک جسی ھیں اور ان کی سندِ رسالت ایک ھی ھستی کی طرف سے جاری ھوتی ھے،،مگر جب وہ نبی میرا نبیﷺ بنتا ھے تو پھر میرے لئے اسکی افضلیت اور فضیلت ایک فطری اور بدیہی چیز ھے اسی بات کا مرد حضرات بیوی پر اطلاق کر لیں،،، بیویاں اور انکی ذمہ داریاں ایک جسی ھوتی ھیں اور حقوق بھی ،، مگر آپکے لئے شرعی ٖفضیلت آپکی بیوی کو حاصل ھوتی ھے؟ یا جو بیوی بھی بازار میں نظر آ جائے؟؟ بڑی موٹی سی بات ھے کہ آپ نبی ﷺ کی بتائی ھوئی عبادات اور ان کے طریقے کو اپنا ھی نہیں سکتے جب تک آپ اس نبی کو فوقیت نہ دیں، منسوخ شدہ کرنسی بھی کبھی پاکستان کی کرنسی تھی اور آج بھی اس نوٹ پر بینک دولت پاکستان ھی لکھا ھے،مگر فوقیت اور فضیلت آج جاری کرنسی کو ھے سابقہ کرنسی کو نہیں،، اگر قرآن کو اپنی بقا اور اللہ کی آخری کتاب ھونے کی نسبت سے تمام سابقہ کتب پر فضیلت حاصل ھے تو آخری رسول ﷺ جس کی شریعت آخری شریعت اور جس کی رسالت رھتی دنیا تک قابل اتباع  ھے ،اس رسول کو سابقہ رسولوں پر فوقییت حاصل ھونا کیونکر غیر فطری ھے ؟پھر یہ کہنا کہ کسی رسول کو افضلیت نہیں دینی چاھئے تو ایک لا یعنی بات ھو کر رہ جاتی ھے،، النبی اولٰی بالمؤمنین من انفسھم و ازواجہ امھاتھم ( الاحزاب-6 ) ،، نبیﷺ مومنوں کو اپنی جان سے زیادہ عزیز ھیں اور اس کی ازواج ان کی مائیں ھیں،، صرف ایک نبی،، ھمارے نبی اور ھم مومنوں کے بارے میں اللہ پاک نے دعوی کیا ھے،، باقی کسی نبی کی زوجہ کو ھم ام المؤمنین نہیں کہہ سکتے ! ھم اپنے نبی ﷺکو دوسرے انبیاء کے برابر کیسے کر سکتے ھیں،،جبکہ اللہ نے بھی لفظ الانبیاء نہیں بولا،، صرف ھمارے نبیﷺ کا ذکر کیا ھے، اگر برابر رکھنا مقصود تھا تو اللہ پاک فرما دیتے کہ الانبیاء اولی بالمومنین من انفسھم،،و ازواجھم امھاتھم ! سارے نبی مومنوں کو اپنی جان سے پیارے ھیں ؟ گویا جونہی کوئی شخص نبی کریمﷺ کو اپنا رسول مانتا ھے،نبیﷺ اس کو جان سے پیارے ھو جاتے ھیں،،جب کہ سابقہ انبیاء کا احترام اور ان پر ھمارا ایمان ھونے کے باوجود انکی اس درجے کی محبت ھمارے لئے ضروری نہیں ھے،،،شرعی طور پر نبی یا رسول کی دو حیثیتیں ھوتی ھیں،، ایک اللہ کا رسولﷺ اور دوسری ھمارا رسولﷺ ،، اللہ پاک نے نبیوں کو اپنی طرف بھی منسوب کیا ھے،، رسولنا، بھی کہا ھے اور ھماری طرف منسوب کر کے، یا دیگر قوموں کی طرف منسوب کر کے ، رسولکم ،، رُسُلُھُم بھی کہا ھے،، مثلاً سورہ المؤمن میں فرمایا،،اَوَلَم تَکُ تَاتیکُم رُسُلُکُم بالبینات؟-50 پھر سورہ المؤمن مین ھی فرمایا فلما جاءتھم رُسُؒلُھُم بالبینات-83 سورہ ابراھیم مین 4 جگہ مسلسل استعمال ھوا ھے،(9-10-11-13 )،یعنی ایک حیثیت رسول اللہ،، جس مین سارے رسول برابر ھیں،، اور ایک حیثیت رسولنا،، ھمارے رسول جس مین فوقیت اور افضلیت ھمارے رسول کو ھو گی،، ایمان کے لحاظ سے سارے رسولوں پر ایمان برابر ھو گا،،کوئی کمی بیشی یا شک شکوک ممکن نہیں اور ان میں سے کسی کا انکار بھی برابر کا کفر ھے،، مگر اطاعت کے لحاظ سے میرے نبیﷺ کو فوقیت اور افضلیت حاصل ھو گی ! اس کے بارے میں یہ حدیث کفایت کرتی ھے جسے دارمی نے عمر ابن الخطابؓ کے بارے میں جابر ابن عبداللہؓ سے روایت کیا ھے، اور مشکوۃ المصابیح نے کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ میں نقل کیا ھے، کہ عمر ابن الخطابؓ کہیں سے تورات کا ایک نسخہ لے آئے اور کہا کہ اے اللہ کے رسولﷺ یہ تورات ھے،، اللہ کے رسول خاموش رھے، عمرؓ نے تورات میں سے پڑھنا شروع کیا تو نبی کریمﷺ کے چہرے کا رنگ متغیر ھونا شروع ھو گیا( جو آپ کے غصہ ھونے کی علامت تھی) ابوبکرؓ نے کہا تجھے گم کر دیں گم کرنے والیاں تو اس چیز کو نہیں دیکھ رھا جو رسول اللہﷺ کے چہرے پہ ھے؟ اس پر عمرؓ نے چہرہ اقدس کی طرف نظر اٹھائی اور فوراً کہا ” میں اللہ اور اس کے رسول کے غصے سے اللہ کی پناہ چاھتا ھوں ! مین راضی ھو گیا، اللہ کے رب ھونے پر اور محمدﷺ کے رسول ھونے پر اور اسلام کے دین ھونے پر( یہ ایسا فوری اور عجیب ایمان بھرا جملہ تھا کہ نبی کریم ﷺ نے بعد میں اس کو توبہ کرنے والوں کو بشارت کے طور پر بتانا شروع کر دیا اور توبہ کی قبولیت میں اکسیر کا اثر رکھتا ھے،،رضیتُ باللہ رباً و بمحمدٍ نبیاً و رسولاً و بالاسلام دیناً) نبی کریمﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺکی جان ھے اگر آج موسی بذاتِ خود بھی ظاھر ھو جائیں اور تم مجھے چھوڑ کر ان کی پیروی کرو تو گمراہ ھو جاؤ،،اگر موسی زندہ ھوتے اور میری نبوت پا لیتے تو یقیناً وہ بھی میری پیروی کرتے ! یہ میرے ان دوست اور غامدی صاحب کی دعوتی ٹیم کے اھم رکن کے لئے بھی پیغام ھے جو ھر دوسرے دن لوگوں کو تورات کی تلاوت کی ترغیب دیتے ھیں،، اب آئیے ان حضرات کے استدلال کی طرف ،، قرآنِ حکیم سے ان کا استدلال یہ ھے کہ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 285 میں اللہ نے ایمان والوں کی طرف سے بیان کیا ھے کہ” لا نفرق بین احدٍ من رُسُلہ” اور اس کا ترجمہ کرتے ھیں کہ۔۔ لا نفضل بین احدٍ من رسلہ،، ھم کسی ایک رسول کو دوسرے پر فضیلت نہیں دیتے،، گویا تفریق کا مطلب تفضیل ھے،، اب اس تقریق کا اصل ترجمہ تو یہ ھی ھے کہ ھم ایمان لانے میں رسولوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں برتتے کہ ایک کو مانیں اور دوسرے کو کسی تعصب کی بنیاد پر نہ مانیں ! بلکہ ھم سارے رسولوں کو من جانب اللہ اور کتابوں کی اللہ ھی کی کتابیں مانتے ھیں،،( ، یہ اصلاً بنی اسرئیل پر طنز ھے جو نبی کریمﷺ کو اس تعصب کی وجہ سے نہیں مان رھے تھے کہ وہ بنی اسماعیل مین سے ھیں،، انہیں شرم دلائی جا رھی ھے کہ ادھر میرے نبیﷺ اور اھل ایمان کی روش دیکھو کہ تمہاری اتنی دشمنی اور سازشوں کے باوجود تمہارے رسولوں اور کتابوں کو بلاتعصب مانتے ھیں) نہ کہ یہاں فضیلت کا تعین ھو رھا ھے ! القرآنُ یفسرُ بعضہ بعضاً،، ایک اصول ھے کہ قرآن اپنی ایک بات کی تفسیر خود دوسری جگہ کر دیتا ھے،،لہٰذا قرآن کو سب سے پہلے قرآن کے ذریعے ھی سمجھنے کی کوشش کرنی چاھئے اور یہ کوشش 99۔99 ٪ کامیاب ھوتی ھے،اس اصول کو اپنے غامدی صاحب المکرم المعظم بھی جانتے اور مانتے ھیں! پھر بھی میں ان سے کہتا ھوں کہ اب اپنے ترجمے اور تفسیر پر قائم رھنا کہ تفریق کا ترجمہ تفضیل ھے، سورہ النساء آیت نمبر 150 چھٹے پارے کا پہلا صفحہ دیکھ لیجئے ! یہاں سورہ البقرہ کی تفریق کی تفسیر کی گئی ھے، کہ کافر اللہ اور رسول کے درمیان تفریق کرتے ھیں، کہ ھم اللہ کو تو مانتے ھیں،مگر فلاں رسول کو نہین مانتے،، اور پھر رسولوں اور رسولوں کے درمیان تفریق کرتے ھیں کہ ھم فلاں رسول کو تو مانیں گے مگر فلاں کو نہیں مانیں گے،،یوں وہ کچھ رسولوں کو مان کر رسالت پر ایمان کا دعوی بھی ثابت کرتے ھیں ،، رسولوں کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لا کر ایمان باللہ بھی ثابت کرتے ھیں،،جبکہ مومنوں کے بارے میں وھی بات جو سورہ بقرہ میں کہی گئی ھے وھی بات یہاں بھی کہی گئی ھے کہ وہ سب رسولوں پر ایمان رکھتے ھیں اور اللہ پر بھی ایمان رکھتے ھیں اور کہیں بھی ایمان میں تفریق نہیں کرتے،،، اس وضاحت کے بعد اب غامدی صاحب والا ترجمہ،تفریق بمعنی تفضیل دیکھ لیجئے ! بے شک جو لوگ کفر کرتے ھیں اللہ کے ساتھ اور اس کے رسولوں کے ساتھ،اور چاھتے ھیں کہ فضیلت قائم کریں اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان( یعنی کہیں کہ اللہ افضل ھے رسولوں سے) اور کہیں کہ ھم بعض رسولوں پر تو ایمان لاتے ھیں اور بعض کا انکار کرتے ھیں اور چاھتے ھیں کہ اس کے درمیان کی راہ اختیار کریں،150،یہی ھیں وہ حقیقی (22 کیرٹ) کے کافر ،،اور کافروں کے لئے ھم نے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ھے 151( یہاں وہ اللہ کو رسولوں سے افضل کہہ کر کافر ھو گئے) ! اور جو ایمان لائے اللہ پر اس کے رسولوں پر اور ان میں سے کسی کے درمیان بھی ‘ایمان’ میں تفریق نہیں کرتے یہ وہ لوگ ھیں جن کو ان کی اجرتیں دی جائیں گی اور اللہ بڑا غفور اور رحیم ھے ! ان آیات میں ان لوگوں کا بھی رد ھو گیا جو سورہ البقرہ کی ایت 62 کوٹ کر کے کہتے ھیں کہ اللہ اور آخرت پر ایمان اور عمل صالح ھی کافی ھے نجات کے لئے! ایمان بالرسالت کی کیا ضرورت ھے ،کیونکہ ایمان بالرسالت تعصب پیدا کرتا ھے ،، ایمان بالرسالت یا اس میں تفریق و تبعیض بذات خود کفر ھے اور کفر بھی حقیقی کفر نہ کہ کسی مفتی کا مستنبط کردہ کفر ! رسول تو رسول ھوتا ھے چاھے ایک بستی کا ھو یا پوری دنیا کا مگر نبی کریمﷺ کے سوا سارے رسول ایک خاص قوم اور قبیلے کی طرف مبعوث کیئے گئے،، یہاں تک بائبل ھی کے مطابق جب عیسی علیہ السلام کے پاس صیدوں جو آج کل لبنان کی بندرگاہ ھے،، سے چند لوگ ھدایت کی درخواست لے کر آئے تو آپ نے ان کو بہت ھتک آمیز جواب دے کر لوٹا دیا کہ بھلا اپنے بچوں کی روٹی کوئی کتوں کے آگے تھوڑا ھی ڈالتا ھے؟ میں بنی اسرائیل کی کھوئی ھوئی بھیڑوں کی طرف بھیجا گیا ھوں،، دوسری طرف وہ ھستی ھے جو نہ صرف تمام انسانوں کے لئے بلکہ قیامت تک آنے والے تمام جہانوں اور زمانوں کے لئے مبعوث فرمائے گئے ” وما ارسلناک الا کآفۃً للناس بشیراً و نذیراً ولٰکنَۜ اکثر الناسِ لا یعلمون ( سبا-28 )اور نہیں بھیجا ھم نے آپ کو مگر ساری انسانیت کے لئے بشیر اور نذیر بنا کر مگر لوگوں کی اکثریت اس(فضیلت ) کو نہیں سمجھتی،، مگر یار لوگوں کو عملی فضیلت ھی نظر نہیں آتی،، اور پھر اپنے آپ کو اصحاب الرائے اور اینٹیلی جینسیا، اور اینٹی لیکچوئل اور پتہ نہیں کیا کیا کہتے ھیں،،مگر حالت یہ ھے کہ آزاد کشمیر کے صدر اور امریکہ کے صدر کو برابر جانتے ھیں کیونکہ دونوں صدر ھیں ! جو فضیلت اس غیر مسلم کو نظر آ گئی ھے جس نے 100 صاحب الرائے اور صاحب عقل و خرد انسانوں میں پہلا نمبر محمد مصطفیﷺ کو دیا ھے وہ مسلمانوں کو نظر کیوں نہیں آتی ؟ قران اس فضیلت کا نقشہ سورہ الاعراف کی آیات 157 میں کھینچتا ھے،، موسی علیہ السلام ابھی ابھی تجلی کا جھٹکا کھا کر فارغ ھوئے ھیں ،،اللہ کی رحمت پوری طرح متوجہ ھے کہ موسی علیہ السلام نے رحمتِ خاصہ کا سوال کر دیا ! فوراً جواب دیا گیا کہ موسی یہ کسی اور کا حصہ ھے،، الذین یتبعون النبی الامی الذی یجدونہ مکتوباً عندھم فی التورۃ والانجیل،،،،،،،، اے موسی یہ تو ان کا حصہ ھے جو ایمان لائیں گے اس نبی اُمۜی پر جس کو وہ لکھا پاتے ھیں تورات اور انجیل میں،وہ حکم دے گا ان کو بھلائی کا اور روکے گا برائی سے ،،طیب چیزیں ان پر حلال کرے گا اور خبیث چیزیں حرام کرے گا،اور ان سے وہ طوق اور بیڑیاں ھٹا دے گا جو ان پر ڈال دی گئی تھیں،، تو جو ایمان لائیں گے اس پر اور عزت و توقیر کریں گے ان کی اور مددگار بنیں گے ان کے اور پیروی کریں گے اس نور کی جو ان کے ساتھ نازل کیا گیا تو وہ لوگ ( اس رحمت کے حصول میں) کامیاب ھوں گے( الاعراف 157 ) اگلی ایت میں اپ سے کہا گیا ھے کہ اپ اعلان فرما دیں کہ اے نوعِ انسانیت میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ھوں،الاعراف 158 !!

