مسجد تو بنا لی شب بھر میں

کالج میں نیا پروفیسر آیا تو ہلچل مچ گئ کہ بڑا ذھین اور ایکسٹرا اسمارٹ بلکہ الٹرا اسمارٹ پروفیسر آ گیا ھے ،، خدا جب حسن دیتا ھے ، نزاکت آ ھی جاتی ھے ، اپنی تعریف پہ پروفیسر صاحب کے پاؤں بھی زمین پہ نہیں ٹکتے تھے ،، آخر اس کے ذھن میں ایک … Read more

شارٹ کٹ

کون غیر مسلموں پہ وقت ضائع کرتا پھرے ،، اس تیزی کے دور میں جب انسان کے کرنے کے اور بھی ڈھیروں کام پڑے ھیں ، غیر مسلموں کی منتیں ترلے کرنے کا وقت کون نکالے ، ان کے سوالوں کے جواب دے کر ان کو مطمئن کرے ،، پھر مسلمان ھو جائیں تو ان … Read more

نیکی اور بدی کے مضمرات اور الحاد کی نرسریاں

انسان جب بھی کوئی اچھائی یا برائی کرتا ھے تو اس کے پیچھے وہ پورا فلسفہ کام کرتا ھے جو اس کے دل دماغ میں انسٹال ھوتا ھے ، جس طرح آپ کا پرنٹر جب تک آپ کے پی سی پہ انسٹال نہ ھو کوئی کمانڈ نہیں لیتا ،، اس فلسفے کے پیچھے موجود سافٹ … Read more

حدیں وہ کھینچ رکھی ھیں اھلِ حرم نے ! November 6, 2014 at 9:23am Public Friends Friends except Acquaintances Only Me Custom Family Acquaintances Go Back آج کچھ درد میرے دل میں سوا ھوتا ھے ! احباب مفتی فیصل جاپان والا صاحب نے مجھے شرفِ میزبانی بخشا ھوا ھے ،، دین اور دنیا کا ایسا … Read more

ناک کی کیمسٹری اور بائیوگرافی ! August 9, 2014 at 5:58am   PublicFriendsOnly MeCustomFamilyGo Back ناک انسانی چہرے پہ لگا تقریباً تین بھائی پانچ سینٹی کا ایک معصوم سا عضو ھے ،، جو دیکھنے میں انتہائی خوبصورت لگتا ھے ،، بلکہ چہرے کی خوبصورتی میں اس کا وھی کردار ھے جو سب کو معلوم ھے … Read more

تقدیر کے کھیل ! نازیہ کا باپ ایک کامیاب وکیل تھا ،، ایل ایل بی کے ساتھ اس نے اسلامیات میں ماسٹر بھی کیا تھا اور عملی زندگی میں بھی ایک نیک اور اچھا انسان سمجھا جاتا تھا ، محلے کی مسجد میں امام صاحب جب بھی چھٹی پہ جاتے تو امامت اور خطابت کی … Read more

چھیڑے نہ ھمیں دنیا ، ھم ھیں مصطفی ﷺ والے !

چھیڑے نہ ھمیں دنیا ، ھم ھیں مصطفی ﷺ والے ! August 1, 2014 at 11:32pm PublicFriendsOnly MeCustomFamilyGo Back  ! کوئی تو جگہ ایسی ھوتی ھے جہاں اعتبار کرنا پڑتا ھے ! ھماری مائیں ھم سب کو معلوم ھے کہ جھوٹ بولتی ھیں ،ھمیں زندگی میں کئ بار ان سے جھوٹ کا تجربہ ھوا ھے … Read more

دل کے دروازے اندر سے کھلتے ھیں

دل کے دروازے اندر سے کھلتے ھیں ! August 3, 2014 at 5:29am   PublicFriendsOnly MeCustomFamilyGo Back وہ دارالعلوم دیوبند کے قریب میں ایک محلے میں ایک امیر ھندو گھرانے میں پیدا ھوا تھا اور ھندؤں کے اس مکتبہ فکر سے تعلق رکھتا تھا جو سورج کی پوجا کرتے ھیں !بچپن گزرا تو جوانی شروع … Read more

اتمامِ حجت میں کتاب اللہ کا فیصلہ کن کردار !