اگر دین کا اتمام مصطفیﷺ پر ھونا ،آخری کتاب کا نزول آپ پر ھونا،، آخری اور مستقل شریعت مصطفوی ھونا،، نبوت کی تکمیل آپﷺ پر ھونا،، 2500 سال تک ساری کتابوں کا اس نبیﷺ کی بشارت دینا کہ جس پر دین کی تکمیل اس طرح ھو گی کہ اسی کا حلال کردہ آخری اور فائنل حلال ھو گا اور اس کا حرام کردہ آخری اور فائنل حرام ھو گا اور رھتی دنیا تک آپ کی سنت کا اللہ کے نزدیک معیارِ زندگی قرار پانا، عیسی علیہ السلام کا و مبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمدﷺ کا اعلان ،، عیسی جیسا انوکھی پیدائش والا جس کی آمد کا نقیب ھو،اللہ جس پر خود درود پڑھے اور مومنوں کو پڑھنے کا حکم دے،،یہ درود صرف نبی کریمﷺ کی خصوصیت اور فضیلت ھے! عیسی علیہ السلام اور موسی علیہ السلام کے نام کے ساتھ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں لکھ سکتے،،کیونکہ اللہ نے قران میں ان اللہ و ملائکتہ یصلون علی النبی  میں صرف ایک نبی کی بات کی ھے، ابراھیم علیہ السلام کے نام کے ساتھ بھی تب ھی لگایا جا سکتا ھے جب ساتھ میں ھمارے نبی ﷺ کا نام بھی ھو ! اگر تمام اھلِ کتاب سے یہ مطالبہ کہ اگر اللہ سے محبت کا دعوی کرتے ھو تو اپنے رسولوں کو چھوڑ کر میرا اتباع کرو تب اللہ تم سے محبت کرے گا (آلعمران )اگر یہ سب فضیلت نہیں ھے تو پھر شاید دنیا میں فضیلت نام کی کوئی چیز پائی ھی نہیں جاتی،، شاید یہ کسی خاتون کا نام ھو گا  !

اب رہ گئیں وہ احادیث جن میں نبی کریمﷺ سے تفاضل کی ممانعت ھے، اس سے مراد یہ نہیں ھے کہ مومن آپس میں نبی ﷺ کی عظمت کے چرچے نہ کریں،، بلکہ اس کا اپنا ایک بیک گراؤنڈ ھے، کسی مسلمان نے جو کہ یہودیوں کے مدرسے میں تھا وھاں اس نے جب موسی علیہ السلام کے فضائل سنے تو بدلے میں نبی کریمﷺ کے فضائل بیان کرنا شروع کر دیئے،، بات بڑھ گئی اور مسلمان نے یہودی کو تھپڑ دے مارا ،، شکایت جب دربارِ نبی میں پہنچی تو آپ نے اس طرح کی فضیلت جو کسی دوسرے کی تنقیص  کر کے کی جائے منع فرما دی،، ورنہ حضرت حسۜان بن ثابت نے اپ کے سر پر کھڑے ھو کر وہ قصیدہ پڑھا تھا ،جس میں کہا تھا ،کہ اپ جیسا خوبصورت کسی آنکھ نہیں دیکھا اور آپ جیسا خوب سیرت کبھی کسی عورت نے نہیں جنا،،مگر نبیﷺ نے ان کو منع نہیں فرمایا تھا،، !

 

میں اللہ کے سارے رسولوں پر ایمان رکھتا ھوں ! اور بحیثیت اللہ کے رسول ان میں سے کسی کے درمیان فرق محسوس نہیں کرتا ! مگر وہ اللہ کے رسول تھے،،جو کسی اور قوم کی طرف بھیجے گئے تھے،، اور قرآن جہاں ان کا تذکرہ کرتا ھے،، رسولاً الی بنی اسرآئیل کے طور پر کرتا ھے،، وہ عیسی علیہ السلام کو،،و جعلناہ مثلاً لبنی اسرائیل بیان کرتا ھے ! میرے نبی محمد مصطفیﷺ ھیں جن کو میری طرف بھیجا گیا ھے جو نبیوں میں میرا حصہ ھیں اور میں امتوں میں ان کا حصہ ھوں ! میری نجات ان کی پیروی میں ھے،، سارے نبیوں کا احترام کرنے کے باوجود میں ان کا اتباع نہیں کر سکتا کیونکہ مجھے کسی اور ﷺکے اتباع کا حکم دیا گیا ھے، میں اس ھستی کو فضیلت دیتا ھوں جس ﷺسے میری نجات جڑی ھے،میرے لئے وہ افضل ھیں جو مجھے بچانے کے لئے بھیجے گئے ھیں،، !! میں تورات ،زبور ، انجیل کو اللہ کی کتابیں سمجھتا ھوں جو بنی اسرائیل کی طرف بنی اسرائیل کے لئے بنی اسرائیل کے نبیوں پر نازل کی گئیں ،چاھے وہ دستیاب ھوں یا نہ ھوں ،، مگر میں قرآن کو اللہ کی وہ کتاب سمجھتا ھوں جو میرے لئے بھیجی گئی ھے،، جو تمام انسانیت کے لئے ایمان و ھدایت کا منبع ھے ،،جس پر عمل کا میں نے اللہ سے عہد کیا ھے اور حتی الامکان اس عہد کی پاسداری کی کوشش کرتا ھوں،، کتابیں چاروں اللہ کی ھیں،، مگر میں قرآن کو افضلیت اور فوقیت دیتا ھوں،، ایمان سب پر رکھتا ھوں مگر عمل صرف ایک کتاب پر کرتا ھوں،،جسے میں افضل سمجھتا ھوں ! جو "اُنزِلَ الینا ” ھے،، جو ھماری طرف،ھمارے لئے نازل کی گئی ھے !! میرے اس عقیدے میں اگر کوئی خرابی ھے تو اھلِ علم میری موت سے پہلے میری سوچ ،، میرے عقیدے ،، میرے ایمان کی تصحیح فرما دیں ! اللہ پاک انہیں جزائے خیر عطا فرمائے !

کیا ھمارے مدارس معاشرے کو وسیع النظر عالم فراھم کر سکتے ھیں ؟

June 14, 2013 at 7:11am

اگر دینی مدارس میں پڑھے لکھے اور کھاتے پیتےگھرانوں کے بچے بھیجے جائیں تو کیا مدارس کے ماحول اور مساجد کی صورتحال میں کوئی ڈرامائی تبدیلی واقع ھو سکتی ھے؟ کیا وھاں سے فارغ ھونے والا طالب علم روشن خیال ھو سکتا ھے،،روشن خیال سے مراد یہ نہیں ھے کہ وہ صدیوں سے رائج تعلیم کا منکر بن جائے،اسے غلط کہے، یا اس سے ھٹ جائے ،،یہ ایک ناممکن بات ھے،، روشن خیالی کا مطلب قوت برداشت میں اضافہ ،،دوسرے کے لئے گنجائش پیدا کرنا یعنی اس کے دلائل کو جگہ دینا ھے، یعنی ھر مکتبہ فکر کو اکاموڈیٹ کرنا ھے ،، آپ اگر الاتحاد ائیر لائن مین سفر کر رھے ھیں،تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ لاؤنج میں ،ائیر بلو اور پی آئی اے والوں سے اپنی ائیرلائن کی خوبیوں اور دوسری ائیر لائن کی خامیوں پر بحث مباحثہ اس حد تک لے جائیں کہ لاؤنج کے اندر ھی دست و گریباں ھو جائیں،، خوبیاں بیان بھی کی جا سکتی ھیں اور خامیاں گنوائی بھی جا سکتی ھیں،،مگر کسی کے ترک و اختیار پر قدغن نہیں لگائی جا سکتی ! اس سوچ کا نام روشن خیالی ھے ! اور اس کے مخالف نقطہ نظر کو تنگ نظری کہا جاتا ھے     !

بعض لوگ بڑے وثوق سے یہ دعوی کرتے ھیں کہ اگر بہتر میٹریل فراھم کیا جائے تو بہترین پراڈکٹ تیار ھو سکتی ھے ،، بہت سارے احباب اس نقطہ نظر سے متفق بھی ھوں گے، مگر میرا تجربہ کچھ اور کہتا ھے،، میرا تجربہ یہ کہتا ھے کہ اگر آپ مدارس کو موجودہ نصابِ تعلیم اور اساتذہ کے موجودہ مائنڈ سیٹ کے ساتھ یورپ کے اے لیول کے بچوں سے بھر دیں تو جب وہ بچہ وھاں سے نکلے گا تو ،اس کے مائنڈ سیٹ  اور فاٹا کے کسی دور دراز گاؤں سے آنے والے اس کے ھم سبق کے مائنڈ سیٹ میں رائی کے دانے کے برابر بھی فرق نہیں ھو گا،، آپ جب کاپی نکالنا چاھتے ھیں تو پیپر کی کوالٹی سے تحریر پر کوئی فرق نہیں پڑتا     !

 

تفصیل اس اجمال کہ یہ ھے کہ میرے ایک اعزازی شاگرد ھیں،، میرے پڑوس میں پیدا ھوئے،یہاں یو اے ای میں تعلیم مکمل کی ،،پاکستان تشریف لے گئے ، آج تک جتنے ایم اے دریافت ھوئے ھیں سارے ختم کر بیٹھے ھیں جس میں ایم اے انگلش لٹریچر بھی ھے،مجھ سے چیٹ کرتے وقت ان کو اردو اور رومن اردو میں چیٹ کرتے ان کو دقت ھوتی ھے،،،انگریزی کو ترجیح دیتے ھیں، کسی مضمون میں پی ایچ ڈی کی بھی شنید تھی اور دینی تعلیم کے تمام مراحل طے کر کے مفتی بھی بن چکے ھیں ،، ایک انٹرنیشنل یونیورسٹی سے وابستہ ھیں، اور اسلام اباد میں رھائش پذیر،، والدین کے اکلوتے ھونے کی وجہ سے دنیا کی ھر چیز منہ سے نکلتے ھی فراھم کر دی جاتی تھی اور اب بھی صورتحال کچھ ایسی ھی ھے،،ایسا شاندار اور لائق بچہ صرف عمیرہ احمد کے افسانوں میں ھی ملا کرتا ھے،،یعنی 150 پلس کی آئ کیو والا ،،،

مگر اس ساری تعلیم اور ایم ایز کی لسٹ نے اس کا کچھ نہیں بگاڑا،،  روشن خیالی کا یہ عالم ھے کہ لڑکی پسند کر کے، بات چیت کر کے منگنی کا فیصلہ ھو گیا، لڑکی کے والدین کو بتا دیا گیا کہ فلاں تاریخ کو منگنی کرنے آرھے ھیں،تیاری کر لیں،لڑکی والوں نے تیاری کر لی،، مگر یہ منگنی نہ ھو سکی ! کیونکہ اس دوران کہیں سے پتہ چل گیا کہ لڑکی نے الھدی سے کورس کیا ھوا ھے ! بس ساری تعلیم کے اندر سے دولے شاہ کا چوھا نکل کر سامنے آ گیا،،بائی دا وئے اگر اس بچی نے الھدی سے غلطی سے کورس کر لیا ھو گا،تو فرق کہاں پڑا ھو گا؟ لڑکی نے رفع یدین شروع کر دیا ھو گا،، تو مفتی صاحب کے پاس علم تھا،اثر ورسوخ بھی ھوتا تو لڑکی کو قائل کر لیتے،، جو اپنی بیوی کو قائل کرنے کی ھمت نہیں رکھتا،دنیا کو کیا قائل کرے گا؟ آپ جانتے ھوں گے کہ گیرج والا اور مکینک ھر میک اور ماڈل کی گاڑی خرید لیتے ھیں کہ میں خود مکینک ھوں ،،بنا لوں گا،،ان مفتی صاحب سے وہ مکینک زیادہ دلیر اور پر اعتماد ھوتا ھے،،یہ ھمارے مدارس کی پراڈکٹ تھی ،حالانکہ میٹریل بہت اعلی تھا   !

میرے دوست کے بچے ھیں،، امریکہ میں پیدا ھوئے، امریکن نیشنل ھیں، النہدہ اسکولز میں پڑھے ھوئے ھیں،، والد صاحب رئیس المھندسین ھیں،، پورا گھرانہ تعلیمیافتہ ھے،، دادا جان  سے لے کر تایا تک،، میں نے مشورہ دیا کہ پاکستان کے مدارس کا ماحول ذرا تنگ نظر ھے، بچوں کو ساؤتھ افریقہ بھیج دیں ،، دونوں بچے ساؤتھ افریقہ سے 7 سال لگا کر آ گئے،، رمضان کا مہینہ تھا،، افطار پارٹی کے بعد فارغ ھو کر نمازِ مغرب کے لئے جا رھے تھے، رستے میں سڑک کراس کرتے ھوئے،کسی موضوع پر بات چل رھی تھی تو مولانا مودودیؒ کا ذکر ھوا،، بڑے بھائی نے فوراً فتوی دیا کہ مودودی کوئی عالم تھا، وہ تو گمراہ آدمی تھا،، میں تو سڑک کے بیچوں بیچ کھڑے کا کھڑا رہ گیا،اگر دوسرا آدمی دھکا نہ دیتا تو مین گاڑی کے نیچے آ گیا ھوتا !

اس کا مطلب یہ ھوا کہ اس نصاب تعلیم اور اس تنگ نظری کے حامل اساتذہ کے زیر نگرانی مدارس آپ لندن،واشنگٹن،نیو یارک یا جوھانسبرگ میں بنا لیں اور کتنی ھی پڑھی لکھی فیملی کا بچہ ان کے حوالے کر دیں وہ آپ کو ایسا ھی ایک تنگ نظر عالم تیار کر کے پکڑا دیں گے جو سب سے پہلے اپنے والد کی گمراھی کا فتوی دے گا ،،

یہ ایسی حقیقت ھے جس سے کوئی مفر نہیں ھے،،  اور اس کو بدلنے کی بجائے اس کے ساتھ جینا سیکھنا پڑے گا،، شوگر کی بیماری کی طرح یہ دائمی مرض ھے،، یہ ھاسپٹل ڈیزیز ھے جو ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو لگتی ھے،،یہ تنگ نظری کا مرض مدارس کا مرض ھے جو اساتذہ اور طلباء کو لگتا ھے،، علاج اس لئے مشکل ھے کہ یہ قران و حدیث پڑھ پڑھ کر ھی تو بھرا جاتا ھے !

ھمیں شیخ جی آپ جیسے اللہ والوں سے اللہ بچائے !

June 30, 2013 at 12:48pm

انسان کے خالق نے فرمایا ھے کہ انسان تھُڑ دلا پیدا کیا گیا ھے! بات کچھ یوں ھے کہ جو شخص بھی چار سجدے کر لیتا ھے،،جنت کے دروازے کے سامنے بیریئر لگا کر کھڑا ھو جاتا ھے،کہ میرے پیمانے پہ پورا اترو گے تو جنت جا سکو گے ! علامہ ابنِ جوزی نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف تلبیسِ ابلیس میں لکھا ھے کہ سب سے بدترین اور خطرناک ترین تکبر نیکی کا ھے،، اس میں انسان اپنے اعمال کی بنیاد پر خود کو کنفرم جنتی سمجھ کر اللہ کی رحمت سے بے نیاز ھو جاتا ھے اور دوسروں کو اعمال کے پلڑے میں تول کراللہ کی رحمت سے مایوس کرتا پھرتا ھے،، وہ یہ بھول جاتا ھیں کہ انسان کا اللہ سے تعلق ماں باپ کا سا ھے،، آجر اور اجیر کا !نہیں ماں باپ تخلیق میں ایک سبب ھونے کی وجہ سے اولاد پر کتنے رحیم ھوتے ھیں،،کہاوت ھے کہ قاتل کی سب سے مخلص وکیل اس کی ماں ھوتی ھے،،، ساری آسمانی کتابوں میں اس کی مثال باپ کی محبت سے دی گئی ھے اور حدیث میں 70 ماؤں کی ،، کہیں مسیح علیہ السلام کسی گنہگار سے نرمی سے پیش آئے تو شاگرد مچل گئے کہ یہ تو گنہگار ھے ،،آپ اس پہ اتنی شفقت کا سلوک کیوں کرتے ھیں،، فرمایا ابھی ابھی میں نے تمہارا کوڑھ درست کیا ھے،لوگ تمہارے پاس کھڑا ھونا گوارہ نہیں کرتے تھے،، تمہارے بدن کو کوڑھ تھا ،،اس کی روح کو کوڑھ ھے،یہ بھی بیمار ھے اور تیرے جتنی شفقت کا مستحق،، کہیں عمرؓ جنازے کے سامنے کھڑے ھو کے ضد کر بیٹھتے ھیں کہ ائے اللہ کے رسول ﷺ یہ شخص اس قابل نہیں ھے کہ اپ اس کا جنازہ پڑھائیں، کسی اور کو یہ کام سونپ دیجئے ،، آپ نے رُخِ انور کو عمر فاروقؓ کی جانب سے پھیرا اور حاضرین سے سوال کیا” تم میں سے کسی نے اسے اھلِ اسلام جیسا کوئی کام کرتے پایا ھے؟ ایک شخص نے جواب دیا ائے اللہ کے رسولﷺ اس نے ایک دن لشکر میں رات کا پہرہ دیا تھا ،آپ نے فرمایا صفیں درست کر لو اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھا دی،، جنازے کے بعد آپ ﷺ نے اس کا سر اپنی گود میں رکھا ،، ماتھے پر پیار سے ھاتھ پھیرا اور فرمایا” تیرے ساتھی سمجھتے ھیں کہ تو جہنمی ھے،حالانکہ میں گواھی دیتا ھوں کہ تو جنتی ھے،، اللہ اللہ مصطفیﷺ کو کیا دکھا دیا گیا تھا جو عمرؓ نہ دیکھ پائے تھے،، امام بخاری ھی یہ روایت بھی لائے ھیں کہ ایک شخص تھا جو غیر سنجیدہ سا تھا،کسی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیتا تھا،، مگر جب کبھی نبی کریمﷺ کو پریشان دیکھتا تو کوشش کر کے کوئی حرکت یا بات ایسی کر دیتا جس پر آپ مسکرا دیتے اور آپ ﷺ کا موڈ خوشگوار ھو جاتا،، یہ صاحبؓ شراب کے عادی تھے اور کئی بار کوڑے کھا چکے تھے،، ایک دفعہ کوڑے کھا کے فارغ ھوئے تو ایک شخص نے کہا’ اللہ اسے رسوا کرے یہ کتنی دفعہ اس جرم میں لایا جاتا ھے،، آپ ﷺ نے ناراض ھو کر فرمایا ،،اپنے بھائی کے مقابلے مین شیطان کی مدد مت کرو،، اللہ کی قسم میں اسے اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرنے والا پاتا ھوں،، نبی کریم ﷺ کا یہ فرمانا تھا کہ اس شخص کی دنیا تبدیل ھوگئی،،وہ جسے کوڑے شراب نہیں چھڑا سکے تھے،، نبیﷺ کے ایک جملے نے اس کی شراب چھڑا دی،، پھر زندگی بھر پلٹ کر شراب کو منہ نہیں لگایا،، علامہ بدر عالم میرٹھیؒ نے ترجمان السنۃ میں اس پر سرخی جمائی ھے "گنہگار بھی اللہ اور رسولﷺ سے محبت کرنے والا ھو سکتا ھے،،، اختر شیرانی کے نام سے برِ صغیر میں کون واقف نہیں ! کس پائے کے شاعر اور کس درجے کے شرابی تھے! حکیم سید محمود احمد برکاتی صاحب ان کے بارے میں ایک وقعہ بیان کرتے ھیں کہ ، ان کے چچا جو کہ ایک مدرسے کے اخراجات بھی برداشت کرتے تھے،، انہوں نے ایک مشاعرے کا اھتمام کیا،، حکیم ؐمحمود لکھتے ھیں کہ شیرانی صاحب کی وجہ سے ھم سارے نوجوان اسٹوڈنٹ بھی شاملِ مشاعرہ تھے اور دینی مدرسے کے نوجوان بھی ھماری دیکھا دیکھی شریکِ محفل تھے،، اختر شیرانی جو شراب سے زیادہ دیر دور نہیں رہ سکتے تھے،، مگر مدرسے کے اساتذہ اور طالبِ علموں کے احترام میں اپنی کُپی جس کو ادھا کہتے تھے، مردانے کے ایک طاق میں چھپا کر آگئے،، تھوڑی تھوڑی دیر بعد اٹھ کر جاتے اور چُسکی لگا کر واپس آ جاتے ! عام لوگوں نے تو اس طرف کوئی توجہ نہ دی مگر ایک مولوی صاحب یہ بات تاڑ گئے، ، ان کی رگِ جہاد جو پھڑکی تو طاق کی جانب روانہ ھوئے،،ادھر شیرانی صاحب کی چھٹی حس نے بھی خبردار کیا اور وہ مولوی کے پیچھے لپکے،، مولوی صاحب ادھا اٹھا کر بھاگ پڑے،، اور پیچھے پیچھے شیرانی صاحب بھی،، مولوی صاحب بھاگ کر مسجد کی سیڑھیاں چڑھے اور مرکزی دروازے پر جا کھڑے ھوئے،، ان کے پیچھے اختر شیرانی بھی سیڑھیاں چڑھنے لگے ،،مگر پہلی سیڑھی پر قدم جو رکھا تو یوں لگا جسیے ان کو بجلی کا جھٹکا لگا ھے،،70 سال پرانی بات ھے مگر منظر آج بھی اسی طرح دل و دماغ پر نقش ھے،، وہ کچھ دیر تو سکتے کی کیفیت مین رھے ،لگتا تھا ان کے پاؤں کسی چیز نے جکڑ لیئے ھیں !وہ جھرجھری لے کر الٹے پاؤں سیڑھی سے اترے اور کرارے لہجے میں بولے مولوی صاحب نیچے آ جاؤ،، شرم کرو شرم،،اس ناپاک بوتل کو لے کر مسجد مین داخل ھو گئے ھو،، مجھے دیکھو ایک سیڑھی سے زیادہ چڑھا نہیں گیا،،اللہ مجھے اس سیڑھی پر چڑھنا معاف فرمائے،، اس کے بعد ایک خاص کیفیت میں چچا جان کی طرف متوجہ ھوئے ” اظہر میاں ! آپ لوگ طلبہ کو دین کی تعلیم دیتے ھیں تو ان کی تربیت بھی کیا کیجئے !! شراب ناپاک ھے ، حرام ھے،گندی چیز ھے ،میں سیاہ کار شرابی ھوں،مگر شراب کی حرمت کا اسی طرح قائل ھوں جس طرح آپ یہ طلبہ اور علماء ھیں،، بزرگوں کی تربیت کام آئی ھے، میں گنہگارمدھوشی میں بھی مسجد کی سیڑھیاں نہیں چڑھ سکا،، اور یہ مولوی صاحب شراب لئے مسجد میں داخل ھو گئے،، اب مولوی صاحب بھی نیچے اتر آئے،وہ حیران حیران اور سہمے سہمے سے تھے ! انہوں نے کوشش کی کہ وہ بوتل شیرانی صاحب کو لوٹا دیں،،مگر شیرانی صاحب نے دبنگ لہجے میں فرمایا،، مولوی صاحب اس بوتل کو اب نالی مین پھینک دو،، اس نے اللہ کے گھر کی بے حرمتی کر دی ھے، اب یہ میرے قابل نہیں یہ کہا اور بوتل مولوی صاحب سے لے کر زور کے ساتھ دیوار پر مار کر توڑ دی،، ساتھ وہ زار و قطار رو بھی رھے تھے،، عجیب ایمان بھری کیفیت پیدا ھو چکی تھی،، وہ دن تھا کچھ ایسا قبولیت کا تھا،اور اللہ کو شیرانی صاحب کا یہ ادب کچھ ایسا بھایا کہ پلٹ کر شراب کی طرف دیکھا تک نہیں،، یہ قبولیت کے لمحے ھوتے ھیں،، اور اللہ کا مزاج شاہانہ مزاج ھے،، ذرا سی بات پہ بے بہا عطا کر دیتا ھے،، حدیث قدسی ھے کہ ایک نیک صاحب روزانہ ایک بدکار کے اس سے گزرتے اور اسے اس برائی سے منع کرتے،مگر وہ صاحب تھے کہ باز آ کر نہ دیتے، آخر اس نیک ادمی کو بہت غصہ آیا ،اس نے غضبناک ھو کر فرمایا” اللہ کی قسم اللہ تجھے کبھی نہیں بخشے گا” نبی کریم ﷺ فرماتے ھیں کہ اس کا یہ کہنا تھا کہ اللہ نے دونوں کی جان قبض کر لی اور اپنے حضور ان کو پیش کر لیا،، بدکار سے فرمایا ” تو میری رحمت کے ساتھ جنت میں جا،، اور نیک سے فرمایا تجھے کس چیز نے یہ جرأت بخشی کہ تو مجھے اپنی قسم کا پابند کرے؟ اور اسے جہنم میں ڈال دیا گیا،،، نیکی اچھی چیز ھے مگر وہ ھمارے لئے ھے،، اللہ پر کوئی احسان نہیں ھے کہ جس کی بنیاد پر انسان شوخا ھو جائے،، انسان کو انسان کے خالق کے حوالے رھنے دو،، ان کے درمیان مت آؤ ،، اللہ کی بے نیازی کچل کے رکھ دے گی! متفق علیہ حدیث بطاقہ تو سب کو یاد ھوگی،، وہ شخص جس کے اعمال نامے کے 99 پرنٹ نکلیں گے جو مشرق سے مغرب تک ھوں گے ،،اور سارے برایوں سے بھرے ھوں گے،، بندہ ان کو دیکھ کر خود ھی جہنم کی طرف چل پڑے گا مگر اللہ اسے روک کر کہے گا تیرا تھوڑا سا حساب باقی ھے،اسے چکا کر جاؤ،،آج کسی کا حق نہیں مارا جائے گا،، پھر ایک پرزہ( بطاقہ ) نکالا جائے گا جس پر کلمہ طیبہ لکھا ھو گا جو کہ اس شخص نے بڑے خلوص سے پڑھا ھوا ھو گا،، فرمایا جائے گا،،ان 99 اعمال ناموں کے برابر اس بطاقے کو رکھ دو ،، وہ پرزہ ان تمام99 عمل ناموں سے وزنی ثابت ھو گا ! حشر کا دن حشر کا دن ھو گا،،بھائیو آنے تو دو،، حشر کے فیصلے دنیا مین ھو ھی نہیں سکتے،، مسلم شریف کی آخری حدیث،، لو لم تذنبوا ،، لذھب اللہ بکم، ،، اگر گناہ تم سے سر زد نہ ھوں تو اللہ تم کے لے جائے،، مار دے،،ختم کر دے،، پھر ان لوگوں کو پیدا فرمائے جن سے گناہ سرزد ھوں ،،پھر وہ اللہ سے توبہ کریں اور اللہ ان کو معاف فرمائے ! اپنی نمازوں کو دوسروں کی جنت کا بیرئیر نہ بنائیں،، دعا کیا کرین اللہ پاک ھماری نیکیاں قبول فرما لے،، اور گناہگار کی دعا میں شامل ھو جایا کریں وہ بڑے خلوص سے دعا مانگتا ھے ،کیونکہ مریض جس طرح سچا روتا اور تڑپتا ھے،، نقل اتارنے والا ایسا نہیں ھو سکتا

چاند کو علماء کی پہنچ سے دور رکھیں !