May 1, 2014 at 11:12pm

اللہ پاک نے دعوی کیا ھے کہ وہ اپنی مخلوق کو مقصد بھی خود ھی سجھاتا ھے اور سمجھاتا ھے ! جب فرعون نے موسی علیہ السلام سے پوچھا کہ ” اے موسی تم دونوں کا رب کون ھے ؟ قال فمن ربکما یا موسی ؟ ( طہ 49،) تو جواب میں موسی علیہ السلام نے جواب دیا ” ربنا الذی اعطی کل شئٍ خلقہ ثمہ ھدی ( طہ 50) ،، ھمارا رب وہ ھے جس نے ھر چیز کو اس کی صورت بخشی پھر اس کو اس کا کام سجھایا ! اللہ پاک نے اپنے سر ذمہ لیا ھے اور یہ ذمہ قیامت تک ھے کہ ،ان علینا للھدی ،، یقیناً یہ ھماری ذمہ داری ھے کہ ھم ھدایت پہنچائیں ( الیل 12 ) جب ابراھیم علیہ السلام کا مکالمہ اپنے والد اور قوم سے ھوا تو انہوں نے رب کا تعارف ھی اس ذمہ داری کے ساتھ کیا کہ جب مجھے پیدا اس نے کیا ھے تو اسی کی ذمہ داری ھے کہ وہ مجھے ھدایات دے کہ میں نے کیا کرنا ھے اور میرا فرض ھے کہ میں اس ھدایت کی پیروی کروں ! الذی خلقنی فھو یھدین (شعرآء 78 ) آدم علیہ السلام کو واضح طور پر بتا دیا گیا تھا کہ ان کے لئے اور ان کی اولاد کے لئے ھدایات آتی رھیں گی جو ان ھدایات پر چلے گا وھی فلاح پائے گا اور اصحاب الجنہ میں سے ھو گا،جب کہ ان کی مخالفت کرنے والے آگ کا ایندھن بنیں گے ،، فاما یاتینکم منی ھدی ،فمن تبع ھدای فلا خوفۤ علیھم ولا ھم یحزنون ، والذین کفروا و کذبوا بآیاتنا اولئک اصحاب النار ھم فیہا خالدون ( البقرہ 38،39 ) سابقہ امتوں میں یہ کام نبیوں نے ھی کیا ھے اور امتوں نے ھاتھ بٹایا ھے،مگر نبی سے نبی ھی ٹیک اوور کرتا تھا، بیک وقت کئ کئ نبی بھی موجود ھوتے تھے ! مگر نبئ کریم ﷺ پر نبوت کے اختتام نے یہ ذمہ داری مجموعی طور پر اس امت کے کندھوں پہ لا ڈالی ! جب ھر پیدا ھونے والے کو ھدایت پہنچانا نبئ پاک کی ذمہ داری ھے اور پیدا ھونے والے تو پیدا ھوتے چلے جا رھے ھیں جبکہ پہنچانے والا نبوت کا ادارہ ندارد ھے ! تو پیدا ھونے والوں کا کیا قصور ھے ؟ جس نےوعدہ کیا تھا ان علینا للھدی ،، یہ ھمارے ذمے ھے کہ ھم ھدایت پہنچائیں،، یہاں ھدایت کے منتظرین کروڑوں کی تعداد میں منتظر ھیں اور وعدے کے ایفا کا اتنظار کر رھے ھیں ،، اگر یوں کہا جائے کہ نبی کی عدم موجودگی میں اتمامِ حجت نہیں ھو سکتی ،، اور اتمام حجت اللہ کا وعدہ ھے کہ قیامت کے دن لوگ یہ نہ کہیں کہ ھمیں خبر ھی نہ ھوئی ! تو پھر اللہ کو ھی اپنے اس اصول کے سائڈ ایفیکٹ کا پتہ نہ چلا ؟ اور اللہ رسالت کے ادارے کو ڈس مس کر بیٹھا،، کیا اللہ ھی کو پتہ نہ تھا کہ چند لاکھ لوگوں کے لئے تو میں نے ایک لاکھ چوبیس ھزار پیغمبر لا کھڑے کیئے اور بیک وقت کئ کئی نبی اٹھا کھڑے کیئے ،،جبکہ اربوں انسانوں کو بغیر کسی پیغمبر کے بے یارو مددگار چھوڑ دیا اور ان پر اتمام ِ حجت ھی نہ ھوا ! حالانکہ وہ زیادہ ذھین و فطین تھے !! اب قیامت کے دن اللہ پاک ان کو کیا جواب دے گا ! 