June 30, 2013 at 7:07am

الحمد للہ رب العٰلمین،والصلوۃ والسلام علی اشرف الانبیاء والمرسلین و علی آلہ و اصحابہ و اھلِ بیتہ اجمعین ! اما بعد ! بہت مشکل سوال ھے اور سوال ھوتا ھی وھی ھے جو مشکل ھو،، جو آسان ھوتا ھے وہ نورا کشتی ھوتی ھے،، تو جناب وہ مشکل سوال یہ ھے کہ پاکستان کے کتنے صوبے ھیں ؟ آپ نے اپنے ھاتھ پر ھاتھ مار کر قہقہ لگایا ھو گا کہ ‘ مولوی پاگل ھو گیا ای اوئے” مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیونکہ سالن جل بھی جائے تو سالن ھی کہلاتا ھے ، دال نہیں ھو جاتا،، آپ کا جواب ھو گا کہ پاکستان کے پانچ صوبے ھیں،، سندھ ،بلوچستان، پنجاب،خیبر پختونخواہ،اور گلگت بلتستان،، جی نہیں !! آپ کا جواب غلط ھے ،، آپ اپنی معلومات کو ریفریش کریں،، پاکستان کے چھ صوبے ھیں، میں آپ کو گنوا دیتا ھوں،اگر آپ کو اس پر اعتراض ھو تو دلیل کے ساتھ اختلاف بھی کر سکتے ھیں! سندھ،بلوچستان،پنجاب،گلگت بلتستان،خیبر پختونخواہ اور قاسم مسجد،، یہ سب پانچ صوبے ایک طرف اور صوبہء قاسم مسجد دوسری طرف،، !! رمضان کی آمد آمد ھے اور خیبر پختونخواہ سے خدشات کا شکار خواتین و حضرات کے تشویش زدہ سوالات کا تانتا بندھا ھوا ھے کہ رمضان اور عید کس کے ساتھ کریں؟ قاسم مسجد کے ساتھ یا حکومت کے ساتھ؟؟ آپکے نزدیک عمران خان حکومت کا سب سے بڑا مسئلہ بجلی ھو گا،، تعلیم اور علاج ھو گا،، نیٹو سپلائی ھو گا،، ڈرون کا بندوبست ھو گا،، مگر میرے نزدیک عمران کا سب سے بڑا اور کڑا امتحان چاند پر قابو پانا ھو گا،، کہ یہ کہیں آگے پیچھے نہ ھو جائے، !! ویسے اسے سے بڑا لطیفہ بھی کوئی نہیں کہ ھم دعوی تو رکھتے ھیں کہ ھم وہ نظام رکھتے ھیں جو پوری دنیا کے مسائل حل کر سکتا ھے،مگر خود ھم سے ایک چاند کا مسئلہ حل ھو کے نہیں دے رھا،، طے شدہ امور کو بھی متنازعہ بنانے میں ھمیں یدِ طولی حاصل ھے،،اگرچہ اللہ پاک نے قرآن کریم میں گارنٹی دی ھے کہ سورج اور چاند دونوں کو ھم نے ھی حساب کتاب( کیلکولیشن ) سے بنایا ھے،، اور یہ حساب بھی عام حساب نہیں بلکہ دقیق حساب’ حسبان ” ھے ،،مگر قاسم مسجد والوں کو اللہ پر بھی اعتبار نہیں،، ان کا چاند ھر بار پری میچیور ابارشن کے تحت پیدا ھوتا ھے،، اگر سورج کے معاملے میں 20 سال کا کیلنڈر ھر مسجد میں لٹکا رکھا ھے تو چاند کیا سب کانٹریکٹ پہ چائنا سے بنوایا ھے جو اس کی موومنٹ قابلِ اعتبار نہیں؟ یہود بھی چاند کے ساتھ عبادت شروع کرتے ھیں سو سالہ کیلنڈر بنا رکھا ھے،، ساری دنیا کے یہودی اسی کے تحت ایک ھی دن روزے شروع کرتے اور ایک ھی دن عید کرتے ھیں اور یوں اپنی یکجہتی کا اظہار کرتے ھیں،،مگر ھم ھیں کہ ھر سال اپنی جگ ھنسائی کا اھتمام کرتے ھیں،، غیر مسلموں کو بھی پتہ ھوتا ھے کہ اس ڈگری پہ چاند نظر نہیں آ سکتا اور مسلمانوں کا ملا جھوٹ بول رھا ھے،،مگر اسے کیا پتہ کہ یہ ‘ مقدس جھوٹ” ھے جو صرف کوئی مقدس ھی بول سکتا ھے،، چاند مولوی کا مسئلہ ھے ھی نہیں،،یہ ماھرین فلکیات کا مسئلہ ھے ! ھماری چاپلوس حکومتوں نے مذھبی ووٹ بینک کو متوجہ کرنے کے لئے رشوت کے طور پر اسے مولوی کو دیا ھے ،اور یہ کام ضیاء صاحب نے بدرجہ اتم کیا ھے،، مگر اب کمبل چھوڑ کے نہیں دے رھا ! اس مسئلے کا حل کیا ھے؟ اس مسئلے کا حل یہ ھے کہ خلافت قائم کی جائے،،، مدینے کو مذھبی دارالخلافہ قرار دیا جائے،،جس طرح مدینے کی بیعت ساری اسلامی دنیا کی بیعت سمجھی جاتی تھی،اسی طرح مدینے والے جس دن چاند دیکھیں،، اس دن جتنی اسلامی دنیا میں رات ھے وہ سب اس کے ساتھ شریک ھوں،باقی دنیا اگلے دن خود بخود ان کا اتباع کرے،، اس پر باقاعدہ جامعہ ازھر کا فتوی آ چکا ھے اور دلیل میں انہوں نے وھی صحیح حدیث پیش کی ھے،، صوموا لِرؤیتہ و افطِروا لرؤیتہ،، اس( مدینے) کے چاند دیکھنے پر روزہ شروع کرو،،اور اس کے دیکھنے سے عید کرو،، گویا وہ ” ہ” کی ضمیر مدینے کو قرار دیتے ھین،چاند کو نہیں ! ویسے بھی پتے کی بات یہ ھے کہ زمین پر تو مسلمانوں کو انگریزوں نے لکیریوں میں بانٹا ھے،،ملکوں مین تقسیم کیا ھے،، یہ دین میں لکیریں کس نے ماری ھیں؟ امت کی وحدت کے لئے ایک مقدس مرکز تو قائم کرو،، کیا اس سے بھی انگریز نے روکا ھے؟ آخر لندن والے بھی تو سعودیہ کے ساتھ رمضان اور عید کرتے ھیں،، پاکستانی پاکستان کے ساتھ کرتے ھیں،، پھر یہ 3 گھنٹے کے سفر پر پاکستان کے علماء سعودیہ کے ساتھ اپنا رمضان رکھ لیں گے تو قیامت آ جائے گی؟ عام آدمی میں جرأت ھے تو علماء یہ جرأت کیوں نہیں کرتے،،؟ مگر اس قسم کے فیصلے سے امت میں بے شک وحدت پیدا ھو ،، علماء کے ھاتھ سے سیادت نکل جاتی ھے،، وہ جو مزہ حبیب پلازے پہ کیمروں کی فلیش میں اور لائیو کوریج میں ھے وہ سال میں دو ھی تو دن ھوتے ھیں،، ان سے بھی محروم ھونا کون پسند کرتا ھے،، نتیجہ یہ ھے کہ ،، اس سال بھی پختونخواہ والوں کے روزے اور عید بدمزہ ھو گی،، اگر وحدت پیدا کرنی ھے تو چاند کو علماء کی پہنچ سے دور رکھیں،، اور جن کا کام ھے ان کو سونپ دیں ! وما علینا الاۜ البلاغ المبین

اسلام، قران اور انسان ! -1

April 16, 2013 at 12:18am

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمدُ للہ رب العالمیین،والصلوۃ والسلامُ علی اشرف الانبیاء والمرسلین،، و علی آلہ و صحبہ اجمعین،

اما بعد ! اسلام  اپنی فائنل شکل میں مکمل ھو چکا ھے،اور اسلام کے بعد اب دنیا کے لئے کوئی اور آسمانی نظام حیات دستیاب نہیں ھے،، اللہ پاک انسانیت سے الوداعی خطاب فرما چکا ھے اور وہ قرآن حکیم کی شکل میں محفوظ و موجودھے،اور اللہ کی ضمانت سے قیامت تک موجود رھے گا ، اللہ پاک جو کہ کائنات کا خالق ومالک،اور مستقبل کا جاننے والا ھے، وہ قیامت تک انے والے انسانوں اور ان کےکارناموں اور صلاحیتوں،نیز خامیوں اور خوبیوں سے بخوبی آگاہ ھے ، جس چیز کو ھم کرکے آگاہ ھوتے ھیں وہ اس چیز سے ھمارے کرنے سے پہلے بھی واقف ھوتا ھے،، ماں باپ نےھمیں پیدا کر کے اور پال کے جانا ھے،،جب کہ اللہ سبحانہ و تعالی نے ھمیں جان کرپیدا فرمایا ھے،،جب ھم آدم علیہ السلام کی مٹی میں ایک ذرہ تھے وہ اس وقت بھی ھم سے واقف تھا اور جب رحمِ مادر میں جنین تھے وہ تب بھی ھم سے ایسا ھی واقف تھا جیساآج ھے اور جب ھم خاک ھو جائیں گے تب بھی اس کے علم میں اسی طرح زندہ و تابندہ موجود رھیں گے،،وہ کسی چیز کو بھولتا نہیں،، اس کے علم میں کمی اور زیادتی نہیں ھوتی، نہ حوادث سے تغیر پذیر ھوتا ھے،عقلیں اس کی کنہہ کا احاطہ کرنے سے عاجز ھیں،اور سوچ درماندہ ھے،گمان اس کے پاس تک نہیں پھٹکتا، کوئی وصف بیان کرنے والا اس کےاوصاف بیان نہیں کر پایا اور کوئی بولنے والا آج تک اس کی مکمل تعریف نہیں کر پایا، کوئی اس کی نعمتوں کا احاطہ نہیں کر پایا اور نہ کوئی بدلہ دے پایا،،اس رب جلیل کی رحمت کاانسانیت پر سب سے بڑا احسان قرآن کی صورت میں  ھمارے پاس ھے اور اسکی نعمتوں کا اتمام  اسلام کی شکل میں ھمارے پاس موجود  ھے