1- اصل میں مجھے احساس ھی نہیں تھا کہ یہ دنیا اتنی لمبی چلے گی،،میں نے سمجھا کہ 100 سال کے اندر بس قسطنطیہ فتح ھو گا اور قیامت آ جائے گی،لہذا میں نے نبوت کی بساط لپیٹ لی ! ( معاذ اللہ ) 2- دراصل میں دھڑا دھڑا بیک وقت سیکڑوں نبی بھیجتا رھا مگر جب آخر میں دیکھا تو ایک ھی بچتا تھا ،، اب کیا ھو سکتا تھا ( ثمہ معاذاللہ ) اس کا نتیجہ یہ نکلتا ھے کہ غیر مسلموں کو مسلمانوں پر واک اوور مل جاتا ھے ،اور یوں جگجیت سنگھ کی فلائیٹ سیدھی جنت میں لینڈ کرتی ھے ، کیونکہ غیر مسلموں پر نبی کی عدم موجودگی میں اتمامِ حجت نہیں ھو سکتا،،جبکہ ھم جو مسلمان کے گھر پیدا ھونے پر شکر بجا لاتے رھے،،پھنس کر رہ گئے کہ پہلے نماز روزے کا حساب چکاؤ ،،جب کہ کافر کس چیز کا حساب دیں گے ؟ نہ نماز روزہ ان پر فرض اور نہ شراب ان پر حرام ،، وہ تو بغیر حساب جنت میں داخل ھوں گے،، ! اتمام حجت کی دو اقسام اور دو انجام ! جو اتمام حجت رسول کی موجودگی میں ھوتا ھے ،اس کا نتیجہ یہ ھوتا ھے کہ ان کی منکر قوم کو کافر قرار دے کر ان کی جڑ کاٹ دی جاتی ھے ! لہذا اب اس قسم کا اتمام حجت تو قیامت تک نہ ھو گا ! اتمام حجت کی دوسری قسم وہ ھے جو صرف ھدایت پہنچا کر رہ جاتی ھے اور اس کے منکروں کا فیصلہ قیامت کے دن کیا جائے گا اور ان کو کافر کی بجائے غیر مسلم کے نام سے یاد کیا جائے گا ! انہوں نے سیدھی راہ کی تلاش کی یا نہیں کی اس کا فیصلہ رب کریم بہتر کر سکتا ھے اور حشر کا دن اسی قسم کے فیصلوں کے لئے ھی رکھا گیا ھے ! پہلی قسم کے ھادی بطور نبی حشر کی عدالت میں آئیں گے ! جبکہ دوسری قسم کے اتمامِ حجت کرنے والے بطور گواہ کے عدالت میں آئیں گے،، وکذالک جعلناکم امۃ وسطا لتکونوا شہداء علی الناسِ و یکون الرسول علیکم شہیدا ً ،، ( البقرہ ) لیکون الرسول شہیداً علیکم و تکونوا شہداء علی الناس ! ( الحج ) اسی دوسری قسم کے تابع صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے لاکھوں مربع میل تک اتمام حجت کیا اور فلیبلغ الشاھد الغائب ،، کا حق ادا کرتے ھوئے ھدایت کی مشعل تابعین کے سپرد کر دی ! سورہ الزمر میں اللہ پاک نے انبیاء اور شہداء کے عدالت میں حاضر ھونے اور فیصلے کرنے کی بات کی ھے،،و وضع الکتاب و جئ بالنبیین و الشہدآءِ و قضی بینھم بالحق و ھم لا یظلمون ،،کا نقشہ کھینچا ھے ( الزمر69 ) کتاب اللہ کو محفوظ ھی اتمام حجت کے لئے کیا گیا ھے ! رب کا پیغام پہنچ گیا تو اتمام حجت ھو گیا ،اب قیامت کو فیصلہ ھو جائے گا ! اس پر اعتراض یہ کیا جاتا ھے کہ جناب مسلمان کو تو مسلمان کے گھر میں پیدا کر دیا ،،اسے گھڑی گھڑائ
ی ھدایت پیدائشی طور مل گئ جبکہ دوسروں کو ھندؤں سکھوں کے گھر میں پیدا کر کے کہا گیا کہ ھدایت کما کے کھاؤ ! یہ بے انصافی نہیں ھوگئ ؟؟ پہلی بات یہ ھے کہ کیا واقعی پیدائشی مسلمان سارے توحید پر قائم ھیں،،یا عصمت لٹا چکے ھیں،،اور تڑوا کے کھا بیٹھے ھیں ؟ دوسری بات یہ کہ اللہ پاک نے قرانِ حکیم میں دو جگہ یہ ھی مسئلہ اٹھایا ھے کہ میں نے یہ عہدِ الست تم سے اس لئے لیا ھے ،اور اسے تمہاری فطرت و ضمیر میں امانت کے طور پر رکھ چھوڑا ھے کہ تم کل کلاں یہ نہ کہو کہ ھم تو اس توحید روبیت سے غافلل تھے یا یہ کہو کہ ھم تو پیدا ھی مشرکوں کے گھر ھوئے تھے اور باپ دادا کو شرک کرتے پا کر شرک اختیار کیا ،، کیا تو ھمیں دوسروں کے کیئے پر پکڑے گا،،ان تقولوا انا کنا عن ھٰذا غافلین او تقولوا انما اشرک آبائنا من قبل و کنا ذریۃً من بعدھم ،افتھلکنا بما فعل المبطلون ( الاعراف 172،173 ) اب وعدہ کیا کہ ایک طرف تمہیں تمہارا ضمیر اور فطرت ھدایت اور میری تلاش کے لئے اکسائے گئے ،، دوسری جانب وعدہ کیا کہ تم جب میری تلاش میں نکلو گے تو یقیناً میں تمہارا ھاتھ پکڑوں گا یوں ڈیمانڈ اور سپلائی کا نظام قیامت تک برقرار رھے گا،، والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا و ان اللہ لمع المحسنین (العنکبوت 69 ) ادھر امت کو یہ ھدایت دی گئ کہ تم دوسرے لوگوں تک ھدایت پہنچانے کی ذمہ داری سے سرفراز کئے گئے ھولہذا تم میں سے کچھ لوگ اس کام کے لئے مستعد رھیں کہ کوئی خیر سے خالی ھاتھ نہ جائے ،،ولتکن منکم امۃۤ یدعون الی الخیر و یامرون بالمعروف و ینہون عن المنکر و اولئک ھم المفلحون( آلعمران 104) ،کنتم خیر امۃ اخرجت للناس ، تامرون بالمعروف و تنھون عن المنکر و تومنون باللہ ،، ( آل عمران 110 ) اب اگر آپ ٹینشن فری ماحول چاھتے ھیں جس میں آپ کے ضمیر پر کوئی بوجھ نہ ھو ،، اور غیر مسلم سارے جنت میں چلے جائیں کیونکہ اتمام حجت کے بغیر تو ان کو سزا نہیں دی جا سکتی ،،تو پھر قرآن کو صرف نبوی دور کی روزمرہ کی سرگرمیوں کی روداد سمجھ لیں،، جسے سرگزشتِ انذار کہا جاتا ھے ،،کہ یہ تو ایک ارکائیو ھے جس میں اس زمانے کی activities کو اللہ کے الفاظ میں قلمبند کیا گیا ھے اور بس ،، یہ کنتم خیر امۃ بھی صرف صحابہ ھی تھے، ولتکن منکم امۃ کا حکم بھی ان کو تھا،، پردے کا حکم نبی کی بیویوں سے شروع ھو کر ان پر ھی ختم ھو گیا تھا اور دعوت و تبلیغ کا کام بھی ابوبکرؓ و عمرؓ سے شروع ھو کر ان پر ھی ختم ھو گیا تھا،، آپ یہ سرگزشتِ انذار قدرت اللہ شہاب کے شہاب نامے کی طرح پڑھئے اور بند کرنے سے پہلے نشانی رکھنا مت بھولئے گا ! ( معاذ اللہ ) اللہ کی کتاب کو محفوظ رکھنے کا مقصد ھی اتمام حجت تھا ،جب اس کتاب کو اس ذمہ داری سے ھی سبکدوش کر دیا گیا تو اب یہ ھدی للناس نہ رھی،، بلکہ صرف مسلمانوں کی ایک رسمی کتاب رہ گئ،جیسے دیگر مذاھب کے پاس ان کی رسمی کتابیں ھیں ! اللہ اللہ خیر صلا ایک منطقی سوال کیا جاتا ھے کہ جو مذھب باپ کا ھو گا وہ بیٹے کا ھونا ایک فطری بات ھے ! مگر یہ ایک بودا سوال ھے ! جو پیشہ باپ کا ھے وہ بیٹے کا کیوں نہیں ھے ؟ باپ گاؤں میں تیل بیلتا تھا اور بیٹا نہ صرف ایم بی بی ایس ڈاکٹر ھے بلکہ سیدپور روڈ پر بہت بڑا کلینک بنائے بیٹھا ھے،،جو عقل پیشے کی اچھائی اور برائی تک رسائی رکھتی ھے وہ دین کی اچھائی اور برائی کو محسوس کیوں نہیں کر سکتی ؟؟ اب اللہ کی کتاب کا مقصد دیکھئے کہ اس کی موجودگی کے بغیر نبی ھوتے ھوئے بھی گویا کہ نہیں تھے ! نبی ﷺ کے ایمان اور قیامت تک آنے والے انسانوں کے ایمان کا منبع قرآن ھے،، نبی ﷺ کو باقاعدہ مخاطب بنا کر فرمایا گیا،، ما کنت تدری ما الکتاب ولا الایمانُ ولٰکن جعلناہ نوراً نھدی بہ من نشاء من عبادنا ،و انک لتہدی الی صراطً مستقیم ( الشوری 52 ) اے نبی آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ھے