سبوخ سید کے نام ! محبت کیا ھوتی ھے،کیسی ھوتی ھے ؟

July 28, 2013 at 12:21pm

صبح صبح سحری کے وقت اپنے ایک مہربان صحافی دوست کا لطیفہ موصول ھوا، لطیفہ کچھ یوں ھے کہ بیوی نے شوھر سے گلہ کیا کہ آپ کو مجھ سے محبت نہیں ھے ! جس پر شوھر نے پلٹ کر جواب دیا ،بچے کیا عامر لیاقت کے پروگرام سے گفٹ میں لائی ھو؟ پہلے یہ لطیفہ کچھ یوں تھا کہ’ بچے کیا گوگل سے ڈاؤن لؤڈ کیئے ھیں؟ بات لطیفے کی نہیں، بات ھماری نفسیات کی ھے،،جب بھی کسی بیوی نے شوھر سے گلہ کیا ھے کہ اسے اب بیوی سے محبت نہیں رھی تو شوھر نے بچے پکڑ کر اس کے سامنے ثبوت کے طور پر کھڑے کر دئیے،،یا ان کی طرف اشارہ کر دیا ! کیا بچے پیدا کرنا محبت کی نشانی ھے یا کیا بچے محبت کا ثبوت ھیں،، یا کیا جنسی تعلق محبت کا ثبوت ھے ؟؟؟؟ یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ھے،، بچے درجن بھی ھوں تو ضروری نہیں کہ ان میاں بیوی کو آپس مین محبت بھی ھو، ، جنسی جذبہ اور جنسی تعلق ایک حیوانی جذبہ ھے جو تناسل کے لئے بالقوہ رکھا گیا ھے،،جنسی تعلق میں انسان اور حیوان صرف ایک ھی جذبے، ایک ھی ضرورت کے غلام ھوتے ھیں، دونوں میں انیس ،بیس کا فرق بھی نہیں ھوتا، اس لئے جنسی تعلق اور افزائشِ نسل کو محبت نہ کہا جا سکتا ھے ،نہ محبت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ھے،،ھماری اسی غلط فہمی کا نتیجہ ھے کہ گھروں سے محبت کا جنازہ نکل چکا ھوتا ھے اور ھم اولاد کو دیکھ دیکھ کر محبت کی وافر موجودگی کا یقین کیئے بیٹھے ھوتے ھیں،، پھر محبت کیا ھے ؟ محبت ایک جذبہ ھے، جو اپنے اثرات اور نشانیاں رکھتا ھے،، اس کے شواھد ھوتے ھیں،، محبت اپنے محبوب کے سامنے سرنگوں رھتی ھے،، محبوب کی مرضی میں اپنی مرضی گم کر دیتی ھے،،وہ محبوب کو خوش کر کے اس کی خوشی میں سے اپنی خوشی کشید کرتی ھے،،اس میں انا کوئی نہیں ھوتی،، اس میں اتھارٹی کی طلب نہیں ھوتی،، وہ اپنے تمام حقوق لکھ کر محبوب کو دے دیتی ھے اور پھر کبھی پلٹ کر صلہ طلب نہیں کرتی،، وہ محبوب کی ناراضی برداشت نہیں کرتی،، وہ پوری طرح اپنے محبوب کے رنگ میں رنگ جاتی ھے،، وہ تو حکم کا انتظار بھی نہیں کرتی وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کے محبوب کی پسند کا اندازہ کرتی اور اسے کہے بغیر پورا کرتی ھے،، جب گھروں میں مطالبے ھونے لگیں اور اپنے اپنے حقوق کا رونا رویا جائے ،ھر ایک اپنے دکھ سنانے کے چکر مین ھو،اپنی قربانیاں گنوانے کو بے قرار ھو تو سمجھ لیں محبت اس گھر سے کوچ کر گئی ھے،،اب اس کی لاش کی چیر پھاڑ جاری ھے،، اللہ جب انسان سے محبت کرتا ھے تو اپنی اتھارٹی بھول جاتا ھے،، اپنی شان کے ساتھ  سماء دنیا پر تنزل فرماتا ھے ،،بندہ چل کے آتا ھے تو وہ دوڑ کر آتا ھے،، معاف کرنے پر تلا بیٹھا ھوتا ھے ، خود معاف کرنے کے بہانے فراھم کرتا ھے اورسب سے بڑی بات کہ کائنات میں نہ سما سکنے والا قلبِ انسان میں ٹھکانہ بنا لیتا ھے، جن گھروں میں محبت ھوتی ھے وھاں سزا نہیں ھوتی،، معافی ھوتی ھے،اور معافی مانگنے کا انتظار بھی نہیں ھوتا، عورت کے لیئے سب سے بڑی سزا اس کے شوھر کا ناراض ھو جانا ھے بشرطیکہ  اسے شوھر سے محبت ھو،جسمانی مار تو طلاق کی پہلی سیڑھی ھے ! علماء اللہ سے اپنی محبت کے ثبوت میں نماز روزہ پیش کرتے ھیں،جس طرح بیوی کی محبت کے ثبوت میں شوھر بچے پیش کرتا ھے! جبکہ نماز پڑھنے والا ضروری نہیں اللہ سے محبت بھی کرتا ھو،،وہ بھی نمازی ھی ھیں جن کو ویل کی دھمکی دی گئی ھے اور وہ بھی نمازی ھی ھو گا جس پر بخاری کی رویت کے مطابق جہنم بھڑکائی جائے گی،، نماز مسلمان کی نفسیاتی ضرورت ھے،، اصل بات دل کی ھے کہ نماز کے علاوہ بھی دل محبوب کی یاد میں غرق ھو، اور بار بار اسکی گلی کا خیال آتا ھو،، ارشادِ مصطفی ﷺ ھے کہ جو سات بندے قیامت کے دن اللہ کے عرش کے سائے کے نیچے ھوں گے ،ان میں وہ بھی ھو گا جس کا دل مسجد میں اٹکا ھو گا،، بہت سارے حج پر جاتے ھیں مگر ضروری نہیں ان کو محبت بھی ھو،، اپنی جنت کا چکر ساتھ ساتھ ھے،ضرورت اور مطلب پرستی ساتھ ساتھ چلتی ھیں،، محبت ایک الگ جذبہ ھے،جس کی طلب اللہ پاک کو ھے،، والذین آمنوا اشد حباً للہ،، مومن تو شدید محبت اللہ ھی سے کرتے ھیں،، مصطفی ﷺ فرماتے ھیں تم میں سے کوئی مومن نہیں ھو سکتا جب تک میں اسے اپنی اولاد ،ماں باپ اور ساری دنیا سے زیادہ محبوب نہ ھو جاؤں،، اور محبت کا ثبوت یہ ھے کہ جو تمہیں محبوب ھے وہ محبوب کی خاطر چھوڑ دو،،لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون،، جب تک محبوب کو محبوب پر قربان نہ کرو،محبت ثابت نہیں ھوتی،، ابراھیم کے دل میں اسماعیل کو بسا کر الفت ڈال کر،جب دیکھا کہ دل نے  کانٹا نگل لیا ھے، و بلغ معہ السعی،، تو چھری کے نیچے لٹانے کا اشارہ کر دیا،، اور لٹانے والا لٹا کر خلیل بن گیا،، ھمارے گھروں میں یہ منظر شادی کے ابتدائی دنوں میں اپنی جھلک دکھاتا ھے،، عورت اپنے جہیز کی چیزیں سسرال میں استعمال کرتی نظر آتی ھے،، پھر جوں جوں محبت سمٹتی جاتی ھے،چیزیں دوبارہ پیک ھونا شروع ھو جاتی ھے،، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گھروں میں صرف ورکنگ ریلیشن شپ باقی رہ جاتی ھے جس کا ثبوت بچے ھوتے ھیں،،محبت جس گھر میں ھوتی ھے وہ دنیا میں جنت ھوتا ھے، بات بات پر طلاق مانگنا اور بات بے بات طلاق دینا،، پھر فتوے لے کر رکھنا،،یہ کوئی محبت نہیں،،یہ بندہ سوچتا ھے کہ بچوں کا کیا بنے گا،،عورت بھی سوچتی ھے شریک میرے والدین کو طعنے دیں گے،،اپنا اپنا مفاد دیکھ کر گھر بسائے جا
رھے ھوتے ھیں ورنہ عورت ایسے شوھر کے ساتھ جنت میں بھی رھنے پر  راضی نہیں ھوتی،28 سال پرانی بات ھے ھمارے پڑوس میں حیدر آباد انڈیا کی ایک عورت رھتی تھی ،اس کی اپنے شوھر سے بنتی نہیں تھی، ایک تو اس وجہ سے کہ وہ بہت خوبصورت تھی شوھر اس کے مقابلے کا نہیں تھا، دوسرا وہ امیر گھرانے کی تھی،اس کا والد کویت کا شہری تھا،جبکہ سالم صاحب غریب آدمی تھے،تیسرا وہ عمر میں سالم صاحب سے بہت چھوٹی تھی اور فساد کی چوتھی وجہ یہ تھی کہ سالم صاحب کا زیادہ تر وقت گھر سے باھر سہ روزے اور چلے پر لگتا تھا،،چھوٹے چھوٹے بچوں کی لائن لگی تھی اور زینب کو سودا سلف بھی کسی سے منگوانا پڑتا تھا،، گھر میں فساد کی کیفیت تھی، رمضان کا مہینہ تھا اور عصر کے بعد کا وقت میں اندر لیٹا تھا اور زینب میری گھر والی کے پاس صحن میں بیٹھی تھی،باپردہ لڑکی تھی،اس نے اتفاقًا پوچھ لیا کہ مردوں کو تو جنت میں حوریں ملیں گی،عورت کو کیا ملے گا،میں نے اندر سے پکار کر کہا کہ عورت کو اس کا شوھر ملے گا،، اس لڑکی کی بے ساختہ چیخ نکل گئی،،بولی اللہ رے میں ساری نمازیں روزے اس موئے چھوٹی سری والے سالم کے لئے پڑھی؟ میں اب کوئی نماز نہیں پڑھوں گی،یہ سالم میرا پیچھا مر کے بھی نہیں چھوڑے گا،،خطرہ بھانپ کر میں نے اسے فوراً تسلی دی کہ وھاں سالم کا سر بڑا کر دیا جائے گا اور عادتیں ٹھیک کر دی جائیں گی ،اگر پھر بھی اسے پسند نہ ھوا تو اللہ پاک اسے انتخاب کا موقع دیں گے کہ وہ اپنی مرضی کا شوھر منتخب کر لے،،اس سے آپ اندازہ کر سکتے ھیں کہ ڈھیر سارے بچے ھونے کے باوجود وہ عورت جنت میں بھی سالم کے ساتھ رھنے کو تیار نہیں تھی،، نماز چھوڑ کر جہنم میں جانے کو تیار تھی،گویا اسے سالم سمیت گھر جہنم سے بھی بدتر لگتا تھا !! عورت سے محبت ھم شادی سے پہلے کرتے ھیں،، جب وہ ھماری محبوبہ ھوتی ھے،جب اس کی ناراضی ھماری نیند اڑا دیتی ھے،جب گھر سے نیا جوڑا اور بال بنا کر انسان نکلتا ھے اور دس چکروں کے بعد آمنا سامنا ھوتا ھے تو صرف ایک نظر پڑ جانے پر انسان سمجھتا ھے اسکی محنت کام آ گئی ھے،جن کے لئے پہنے تھے انہوں نے دیکھ لیا،، اللہ پاک فرماتا ھے،،ھر نماز میں کنگھی پٹی کر کے آیا کرو،،بن سنور کے آیا کرو،، خذوا زینتکم عند کل مسجد،، ھر نماز مین زینت اختیار کر کے آیا کرو،، اس کی وعدہ خلافی مزید آتشِ شوق بھڑکاتی ھے،،اس کا غصہ ادا لگتا ھے،،مگر شادی کے ساتھ ھی ھم افسر بن جاتے ھیں اور وہ ھماری
ملازمہ ھو جاتی ھے، اور پھر افسری کی نفسیات شروع ھو جاتی ھیں،، اب اس کا ناراض ھونا اس کا حق نہیں بلکہ ھماری انسلٹ ھوتی ھے،، اب ھم محبت نہیں تابعداری چاھتے ھیں،، پھر اس تابعداری کو ھم ڈنڈے سے پیدا کرتے ھیں،، اور گھر میں ایک چلتی پھرتی لاش ھماری بیوی اور ھمارے بچوں کی ماں کہلاتی ھے !!

پیــار دی کـــہانی لــوکــو کــتھے آ کے رُک گئی ! ھاسیاں تو شروع ھوئی ،ھنجواں تے مُک گئی !

گونگی بدمعاشی !

August 25, 2013 at 10:10pm
  • اللہ پاک نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا ھے کہ،، دنیا میں صبر کی جزاء جنت ھے” ادخلوا الجنۃ بما صبرتم” اور دوسری جگہ فرشتے شاباش دیتے ھوئے کہتے ھیں ” سلٰمٓ علیکم بما صبرتم،، صبر کی بدولت آج تمیں سلامتی نصیب ھوئی ھے،، دوسری جانب فرمایا، آخرت میں صبر کرنے کا کوئی فائدہ نہیں،، فان یصبروا فالنارُ مثوی لھم،، اگر وہ صبر کریں گے بھی تو آگ ھی ٹھکانہ ھے ان کا،، اور کافر ایک دوسرے کو یہ ھی کہیں گے،، سواءٓ علینا أجزعنا ام صبرنا ،ما لنا من محیص،، ھم صبر کریں یا جزع فزع کریں برابر ھے،، جان چھوٹنے کی کوئی سبیل نہیں ! عورت اگر صبر کرے تو یہ گھر بسانے کا ایک سنہری اصول ھے، وقتی زیادتیاں برداشت کرے ،انہیں اینٹ کی طرح اپنے صبر کی بھٹی میں پکائے ،اینٹ بنائے اور ان اینٹوں سے اپنا مستقبل تعمیر کرے،، ایک وقت آئے گا کہ شوھر ان زیادتیوں کو اسی طرح تسلیم کرے گا ،جس طرح یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے بھرے دربار میں ان کی عظمت کا اعلان کیا تھا،، یوسف علیہ السلام کے اس قول کے جواب مین کہ "انہ من یتق و یصبر ،فان اللہ لا یضیع اجر المحسنین،،” جو بھی پرھیزگاری کی روش اختیار کرتا ھے اور صبر سے کام لیتا ھے تو اللہ پاک احسان والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا،، بھائیوں نے اخر قسم کھا کر اعتراف کر لیا کہ نہ صرف باپ کا یوسف کو پیار میں ترجیح دینا درست تھا، بلکہ یہ کہ اصلاً یہ ترجیح اللہ کی طرف سے دی کئی تھی،،تاللہ لقد آثرک اللہ علینا،و ان کنا لخطئین” اللہ کی قسم اللہ نے آپ کو ھمارے اوپر فوقیت عطا فرمائی ھے اور یقیناً ھم ھی خطا کار تھے،، مرد چونکہ اپنی اجارہ داری اور چودھراھٹ چاھتا ھے، لہذا عورت کی خاموشی اس کی اس حس کی پیاس بجھاتی ھے، جس سے وہ سکون محسوس کرتا اور گھر کاماحول بھی پرسکون ھو جاتا ھے ، لیکن مرد کی خاموشی اور صبر عورت کو مطمئن نہیں کرتا بلکہ اس کو مشتعل کرتا ھے،کیونکہ وہ شور شرابا اپنی چودھراہٹ کے لئے نہیں کرتی بلکہ مرد کو اذیت دینے کے لئے کرتی ھے، اور جب مرد اس کے شور شرابے پر کسی تکلیف کا اظہار نہیں کرتا تو وہ اسے اپنی انسلٹ سمجھتی ھے اور مزید مشتعل ھو جاتی ھے، میرے عزیز علی طارق کی وال پر ایک حقیقت درج تھی جسے انہوں نے لطیفے کا رنگ دیا ھوا تھا، مگر میں حیران ھوں کہ ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن پہلے ان کی شادی ھوئی ھے، مگر حسب عادت انہوں نے گھریلو زندگی پر بھی پی ایچ ڈی کرلی ھے،یوں ان کے ایم -اے اور پی ایچ ڈیز میں ایک اور اضافہ دیکھنے کو ملا،،لکھتے ھیں کہ عورت اپنے شوھر کو غصے سے کہنے لگی جو مسلسل پچھلے 15 منٹ سے سر نیچے کیئے اور ھونٹ سیئے بیوی کی لعن طعن سن رھا تھا اور کوئی رد عمل نہیں دے رھا تھا، کہنے لگی میں تو یہ چخ چخ ختم کرنا چاھتی ھوں مگر تیری اس گونگی بدمعاشی نے گھر کو جہنم بنا کے رکھ دیا ھے !! یوں مرد کا صبر غیر تعمیری     ھوتا ھے،، مرد کو چاھئے کہ وہ تکلیف کا اظہار کرے تا کہ عورت کے جذبہ انتقام کی تسکین ھو،، پہلے سے کریک اور ھیئر لائن فریکچر والی پلیٹیں اور گلاس کہیں اکٹھے کر کے رکھے،بہتر جگہ تو کار کی ڈگی ھے، اور ضرورت کے وقت انہیں توڑ تاڑ کر اپنے غصے کا اظہار کرتے ھوئے گھر سے نکل بھاگے،، کیفیٹیریا سے چائے پی کر واپس آنے تک ماحول پرسکون ھو گا،، گھر سے کشیدگی کے بادل چھٹ چکے ھوں گے، اب یتیموں کی طرح مسکین شکل بنا کر بیٹھ جائے،، اچانک عورت کے اندر کی مامتا جاگ اٹھے گی اور امید ھے امن کی آشا رنگ لائے گی ! ھر بچے کی تمنا ھوتی ھے کہ اس کا والد اس کی ماں کو اپنی ماں سمجھے،اور اس کو اسی ادب و احترام کی نگاہ سے دیکھے اور اس کی اطاعت کرے جس طرح وہ اپنی امی کی اطاعت کرتا ھے،، ھر بچے کو اپنی ماں مظلوم اور باپ ظالم لگتا ھے،، تا آنکہ اس کی اپنی شادی ھو جاتی ھے،، چند دن کے بعد اسے اپنے والد کے دکھ درد کا احساس ھونا شروع ھوتا ھے،اب اسے اپنے والد کے ماضی کا ایک ایک منظر اور بے بسی یاد آتی ھے  ، پہلے والدہ کی باتوں پر اسے والد کے ردعمل پر تعجب ھوتا تھا کہ اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر ابا جی ٹینشن لے لیتے ھیں، مگر اب جب اپنی بیوی کی چلتی زبان پر اسے ھفتہ ھفتہ قبض رھتی ھے تو احساس ھوتا ھے کہ بات چھوٹی ھوتی ھے مگر گھاؤ گہرا لگاتی ھے،، عموماً شادی کے بعد باپ بیٹے کا اتحاد مضبوط بنیادوں پر قائم ھو جاتا ھے اور کسی بھی گھریلو کرائسس میں باپ بہٹے کی پشت پر کھڑا ھوتا ھے،، بیوی روٹھے بھی تو بیٹا باپ کے مشورے پر دوبارہ واپس لاتا ھے جبکہ والدہ عموماً طلاق کی طرف مائل ھوتی ھے،، ظاھر سفید چادر سر پر رکھ کر گھر گھر وی آئی پی بن کر لڑکیاں دیکھنا اور سموسے کھانا کس کو اچھا نہیں لگتا؟ دل ڈھونڈتا ھے پھر وھی فرصت کے رات  دن،پھرتے رھیں گھر گھر آپا بنے ھوئے !