اور ایمان کیا ھے ،،مگر ھم نے بنایا اس کتاب کو نور جس کے ذریعے ھم بندوں میں سے جس کو چاھتے ھیں ھدایت دیتے ھیں،، اور ( اسی کے ذریعے ) آپ یقیناً سیدھی راہ دکھاتے ھیں ! کتاب کے نزول کا سبب بیان کیا تو ارشاد فرمایا ” شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ” ھدی للناسِ و بیناتٍ من الھدی والفرقان ! ( البقرہ 185 ) رمضان وہ مہینہ ھے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو ساری نوعِ انسانیت کے لئے ھدایت ھے اور ھدایت کے کھلے کھلے دلائل سے بھرا پڑا ھے اور حق و باطل میں فرق کرنے والا ھے ! اب دیکھ لیجئے یہ صرف بنی اسماعیل کی کتاب نہیں ،نہ صرف بنی اسماعیل ھی اس کے مخاطب ھیں،، بلکہ یہ رھتی دنیا تک کے ھر آنے والے انسان کے لئے ھدایت کا سر چشمہ ھے اور ھدایت کے رستے کے ھر سوال کا جواب دیتا ھے اور الفرقان ھے،، قیامت تک اس کی موجودگی میں حق و باطل گڈ مڈ نہیں ھو سکتے ،، اگر کوئی جان بوجھ کر اندھا پن اختیار کرے تو وہ نبی ﷺ کی عدم موجودگی کو اپنی گمراھی کا جواز نہیں بنا سکتا ،، جبکہ یہ کسوٹی اور فرقان موجود ھے ! قد جاء کم بصائر من ربکم فمن ابصر فلنفسہ و من عمی فعلیہا ،،( الانعام 104 ) اے نبی فرما دیجئے کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے چشم کشا حقائق آ چکے ،، تو جو بصیرت اور بصارت سے کام لے گا تو وہ اپنی جان کا بھلا کرے گا اور جو اندھا پن اور دیکھا ان دیکھا کرے گا وہ اس کا وبال بھی اپنے سر لے گا ،اور میں تم پر داروغہ نہیں ھوں ! قل یا ایہاالناس قد جاء کم الحق من ربکم ،، فمن اھتدی فانما یھتدی لنفسہ، ومن ضل فانما یضل علیہا وما انا علیکم بوکیل ( یونس 108 ) اے نبی کہہ دیجئے ” اے لوگو ! تمہارے رب کی طرف سے تم تک حق پہنچ گیا ( یعنی قرآن ) تو جو ھدایت پائے گا تو در حقیقت اپنی ذات کے نفعے کو ھدایت پائے گا،، اور جو گمراھی کو اختیار کرے گا تو اپنی جان پر وبال
اٹھانے کو گمراہ ھو گا ، اور میں تمہارا ذمہ دار نہیں ھوں ! ان تمام آیات میں اولین مخاطب بنی اسماعیل ھونے کے باوجود انہیں یا بنی اسماعیل کی بجائے یا ایہاالناس سے خطاب کرنا ھی ثابت کرتا ھے کہ اس کا خطاب پوری نوع انسانیت ھے ، اور وہ یہی بات پوری انسانیت سے کہنا چاھتا ھے جو بنو اسماعیل سے کہہ رھا ھے اور وھی تقاضہ پوری انسانیت سے کرنا چاھتا ھے جو بنی اسماعیل سے کر رھا ھے ،، پھر اس کتاب کے تراجم اللہ کی توفیق اور حکمت کے ساتھ دنیا کی ھر زبان میں دستیاب ھیں ،، اب کسی کے پاس اللہ کے خلاف کوئی حجت باقی نہیں،، دنیا میں ھر نسل کا شخص مسلمان ھے اور ان میں اسی نسل کا مولوی موجود ھے جو اللہ کی یہ سنت پوری کر رھا ھے کہ ،، و ان من امۃٍ الا خلا فیہا نذیر ،،کوئی قوم ایسی نہیں گزری جس میں خبردار کرنے والا نہ گزرا ھو ،، اور بلسان قومہ ،، اسی قوم کی زبان میں سمجھانے والا بھیجا گیا ! فاین تذھبون ؟ اگر الفرقان حق و باطل میں فرق نہیں کر پا رھا ،، شرک اور توحید کو الگ الگ بیان نہیں کر پا رھا تو پھر اس کو الفرقان کہنے کا مقصد کیا تھا اور اس کی حفاظت کا جوکھم ھی کیوں پالا گیا

سنتِ رسول ﷺ کی اقسام اور خلفاءِ راشدین کے اختیارات !

April 27, 2014 at 8:01pm

ھمارا اصل المیہ یہ ھے کہ ھمیں اسلام ایک ریاست اور نظام کی بجائے ،سپیئر پارٹس کی شکل میں ملا ھے ! جسے ھر مکتبہ فکر اپنی ھر مسجد میں اپنی اپنی مرضی سے جوڑ رھا ھے ، یہ الگ بات ھے کہ ایک مسجد کا اسلام دوسری مسجد کے اسلام سے نہیں ملتا ! قرآن کی ھر آیت اور ھر حدیث کو اس کی پراپر جگہ سے نکال دیا گیا ھے یا ھمیں نکلی ھوئی ملی ھے ،،اور ایک پزل یا Jigsaw ھے کہ ھم اسے جوڑنے بیٹھے ھیں ! نتیجہ یہ ھے کہ ھر مسجد کا امام نبی پاک ﷺ کے فیصلوں کو ایک مولوی کے فیصلے سمجھ کر اپنے فیصلوں جیسا بنا بیٹھا ھے ! آپ ﷺ کے فرامین کو ایک مولوی کی تقریر سمجھ بیٹھا ھے، اور نبی ﷺ کے حکم پر کسی کو قتل کر دینے کو جواز بنا کر اپنی تقریر کے رد عمل میں بندے مارے جانے کو درست قرار دے رھا ھے ! اور جیسا کہ میں نے عرض کیا اس کا واحد سبب یہ ھے کہ اسلام ھمیں مسجد میں ھی روتا دھوتا ،منہ بسورتا ،، ملا ھے ،مسجد میں ھی ھم نے اسے جوان ھوتے دیکھا ھے اور مسجد میں ھی ھم اسے دفنانے کا ارادہ رکھتے ھیں،، باھر کی دنیا سے اسلام کا تال میل بٹھانا اور لوگوں میں وہ ویژن پیدا کرنا کہ جس میں اسلام کو عالمگیر تناظر میں رکھ کر دیکھا جائے اس کے گلے میں کسی خاص ملک کی ثقافت کی بلی باندھ کر دوسروں کو مجبور کرنا کہ اس ثقافت کی بلی کو اونٹ سے بھی مہنگا خریدے ورنہ اسلام کے بھی قریب نہ آئے ! میں یہ بات متعدد بار لکھ چکا ھوں اور اپنے دروس مین بھی واضح کر چکا ھوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ریاست قائم کر کے اس دنیا سے تشریف لے گئے تھے ،اور ایک ریاست مین جتنے بھی ادارے ھوتے ھیں ، وہ ساری حیثیتیں نبی کریمﷺ کی اکیلی ذات میں مرتکز تھیں ! 1-آپ ﷺ نبی تھے ! 2- آپ ریاست کے سربراہ تھے ! 3- آپ اتنظامی سربراہ تھے ! 4- آپ چیف جسٹس تھے ! 5- آپ چیف آف آرمی اسٹاف تھے ! 