کیا غربت کوئی عیب ھے ؟

July 25, 2013 at 6:43am

غربت نہ تو کوئی عیب ھے، نہ کوئی غیر فطری چیزھے ، رات اور دن ،، گرمی اور سردی کی طرح امیری اور غریبی بھی اللہ پاک کی حکمت کے جوڑے ھیں،، اور یہ سب انسان کے فائدے کے لئے ھی ھیں،، یہ الگ بات ھے کہ انسان کسی حال میں بھی خوش نہیں رھتا،، آج کل رمضان کا موسم ھے اور غربت پر بہت دردناک پوسٹیں چل رھی ھیں،، ملحدین کے پیج پر جاؤ تو ما شاء اللہ ان لوگوں نے تو باقاعدہ اللہ پر مقدمہ چلایا ھوا ھے کہ وہ اگر کچھ کر سکتا ھے تو اپنی شکتیوں کو بروئے کار لاتے ھوئے غربت ختم کر کے دکھائے،،ورنہ بھوک سے خود کشیاں کرنے والوں کا خون تو کم از کم اپنے سر لے،،مسلمانوں سے سوال ھو رھا ھے کہ ایسا بے درد خدا جو لوگوں کو بھوک سے مارے جا رھا ھے،، بھلا رحیم اور کریم خدا کیسے ھو سکتا ھے،، وغیرہ وغیرہ،، میں یہ سب کچھ دیکھتا رھتا ھوں مگر سوچتا تھا رمضان کے بعد اس موضوع پر کچھ لکھوں گا ،مگر اپنے جناب حنیف سامنا صاحب کی پوسٹ پر کسان پارٹی کے راہنما کے کمنٹس کے بعد سوچا چار حرف گھسیٹ ھی لئے جائیں،، پھر پتہ نہیں حنیف ڈار یا حنیف سامنا میں سے کون ھو گا اور کون نہیں،،،، تو جناب اللہ پاک نے غربت کو اپنے سر لیا ھے،اس کو اون کیا ھے کہ یہ سب میرا ھی کمال ھے،، اگر میں سارے لوگوں کو امیر بنا دوں تو زمین میں کوئی کسی کے کام نہ آئے اور معاشرے کے سارے کام ٹھپ ھو جائیں،، یہ غربت ھے جسکی وجہ سے تمہیں کپڑے سینے کو درزی، جوتے کے لئے موچی،مکان بنانے کو مستری مزدور، تندور پر روٹی پکانے والے دستیاب ھیں،، مجبوری نے ان کو تمہارے قابو میں دیا ھوا ھے،، سورہ شوری کی آیت نمبر 27 میں اللہ پاک نے فرمایا ھے،،اگر اللہ اپنے سارے بندوں کا رزق کھول دے تو وہ زمین میں سرکش بن جائیں،، بغاوت کر دیں،، مگر اللہ ایک خاص اندازے کے ساتھ رزق تقسیم کرتا ھے،،وہ اپنے بندوں کی فطرت سے بخوبی واقف ھے ! پھر اگلی ھی سورت الزخرف کی ایت 32 میں ارشاد فرمایا ھے،،ھم نے دنیا کی زندگی میں معیشت تقسیم کی ھے اور کچھ لوگوں کو کچھ پر معاشی لحاظ سے فوقیت دی ھے تا کہ تم ایک دوسرے کو قابو میں رکھ کے اپنے کام چلاؤ،،، یعنی اگر سب لوگ ایک ھی جیسے مالی درجے کے ھوں گے تو کون کسی کی خاطر کسی کے تابع ھو کر کام کرے گا؟ اور دنیا مین ” میں بھی رانی تو بھی رانی کون بھرے گا پانی؟ ” والا معاملہ ھو جائے گا،، عملی طور پر دیکھ لیں ھمارے معاشرے مین جب کبھی کوئی ناراضگی ھو تھی تو فصلوں کی کٹائی،گاھی اور ساون میں مکان لیپنے کے موسم میں جھٹ پٹ صلح صفائیاں ھو جاتیں تھیں کیونکہ یہ کام کرنے کو چار ھاتھ سب کو مطلوب ھوتے تھے اور دونوں فریق صلح کے لئے اپنے اپنے مطلب کی خاطر تیار بیٹھے ھوتے تھے،، آج مکان پکے بن جانے اور کٹائی ، گاھی کے لئے تھریشر اور ریپر مشینوں کے آ جانے کے بعد لوگ ناراض کے ناراض مر جاتے ھیں،،زور لگا لو راضی نہیں ھوتے کیونکہ مجبوریاں ختم ھو گئی ھیں،، تصویر کا دوسرا رخ سورہ الفجر میں اللہ پاک نے دکھایا ھے کہ” جب ھم کسی بندے کا امتحان لیتے ھیں تو اس کو بے تحاشہ رزق دیتے ھیں اور وہ کہتا ھے کہ رب نے مجھے بڑی عزت دی ھے،، اور جب دوسری طرح امتحان مطلوب ھوتا ھے تو ھم اس کا رزق بہت ناپ تول کر دینا شروع کر دیتے ھیں تو وہ کہتا ھے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا،،،،پھر ان دونوں باتوں کا رد فرما دیا کہ ھر گز نہیں،،امارت عزت نہیں اک امتحان ھے کہ تم یتیموں کا خیال رکھتے ھو یا نہیں،،اور غریبی کوئی ذلت نہیں امتحان ھے،،کہ تم خواھشوں کی بھرمار میں اللہ کی حدوں کا خیال رکھتے ھو یا نہیں،، عزت اور ذلت کے فیصلے قیامت کے دن ھوں گے،، آج میڈیا نے دولت کو ایک ذات بنا دیا ھے،،جو بہت بلند ذات ھے،،اور غربت کو بھی ایک کاسٹ یا ذات بنا دیا ھے کہ غریب کم ذات ھے،، یہ تصور غلط ھے ،اسلام اس کی بیخ کنی کرتا ھے،، غریب ھمیشہ سے تھے ،مگر غربت کا ذلت سمجھنے کا مغالطہ میڈیا نے بڑھایا ھے،جسکی وجہ سے ھر کوئی ڈیپریس ھو کر خود کشی کی طرف لپکتا ھے ! نبی کریمﷺ کے زمانے میں ایک شخص مسجد کے سامنے سے گزرا تو آپ نے اصحابؓ سے پوچھا،اس شخص کے بارے میں تمہارا کیا خیال ھے،، صحابہؓ نے اپنی معاشرتی سوچ کا اظہار کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ پیسے والا بندہ ھے،، کسی کی ضمانت دے تو قبول کی جائے،، کسی کا دروازہ کھٹکھٹائے تو فوراً کھولا جائے اور رشتہ مانگے تو انکار نہ کیا جائے !! اللہ کا نبیﷺ خاموش ھو گیا،،کچھ دیر بعد ایک اور صاحب گزرے،،حضور نبی کریمﷺ نے پوچھا اس آدمی کے بارے میں تمہارا کیا خیال ھے؟ اس سارے صحابہ بیک زبان بولے کہ اے اللہ کے رسولﷺ یہ بس ایویں ھی ھے،، ضمانت دے تو قبول نہ کی جائے،،دروازہ بجائے تو کھولا نہ جائے اور رشتہ بھیجے تو رد کر دیا جائے،، بس یہ سننا تھا کہ اللہ کے رازدارﷺ نے فرمایا،،اب میری سنو،، وہ جو پہلا بندہ گزرا تھا اور تم نے اس کی تعریف میں یہ ،یہ بولا تھا،، اگر یہ ساری زمین ویسے آدمیوں سے بھر جائے تب بھی اللہ کی قسم اللہ کو یہ بعد والا ان سب سے پیارا ھے،،اگر یہ قسم کھا لے تو اللہ جھٹ اس کی قسم پوری کر دے !! پھر نبی کریمﷺ نے خود دعا مانگی ھے۔۔، اے اللہ مجھے غریبوں میں زندہ رکھ، غریبوں میں موت دے اور حشر میں غریبوں کے ساتھ اٹھا،، آپ ﷺ نے فرمایا عائشہ مجھے اللہ نے فرمایا ھے کہ محمد ﷺ احد کو سونے کا بنا دوں،،تو خرچ کرے تو کم بھی نہ ھو،،مگر میں نے ائے عائشہؓ یہ دعا کی ھے کہ ائے مجھے ایک دن دے تا کہ میں تیرا شکر ادا کروں اور ایک دن بھوکا رکھ کہ میں تجھ سے سوال کروں،، آپ ھر سال اپنی امت کے غریبوں کی طرف سے کالے رنگ کا مینڈھا قربانی دیا کرتے تھے اور فرماتے” اے اللہ یہ میری امت کے ان لوگوں کی طرف سے ھے جو قیامت تک آئیں گے اور قربانی کی استطاعت نہ رکھیں گے،، گویا امیر کی قربانی تو خدا جانے قبول ھوتی ھو گی یا ریاکاری کی دفعہ لگے گی،،مگر غریب کی ایڈوانس میں منظور شدہ پوسٹیڈ چیک کی طرح قبول شدہ ھے،، غریب کے لئے اللہ قرض مانگتا ھے ،، اور غریب کی مدد کو اپنے اوپر قرض قرار دیتا ھے،، نبی کریمﷺ نے فرمایا ھے،،میں نے جنت میں جھانکا تو اسے پریشان حال غریبوں سے بھرے پایا، اور جہنم میں جھانکا تو اسے متکبر اور پیٹ بھرے لوگون سے بھرے پایا،، مسئلہ امارت اور غربت نہیں،، مسئلہ سوچ کا ھے،،ھماری سوچ گھٹیا ھو گئی ھے،،سگا بھائی غریب ھو گا تو ھمارا رویہ اس کے ساتھ بےرخی کا ھو گا،، رشتہ لینے دینے میں ھم سگے رشتوں کو دولت میں تولتے ھیں،، جس کی وجہ سے لوگ غربت کو عیب سمجھتے ھیں ،، ورنہ جسطرح ایک ماں باپ کے بچے شکلوں مین خوبصورت اور بدصورت ھو کر بھی بہن بھائی ھی ھوتے ھیں،،اسی طرح امیر اور غریب ھو کر بھی رویوں اور میل جول میںفرق نہیں کرنا چاھئے،، جن معاشروں سے غربت ختم کر دی گئی،،کیا وہ معاشرے جنت بن گئے ھیں؟ متحدہ عرب امارات میں دیکھ لیں،،کوئی لوکل غریب نہیں ھے،،سر کے اوپر سے بھی دولت برس رھی ھے اور پاؤں کے نیچے سے بھی،، پھر ان کو غریب امپورٹ کرنے پڑے،کیوںکہ غریب معاشرے کی جینویئن ضرورت ھے،،اس کے بغیر کوئی ملک یا معاشرہ نہیں چل سکتا،، اب کوئی فلپین سے امپورٹ کیا گیا،،کوئی بنگلہ دیش سے،، کوئی سری لنکا اور کوئی پاکستان سے،،، آج امارات مین دولت ھے مگر کوئی کلچر نہیں ھے،، بچوں کو سریلنکی زبان زیادہ آتی ھے اور عربی کم۔۔،، ان کے کلچر کا بیڑہ غرق ھو گیا ھے،، اگر ان کے اپنے غریب ھوتے تو یہ کچھ نہ ھوتا،، باقی قباحتیں اپنی جگہ پر ھیں،،

مگر لوگوں کے روئیے کا شکوہ تو ساغر صدیقی بھی کر گیا ھے کہ

میری غربت نے اڑایا ھے میرے فن کا مذاق!