6- آپ اس ریاست کے عام شہری اور ایک شوھر، باپ اور پڑوسی تھے ! ان میں سے ھر حیثیت میں آپ کا کیا گیا کام اور دیا گیا حکم اسی حیثیت کی سنت ھے ! ان میں سوائے نبوت کے ھر حیثیت آنے والے خلیفہ کو منتقل ھوئی ھے ! اور وہ سوائے نبی کی حیثیت کے باقی ھر حیثیت میں آزادی کے ساتھ فیصلے کرنے کا مجاز ھے ! اگر وہ دیکھتا ھے کہ ثبوت کی عدم دستایبی کی وجہ سے حضورﷺ نے بطور چیف جسٹس جو فیصلہ دیا ھے،، اسے اس فیصلے کے خلاف ثبوت دستیاب ھو گئے ھیں تو وہ بطور چیف جسٹس اس فیصلے پر نظرثانی کر سکتا ھے ! اس کی اجازت نبی کریمﷺ نے خود اپنی حدیث میں دی ھے کہ ؛ اگر کوئی چاپلوس شخص اپنی چرب زبانی سے مجھے قائل کر کے فیصلہ اپنے حق میں کرا لیتا ھے تو بھی میرے اس کے حق میں فیصلہ کر دینے کے باوجود وہ چیز اس کے لئے آگ کا ٹکڑا ھے ! اسے کھا لے یا چھوڑ دے ! گویا اگر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کسی فیصلے کے بارے میں یہ آگاھی ھو جاتی ھے کہ نبی پاکﷺ سے لیا گیا فیصلہ غلط ثبوت اور دلائل کی بنیاد پر لیا گیا تھا تو اس فیصلے پر نظر ثانی اور اس آدمی کو اس آگ سے بچانا ان کا فرضِ منصبی تھا ! یہی اصول آپ کی تمام حیثیتوں پر لاگو ھو گا ! اور اس کی بنیاد پر خلفاء راشدین نے فیصلے کیئے ! اور نبی پاک کا یہ فرمانا کہ علیکم بسنتی و سنۃ خلفاء الراشدین المھدیین من بعدی ،، اصلاً نبوت کے علاوہ باقی حیثیتوں میں خلفاء کو فری ھینڈ دینا تھا کہ وہ باقی حیثیتوں میں آزادی کے ساتھ فیصلے لے سکتے ھیں،، اس میں نہ تو وہ نبیﷺ کے فیصلوں کے تابع ھیں اور نہ ان میں نبی پاک ﷺ کے فیصلے کے خلاف ان کا فیصلہ توھین رسالت اور بدعت ھے ! جس طرح پاکستان کا پہلا چیف جسٹس فیصلے لینے میں آزاد تھا ،اس کرسی پر بیٹھنے والا ھر چیف جسٹس ویسی ھی حیثیت کا حامل ھو گا اور ویسے اختیارات استعمال کرے گا ،، وہ اپنی ذات مین الگ ھو گا ،قوم میں الگ ھو گا،،مگر ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے وھی مقام رکھے گا ! سوائے نبی ﷺ کی حیثیت کے باقی حیثیتوں میں خلفاء راشدین نبیﷺ کے تابع نہیں بلکہ حالات اور وقائع ( circumstances & Evidence ) کے تابع ھیں ،انہیں نبی ﷺ کے کسی قول کا پابند کرنا درست نہیں جبکہ وہ قول انتطامی سربراہ کی حیثیت سے دیا گیا ھو ! وہ صرف بحیثیت نبیﷺ حضور کے دیئے گئے حکم کے پابند ھیں ! باقی حیثیتوں میں وہ احوال و دلائل کی بنیاد پر فیصلہ لینے کے لئے ویسا ھی برابر کا اختیار رکھتے ھیں جیسا کہ حضور ﷺ اپنی اس حیثیت میں رکھتے تھے !