اور تیری دولت نے تیرے عیب چھپا رکھے ھیں

 

یہ سوشلسٹ لوگ نبیﷺ کی تبلیغ اور اسلامی انقلاب کو بھوکوں کی بغاوت ثابت کرنا چاھتے ھیں،، حالانکہ نبیﷺ رائل فیملی سے تعلق رکھتے تھے ،، اعلانِ نبوت سے پہلے آسودہ حال تھے،،تبلیغ کے دوران سب کچھ لگا دیا،، حاکم بن کے بھی مالی طور پر کوئی فائدہ نہیں اٹھایا،،2، 2 ماہ گھر چولہا نہیں جلتا تھا،،اور کئی دن فاقہ ھوتا تھا،، بھوک سے روزہ رکھ لیتے تھے،،اور ھدیہ آنے پر بعض دفعہ خود بھی روزہ افطار کر دیا اور ازواج کو بھی افطار کرا دیا،، اپنی آل پر زکوۃ تک حرام کر دی،، ابو ھریرہؓ جو صلح حدیبیہ کے بعد ایمان لائے،جبکہ مسلمانوں کے حالات اچھے ھو چکے تھے،، پھر بھی بھوک سے بے ھوش ھو جاتے تھے، عثمانؓ اور عبدالرحمان بن عوفؓ جیسے 600 اونٹ اور 600 غلام بیک وقت دینے والے بھی اسی معاشرے میں تھے،،30 ہزار غلام عبدالرحمان بن عوف نے آزاد کیا ھے،، یہ دونوں طبقات ھمیشہ موجود رھے،، پسینہ خشک ھونے سے پہلے مزدور کی مزدوری ادا کرو،، آج اس نبوی حکم پر یورپ عمل کر رھا ھے،، گھنٹوں کے حساب سے مزدوری دیتا ھے،،اور ترقی کر رھا ھے، دوسری طرف مسلم ممالک میں غریب کا حق شیرِ مادر سمجھ کر ھضم کر لیا جاتا ھے،،پھر سوشلسٹوں نے روس اور مشرقی یورپ میں مزدور انقلاب برپا کر کے دیکھ جو لیا ھے کہ کیا ھوا ھے؟دنیا کے زرخیز ترین علاقے اس کے پاس تھے اور جفا کش ترین لوگوں پر مشتمل یہ اتنا بڑا علاقہ تھا کہ 9 اسٹینڈرڈ تائمز تھے اس سوویت یونین کے اندر،، پھر انجام کیا ھوا؟ اور آج چائنا میں مزدور پر ظلم و ستم کا کیا حال ھے ؟آج بھیلاکوں لوگ چائنا کہ کنسنٹریشن کیمپوں میں پڑے ھیں،جن کو اصلاحی کیمپ کہا جاتا ھے،جہاں کے لوگوں  کو  فیکٹریوں میں فری کام کرایا جاتا ھے،،یہ ناکام سوشلسٹ کہہ رھے ھین،، اسلام سرمایہ دارانہ نظام کو سپورٹ کرتا ھے،، اسلام صرف اسلامی نظام کو سپورٹ کرتا ھے جس میں امیر کو مال لگانے کو کہا گیا ھے،، زکوۃ کی ایماندارانہ ادائیگی پر زور ھے مزدور کے حقوق کا پاس ھے،، اور اسے حکم دیا گیا ھے کہ اللہ سے ڈر کر حلال روزی کی فکر کرو ،،تمہارا رب تمہارا نگران کافی ھے،،کسی فورمین یا سپر وائزر کی کوئی ضرورت نہیں،، اسلام نہ تو سرمایہ دار کا دشمن ھے نہ مزدور کا دشمن ھے،، وہ دونوں کے مفادات کا نگہبان ھے ،،سرمایہ دار نہیں ھو گا تو مزدور کے گھر کا چولہا بھی بجھا رھے گا،، سوشلسٹ سوچ جدلی سوچ ھے،،یہ مالک کو مزدور سے ،شوھر کو بیوی سے ،غریب کو امیر سے لڑاتی ھے ،، ھم پاکستان میں یہ تجربہ کر کے دیکھ چکے ھیں،، بھٹو دور میں ،،جبکہ اسلام تعاون کی فضا دیتا ھے،،اور دونوں سوچوں میں مشرق اور مغرب کا فرق ھے !

 

،

ھذا ما عندی والعلمُ عنداللہ

قصاص اور دیت کا قانون !

September 12, 2013 at 3:59pm

قصاص اور دیت کا قانون !

 

الحمدُ للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہﷺ ! پچھلے دنوں شاہزیب قتل کیس میں والدین کے دیت وصول کر لینے کے بعد مختلف آراء کا اظہار کیا گیا،، جن میں ایک رائے جناب محترم جاوید احمد غامدی صاحب کی بھی تھی، جو کچھ احباب کی نظر میں قابلِ اعتراض تھی ! وہ رائے کیا تھی میری وال پر موجود ھے، جو ان کی تحریر کا ایک اقتباس ھے،مگر اعتراض کرنے والے صاحب نے اسے بہت بڑا جرم قرار دیا ھے، جو کہ میرے نزدیک درست نہیں بلکہ غامدی صاحب کا موقف عین اسلام و قرآن کی روح کے مطابق ھے ! چونکہ ھم اس قیامت سے گزر چکے ھیں ،میرا سب سے چھوٹا بھائی اور میرا خالہ زاد،تایا زاد بھائی جو کہ میرا برادرِ نسبتی بھی تھا،29/3/1996 کو 12 بور بندوق سے قتل کر دیئے گئے،، 11 سال مقدمہ بازی میں گزرے،، لطیف کھوسہ ھائیکورٹ میں  فریق مخالف کے وکیل تھے، سپریم کورٹ مین اپیل جسٹس رمدے اور جسٹس فلک شیر صاحب نے سنی اور قاتل کی اپیل رد کر کے پھانسی کی سزا بحال رکھی،، اگرچہ قاتل میرا چچا زاد ھی تھا، مگر ھمیں صلح پر مجبور کرنے کے لئے جوابی مقدمات کی بھرمار کر دی گئی، میرے والد صاحب اور گواھوں کے علاوہ خود مجھ پر جو کہ مقدمے کی پیروی اور مالی اخراجات کر رھا تھا، حبسِ بے جا، اغوا ، مسلح ڈکیتی اور حدود کا کیس 17 ھرابہ یعنی دھشت گردی کے مقدمات بنائے گئے،، میرے والد صاحب جو کہ قاتل کے تایا تھے، فالج کے مریض تھے مگر عدالتوں میں رُل کر اللہ کو پیارے ھو گئے وہ فائرنگ کے کیس کی تاریخ بھگت کر آئے اور رات کو ھارٹ اٹیک میں فوت ھو گئے،، اگر ھمیں صلح پر مجبور کرنے کے لئے اپنے سگے عزیز اتنا کچھ کر سکتے ھیں تو شاہزیب فیملی کے ساتھ کیا ھوا ھو گا،، ھمارے عزیز ھمارے لیول کے لوگ تھے جبکہ وھاں زمین آسمان کا فرق تھا،، اس لئے میں اس معاملے کو بہت قریب سے جانتا ھوں،، آخر ان کو یہ کرنا ھی تھا ! کیونکہ پشت پر ریاست بھی نہیں تھی،، قتل میں سب سے پہلے وکیل سرکار بکتا ھے،، اس کا گھونٹ بھرنے کے بعد قاتل پارٹی پھر ورثاء کے پیچھے لگتی ھے ! اس تمہید کے بعد آیئے اصلی موضوع یعنی قصاص کے بارے میں شرعی حکم کیا ھے ! اللہ پاک نے سورہ النساء میں دیت کے موضوع کو زیرِ بحث لاتے ھوئے جو اسلوب اختیار فرمایا ھے وہ کچھ یوں ھے کہ ” کسی مومن کو زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی مومن کو قتل کرے،لیکن اگر خطا سے ایسا ھو جائے تو تو پھر وہ گردن آزاد کرے کسی مومن غلام کی اور دیت ادا کرے،،،،،،، النساء 92 اگلی آیت میں پھر قتلِ مومن کی شناءت کو اتنے سخت الفاظ میں بیان کیا ھے کہ رونگٹھے کھڑے ھو جاتے ھیں ” اور جو قتل کرے گا کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرنے کی نیت سے،تو بدلہ اس کا جہنم ھے، ھمیشہ رھے گا اس میں اور اللہ کا غضب ھوا اس پر، اور لعنت کی اس پر اللہ نے، اور تیار کر رکھا ھے اس کے لئے عظیم عذاب ( النساء 93 ) ان آیات مین دیت زیرِ بحث ھے، اور مقتول کی مختلف قسمیں بیان ھوئی ھیں اور ادئیگی کا طریقہ وضع کیا گیا ھے ! اب آیئے قصاص کی طرف تو یہاں سورہ بقرہ میں قصاص زیرِ بحث ھے، دیت ضمناً تخفیف یا استثناء کے طور پر ذکر کی گئی ھے،مگر دیت کا ذکر کرنے کے بعد بات کو پھر اس حکم پر ختم کیا گیا ھے کہ تمہاری زندگی قصاص میں مضمر ھے ائے عقلمندو تا کہ تم بچو ! اصل فرض قصاص ھے،، جس کو اسی صیغے میں فرض کیا گیا ھے جس صیغے میں چند آیات آگے چل کر روزے فرض کیئے گئے ھیں،، یا ایہا الذین آمنوا کُتِبَ علیکم القصاص فی القتلی ،، اے ایمان والو قتلِ (عمد) میں تم پر بدلہ لینا فرض کیا گیا ھے،،( البقرہ 178 ) اوریا ایہا الذین آمنوا کُتِبَ علیکم الصیامُ،، ائے ایمان والو روزے تم پر فرض کیئے گئے ھیں ( البقرہ 183 ) حکم کا صیغہ پکار پکار کے فرضیت کا اعلان کرتا ھے،، اور آیت کے دوران ھی معافی کو استثناء اور تخفیف قرار دیتا ھے ” پھر اگر کسی کو اپنے بھائی کی طرف سے معاف کر دیا جائے تو وہ بھی بھلائی کا اتباع کرتے ھوئے اسے اچھے طریقے سے ادا کرے” ذلک تخفیف من ربکم ” یہ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف ھے” گویا اصل حکم قصاص کا ھے اور دیت تخفیف ھے مگر بات یہاں ختم نہیں ھوئی بلکہ موضوع کو ختم کرتے کرتے دوبارہ نصیحت کی کہ ‘ ولکم فی القصاص حیاۃٓ یا اولوا الالباب لعلکم تتقون،( البقرہ 179 ) قصاص میں ھی تمہاری زندگی ھے،، صرف دیت کی پریکٹس پیسے والوں کے لئے فیس لے کر غریب کے قتل کا لائسنس دینا ھے، اگر قصاص فرض ھے،جس طرح دین میں دیگر فرائض ھیں تو پھر استثناء لازم کسی سبب سے ھو گا،،مثلاً اگر وضو فرض ھے تو تیمم پانی کی عدم موجودگی میں ھی مشروع ھو گا،، جب قاتل نادم ھی نہیں بلکہ وکٹری کے نشان بنا رھا ھے قہقے لگا رھا ھے تو ایک غریب شخص کیسے اس وڈیرے کے سامنے کھڑا ھو گا ،جبکہ ریاست ھی اسے باؤلے کتوں کے آگے پھینک کر بے نیاز ھو جائے ؟ کیا یہ قہقے اتباع ٓ بالمعروف ھیں جو دیت کی ایک شرط تھی یا عدل و انصاف کے منہ پر تمانچہ ھیں ؟اب اس مقتول کے تین وارث ھیں،، ایک اس کا خالق جس کا بندہ مارا گیا،، دوسرے اس کے والدین،بیوی بچے بہن بھائی،،جن کا عزیز مارا گیا،، تیسرے ریاست جس کا شہری مارا گیا،، اللہ نے تو اپنے بارے میں فرما دیا کہ،،اس نے قاتل کے لئے جہنم،لعنت،ٖغضب اور عذابِ عظیم تیار کر رکھا ھے،، والدین اور دیگر ورثاء کو اپنا حصہ معاف کرنے کا اختیار دیا ھے،، اور یہ قاتل پر تخفیف ھے کہ وہ اس کی اھمیت کو سمجھے اور اپنے رویئے سے عاجزی کا اظہار کرے،کیونکہ یہ دوبارہ بخشی گئی زندگی اب مقتول کے ورثاء کی عطا کردہ مستعار زندگی ھے،جس زندگی کو ائندہ کبھی بھی ورثاء کے خلاف اسے استعمال نہیں کرنا چاھئے،،جو کہ عموماً ھوتا نہیں ھے،، تیسرا فریق ریاست ھے جس کا شہری مارا گیا ھے اور باقی شہریوں کی جان خطرے میں ھے،،وہ اس نقطہ نظر کے تحت حرکت میں آئے گی اور مجرم کے بارے میں فیصلہ کرے گی،،وہ اسے بستہ ب کے مجرموں میں بھی رکھ سکتی ھے،، اور اس کے روئیے اور ورثاء کے انڈر پریشر ھونے کی صورت میں صلح کو مسترد کر کے پھانسی کا حکم جاری کر سکتی ھے تا کہ ورثاء کو اس پریشر اور جوابی مقدمات سے بچایا جا سکے ،جو معافی کے لئے مجبور کرنے کی خاطر مقتول کے ورثاء پر بنائے جاتے ھیں،،میں یہ سمجھتا ھوں کہ آیت کا آخری حصہ جس میں اھل حل و عقد کو مخاطب کیا گیا ھے، وہ حکومت ھے اور اسے کہا گیا ھے کہ وہ باقی شہریوں کی سلامتی کو مدنظر رکھتے ھوئے حرکت میں آئے،، عموماً دیکھا یہ گیا ھے کہ قاتل بار بار چھوٹتا اور مزید قتل کرتا چلا جاتا ھے،کیونکہ وہ اس صلح کو اپنی جیت اور مقتول کی ذلت سمجھتا ھے،گلیوں میں گریبان کھول کر اور ٹانگیں چوڑی کر کے چلتا ھے،، امارات کی عدالتوں میں فقہ مالکی کے تحت مقتول کے ورثاء کو معافی کا حق دیا گیا ھے،مگر اس حق کا اطلاق یہ دیکھ کر کیا جاتا ھے کہ مجرم کی نفسیات کیا ھیں،عدالت نے کئی کیسیز میں اس حق کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ،کیونکہ مجرم ڈاکٹروں کے پینل کی رائے میں مزید قتل کر سکتا تھا کیونکہ وہ اپنے پہلے فعل پر نادم بھی نہیں تھا اور قتل کی تفصیلات کو بڑے مزے لے لے کر بیان کرتا تھا،، پھر امارات میں مقتول کے لواحقین کو ایک پیسہ بھی نہیں خرچ کرنا پڑتا ،،نہ گواھیوں کا انتظام کرنا پڑتا ھے، اور نہ وکیل کرنا پڑتا ھے،سب ریاست کرتی ھے – ھمارے یہاں بھی عدالتوں نے کئی مقدمات میں صلح کو مسترد کیا ھے ،  اب آخر میں پھر اپنی آپ بیتی پر ختم کرتا ھوں کہ ھم نے قاتل کو صدر کی جانب سے اپیل مسترد ھونے کے بعد بلیک وارنٹ جاری ھو جانے کے بعد اور پھانسی گھاٹ منتقل ھو جانے کے بعد 24 گھنٹے پہلے خون کے رشتے کی بنیاد پر معاف کیا تھا،، بدمعاشی کا رویہ جب تک برقرار رھا،، ھم نے ھار نہیں مانی،،جب انہوں نے لاش کو وصول کرنے کے انتظامات شروع کئے،،گھر کو لاش رکھنے کے لئے چونا وغیرہ کر لیا،، چاولوں کے لئے بڑے ٹب تیار کر لئے اور قاتل کی زبان جب 24 گھنٹے پہلے خوف اور دھشت سے بند ھو گئی وہ بات تک نہیں کر سکتا تھا،،جب انہیں پتہ چل گیا کہ کوئی رستہ نہیں تو انہیں معاف کر دیا ! اور الحمد للہ انہوں نے بھی اس کے بعد اس صلح کو بھائیوں کی طرح نبھایا اور سگے بھائیوں سے بھی زیادہ اچھے ثابت ھوئے

دعا کے آداب و مضمرات

دعا کے آداب و مضمرات

July 31, 2013 at 7:28am

دعا ایک مستقل عبادت ھے جس طرح نماز روزہ زکوۃ اور حج ھے – اللہ سے دعا کرنا بھی اسی طرح فرض کیا گیا ھے جس طرح اللہ کی نماز پڑھنا فرض کیا گیا ھے- قال ربکم ادعونی،استجب لکم،، تمہارا رب کہتا ھے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا( المومن ) اس میں دعا کا حکم بلا امتیاز سب کو دیا گیا ھے،یعنی نیک و بد سب کو ،جسطرح نماز روزے کا حکم سب کے لئے ھے،نیک ھو یا بد،، اس  آیت میں قبولیت کا وعدہ بھی سب سے بلا امتیاز کیا گیا ھے،،نیک ھو یا بد – ماں جس بچے سے ناراض ھوتی ھے،اس کا حصہ ضرور دوسروں سے چھپا کر رکھ دیتی ھے- محروم کبھی نہیں کرتی پھر جو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ھے وہ کیسے اپنے بندے کو محروم کر سکتا ھے،، دعا کا حکم نماز سے زیادہ بار دیا گیا ھے،، بلکہ دعا ھر عبادت کا جوھر ھے، الدعاء مخ العبادہ اور الدعاء ھو العبادہ ،، ارشادات نبوی ﷺھیں ! ھمارے یہاں ھر چیز کی طرح دعا کے بارے مین بھی عجیب عجیب تصورات قائم ھیں،، 1- دعا کے لئے ایک نیک انسان کی تلاش – یہ بالکل ایسے ھی ھے جیسے بیمار تو میں ھوں مگر دوا کے لئے مجھے کسی صحتمند آدمی کی تلاش ھے تا کہ اسے دو ڈھکن دوا پلا سکوں،،دعا تو پکار ھے وہ پکار جو ماں سے سرِ بازار بچھڑ جانے والے بچے کے منہ سے نکلتی ھے،،وہ دردناک پکار فلم مین بھی سنی جائے تو رونگھٹے کھڑے ھو جاتے ھیں،، وہ درد بھری پکار کسی گنہگار کے منہ سے ھی نکل سکتی ھے،، میں نے پہلی دلی دعا میدانِ عرفات میں الیاس کاشمیری اداکار کے پیچھے 1982 میں کی تھی،، میں عصر کے بعد خیمے سے جبلِ رحمت جانے کے لئے نکلا ،ابھی تھوڑا دور گیا ھوں گا کہ رونے اور ڈکرانے کی آواز آئی ،، ساہڈ پر دیکھا تو ایک لمبا دھڑنگا آدمی مچل مچل کر رو رھا تھا،اور لوگ بھی اس کے پیچھے آہ و زاری میں مشغول تھے،، میں نے اس کا مچلنا تڑپنا اور اس کے الفاظ سنے ،فریادوں کی بے ترتیبی بتا رھی تھی کہ کسی مولوی سے قافیے سیکھ کر نہیں آیا،، سب کچھ اندر سے نکل رھا ھے،میں سمجھ گیا کہ رحمت ادھر برس رھی ھے،، میں نے خاک کی مٹھی اٹھائی اور اپنے سر پر ڈال لی اور پھر اس کے پیچھے کھڑا ھو گیا،، کیا آپ یقین کریں گے کہ مین آج تک اس دعا کے ثمرات لوٹ رھا ھوں ؟ اس کے بعد میں حج اور عمروں پر بار بار گیا ھوں مگر الیاس کاشمیری مرحوم کی دعا والی فریکوئنسی مجھے پھر نہیں ملی،، اگر عرش ھلانے والی دعا کرنی ھے تو کسی نیک کی تلاش نہ کریں کسی گنہگار کی تلاش کریں،منت ترلا کر کے اسے دعا پر آمادہ کر لیں اور پھر اس کے ہیچھے صرف آمین کریں،دیکھیں وہ کیسے عرش کو ھلاتا ھے ! جس درد سے بیمار اور گنہگار روتا ھے، اس درد سے صحتمند اور پرھیزگار رو ھی نہیں سکتا،،اور آپ کو پتہ ھے کہ ماں بچے کی تکلیف کا اندازہ اس کے رونے کی کیفیت سے لگاتی ھے،،اسے پتہ ھوتا ھے کہ یہ رونا دودھ کا رونا ھے،بچے کو بھوک لگی ھے اور یہ رونا کوئی اوپرا رونا ھے ،تکلیف کا رونا ھے،،گنہگار کے رونے سے صرف رحمان نہیں چونکتا،فرشتوں کی بھی دوڑیں لگ جاتی ھیں ! میں نے دوران طواف ایک گونگے کو دیکھا جو گوں گوں کر کے رو رھا تھا کچھ کہنے کی کوشش کرتا تھا،،وہ جب اپنے اردگرد لوگوں کو ٹولیوں میں قافیوں کے ساتھ مانگتے دیکھتا تو اسے احساس ھوتا کہ یہ بولنے والے تو سارا لوٹ کر لے جائیں گے،میری کون سنے گا ،میرے پاس تو الفاظ ھی نہیں ھیں- اس کے بعد وہ بےساختہ آسمان کی طرف بے بسی سے دیکھتا اور دردناک فریاد کر کے پاگلوں کی طرح غوں غاں کرتا تھوڑی دور تک دوڑتا،، میں سمجھ گیا کہ رحمٰن نے بولنے والوں کو تو فرشتوں کے حوالے کر دیا ھے اور خود اپنی رحمت سے اس گونگے کی طرف متوجہ ھے جس کی اس کے سوا کوئی نہیں سمجھ سکتا ،میں پورا طواف اس گونگے کے پیچھے دوڑتا رھا اسی کی غوں غاں پر آمین کرتا رھا،اور ثمرات سمیٹتا رھا ! اللہ پر نیکیوں کی دھونس نہین چلتی،،نیکیاں ھم اپنے بھلے کو اپنے اکاؤنٹ مین بھیجتے ھیں رب پر کونسا احسان ھے کہ بندہ ادائیں دکھاتا پھرے، تازہ تازہ گولڈن کارڈ چلا تھا،، جو پاکستان تین لاکھ اپنے اکاؤنٹ میں بھیجے گا گولڈن کارڈ ملے گا اور کسٹم مین چھوٹ ھو گئی، نیز پاسپورٹ فری بنے گا،،گولڈن کارڈ لے کر اسلام اباد ایئرپورٹ پر اترے، کسٹم پر گزر ھوا ، ھاتھ والی سلائی مشین پاس تھی،، کسٹم لگایا گیا،، اسے کارڈ بتایا،،کہنے لگا یہ کیا ھے؟ بڑے فخر سے بتایا پاکستان 3 لاکھ روپیہ بھیجا ھے،، پلٹ کر کہنے لگا مولوی صاحب اپنے اکاؤنٹ میں بھیجا ھے، مجھ پر کوئی احسان کیا ھے؟ کسٹم والا نہین مانا،، رب کو کوئی چار سجدے کر کے تھلے کیسے لگا سکتا ھے،، ؟ دعا کا فوری اور نقد فائدہ ھی یہ ھے کہ سب سے پہلے آپ کے گناہ معاف اور صاف کیئے جاتے ھیں،،پھر آپکی دعا کا جائزہ لیا جاتا ھے کہ آپ کے لئے فوری قبولیت ٹھیک رھے گی یا اسے مؤخر کر لیا جائے یا آخرت کی ضرورت کے لئے فکس ڈیپازٹ کر لیا جائے جو بھی فیصلہ ھو گا،،آپ ھی کی فیور میں ھوگا،، آپ کی بہتری کے لئے ھو گا،،اللہ پاک کا اپنا مفاد ھے ھی نہیں کہ وہ اپنے فائدے کا سوچے گا،، ھماری عبادت اس کا کوئی فائدہ نہیں کرتی اور ھمارے گناہ اس کا کوئی نقصان نہیں کرتے،،دونوں چیزیں ھم اپنے اکاؤنٹ میں بھیجتے ھیں،، گناھوں سے شرما کر جو لوگ اللہ سے مانگنے سے رک جاتے ھیں،،انہیں وہ بار بار کہتا ھے ،میری رحمت سے مایوس مت ھو جاؤ، اللہ سارے گناہ معاف کر دے گا،، تم ان کی وجہ سے میرے پاس آنے سے کتراتے ھو ناں؟ یہ لو میں نے سارے ڈیلیٹ کر دیئے ،بلکہ ھر گناہ کے بدلے نیکی لکھ دی "یبدل اللہ سیئاتھم حسنات،، اللہ ان کے گناہ لے کر نیکیاں پکڑا دیتا ھے،،ایک ٹوکری مین گناہ ڈالو اور دوسری سے نیکی اٹھا لو،، یہ دعا کے نقد فائدے ھیں،، جب کوئی کسی بڑے سے ملنے جاتا ھے تو پتہ ھے کیا ھوتا ھے؟ بیوروکریسی کے کارندے اسے اس کے دربار کے قابل بناتے ھیں،، یہانتک کہ اگر شیخ صاحب کو سفید بال ناپسند ھوں تو مہمان کے بال سیاہ کیئے جاتے ھیں ،اسی طرح رب کے دربار کے تقاضوں سے آگاہ فرشتے اس کے حکم اور پسند کے مطابق آپ کو گناھوں سے صاف ستھرا کر کے رب کے حضور پیش کرتے ھیں !پھر بھی آپ سوزوکی بک کر کے دعا کروانے نیک کے پاس جاتے ھو،،بھائی وہ بکنگ کے پیسے کیسی مریض کی دوا کے لئے دے دو،، اور ھاتھ کھڑے کر لو،اپنے نبیﷺ کی بات کا اعتبار کرو ،،وہ عرش والا کبھی کسی کے اٹھے ھوئے ھاتھ خالی نہیں لوٹاتا ،اسی لئے تو حکم دیا گیا ھے کہ ھاتھ چہرے پر پھیر کر رب کی عطا پر شکر گزاری کا اظہار کرو ،،تیرے ھاتھ خالی نہیں لوٹے اس لئے اس بھرے ھوئے خزانے کو نیچے نہ گراؤ بلکہ ھاتھ چہرے پر مل کر نیچے کرو،، دعا کے آداب میں پہلے اللہ پاک کی تعریف پھر نبی پاکﷺ پر درود پھر اپنی بات پھر درود پر بند کر دو،، نبیﷺ فرماتے ھیں اللہ بڑا بامروت ھے ممکن نہیں کہ وہ دعا کا پہلا اور آخری حصہ تو قبول فرما لے اور درمیان والا چھوڑ دے !

دعا کے مضمرات !

 

دعا کر کے ھضم کر لینا خالہ جی کا گھر نہیں اس کے لئے یا تو ھمالیہ جیسا ایمان چاھئے یا کے -ٹو  جتنا گناہ -جو

انسان کی گردن جھکا کر رکھے-گنہگار جب دعا مانگتا ھے تو ڈر ڈر کے مانگتا ھے،اسے اپنے گناھوں کے کلپ بار بار نظر آ رھے ھوتے ھیں،، پوری ھو جائے تو فبہا ،، نہ ھو تو وہ اپنے آپ کو ھی کوستا ھے کہ تو نے بھی کونسا کوئی اچھا کام کیا ھوا ھے ! یہ تو ھونا ھی تھا،، وہ مزید مسکینی اور عاجزی کا شکار ھو جاتا ھے ۔۔ اللہ معاف کرے نیک آدمی جب دعا مانگتا ھے تو دعا نہین مانگتا وہ تو الٹی میٹم دیتا ھے،،اپنی نمازوں ،اشراق و اوابین،، حج اور عمرے کے کلپ بار بار لگ رھے ھوتے ھیں،، جوں جوں قبولیت میں دیر ھوتی ھے موڈ خراب ھوتا جاتا ھے،، اور وہ سمجھتا ھے کہ اس کی انسلٹ کی جارھی ھے،، اور آخر بول پڑتا ھے، یار نمازیں بھی پڑھتے ھیں، صدقہ خیرات بھی کرتے ھیں مگر مصیبت نے ھمارا ھی گھر دیکھ لیا ھے،، یہ گلے شکوے کا انداز دعا کو کیا قبول کرائے گا عبادت کو بھی بے کار کر دیتا ھے،، دعا کر کے رب کی مرضی پر چھوڑ دینا چاھئے، یاد رکھئے دعا میں ٹائم فریم نہیں ھوتا،،منگتا کسی کو الٹی میٹم نہیں دیتا،، منگتا یہ نہیں کہتا کہ سرکار اتنے دو،، ڈالرز ھی دو،، وہ کشکول آگے کر دیتا ھے جو آپ کے جی میں آئے ڈال دو ،، موسی علیہ السلام کا دعا کا ادب دیکھا ھے،، درخت کے نیچے کھڑے ھو کر فرمایا ” ربِ انی لما انزلتَ الی من خیر فقیر ( القصص ) ائے میرے پالنہار میں ھر اس چھوٹی سے چھوٹی خیر کا محتاج اور قدردان ھوں جو تو میری جھولی مین ڈال دے، اس ادا پر رب کی رحمت کا ٹوٹ پڑنا دیکھو،، گھر بھی دے دیا، نوکری بھی دے دی، بیوی بھی اسی دن دے دی،، یہ ھے ھمارے رب کا مزاج ،،بلیک میلنگ اسے بالکل پسند نہیں ،، نہ وہ نسب سے بلیک میل ھوتا ھے نہ عبادت سے،، سر جھکا دو، آنکھیں نیچی کر لو، رو لو،، نہیں تو رونے کی صورت بنا لو،، پھر دیکھو وہ خود تمہاری ضرورتوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کے پورا کرے گا ! اللہ آپ کو سلامت اور اپنے در کا محتاج رکھے ! آمین