 عرض ھے کہ نبی کریم ﷺ کو انسانوں نے نہیں چنا تھا بلکہ آپ ﷺ اللہ کا انتخاب تھے ! اور باقی ساری حیثیتیں اسی رسالت کا لازمہ تھیں ،، یعنی ایسا نہیں تھا کہ آپ ﷺ نبی تو اللہ کے منتخب کردہ تھے مگر منتظم اعلی لوگوں کے ووٹوں سے بنے تھے ! مکے میں آپ ﷺ داعی کی شان کے ساتھ تھے ،جیسا کہ تمام نبیوں کا معاملہ تھا ۔ آپ ﷺ کی مکے سے ھجرت نبیوں کی تاریخ کے بیک گراؤنڈ میں دعوت کی ناکامی تھی اور انجام کار مکے والوں کو ھلاک کر دیا جانا چاھئے تھا ! بالکل ایسا ھی ھونا چاھئے تھا اور ایسا ھی ھوتا اگر آپ ﷺ سابقہ نبیوں کی طرح صرف اپنی قوم الی الامیین رسول ھوتے ! مگر نبیوں کی تاریخ کے برعکس آپ ” فی الامیین ” تو تھے مگر ” الی الامیین ” نہیں تھے بلکہ ” الی کافۃ الناسِ بشیراً و نذیراً ” تمام نوع انسانیت کی طرف بشارت دینے والے اور خبردار کرنے والے تھے ،یوں نبوت کا قومی phase فیل ھونے کے بعد بین الاقوامی Phase مدینے سے شروع ھوا ،، دینیات
کے طالب علم غیر مسلم محققین یہاں آ کر کنفیوز ھو جاتے ھیں کیونکہ آپ ﷺ سے پہلے ایسی کوئی مثال نہیں ھے ! وہ کہتے ھیں محمد ﷺ داعی کی حیثیت سے تو ناکام ھو گئے مگر مدبر اور سیاستدان کی حیثیت سے کامیاب رھے کہ آپ نے اپنی نبوت کی ناکامی کو سیاسی تدبیروں سے کامیابی میں تبدیل کر لیا ! دوسری بات جس کی کوئی نظیر ان محققین کو نہیں ملتی وہ عام لوگوں کا نبی کے خلیفہ successor کو چننا ھے ! ھمیشہ نبی سے نبی Takeover کرتا رھا ھے ! اور نبی ھی اقتدار کے لیئے یا بادشاھی کے لئے بندہ وحی کے ذریعے منتخب کرتا رھا ھے ! جبکہ نبی کریم ﷺ بغیر کوئی بندہ منتخب کیئے اس کام کو اللہ کے بندوں کے باھمی مشورے پر چھوڑ کر چلے گئے ،،ظاھر ھے یہ ھی اللہ کی مرضی تھی،کہ انسانوں پر انسانوں کے اقتدار کی بنا خود انسانوں کے مشورے سے کی جائے اور پہلی خلافت ھی اس کی سنت بنے ! بنے یوں انسانوں کے ھاتھوں انسان خلیفہ چننا خلفائے راشدین کی پہلی سنت ھے ! یہ نبی ﷺ کی سنت نہیں ھے ! یہی خلافت ھی ان ساری حیثیتوں کی قائم مقام بنی ھے جو نبوت کے علاوہ نبی ﷺ کو حاصل تھیں ،،یوں انتخاب انسانوں کا تھا ،مگر اختیارات اللہ کے ودیعت کردہ تھے ! اور اللہ کی مرضی اور انسانوں کی مرضی کے مکسچر یا combination کا نام خلافت تھا ! اگر خلافت کے انتخاب کا طریقہ توقیفی ھوتا یعنی نبی سے شروع ھو کر نبی پہ ختم ھو جاتا ،اور اس طریقہ انتخاب میں تبدیلی دین کی خلاف ورزی قرار دی جاتی تو اگلا ھی خلیفہ نئے طریقے سے منتخب نہ ھوتا ،،گویا یہ امر توقیفی یا دین کے طے کردہ اصولوں میں سے نہیں تھا،،جس کو لوگ آج کل ثابت کرنے کی کوشش کر رھے ھیں کہ جو اس طریقے سے آئے گا اسی کا نام خلیفہ ھو گا ، تو یہ ایسا ھی ھے کہ نارمل ڈیلیوری سے پیدا ھونے والا ھی انسان کہلا سکتا ھے، بڑے آپریشن سے پیدا ھونے والے کو انسان نہیں کہا جا سکتا ! جو ووٹ سقیفہ بنو ساعدہ میں ھوا ، اور جس کے بعد مسجد نبوی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کیا گیا وہ وھی طریقہ ھے جو آج کل رائج ھے،، متخب نامزد کرنا ابوبکر صدیقؓ کی سنت ھے ،، اور مختلف لوگوں پر مشتمل پینل نامزد کرنا عمر فاروقؓ کی سنت تھی،، عشرہ مبشرہ کو خلافت کے لئے نامزد کیا گیا تھا ،اب اصولی طور پر یا تو اگلا خلیفہ طریقے میں تبدیلی لاتا جو کہ نہیں لائی گئ اور خلیفہ شہید ھو گئے ! گویا اب عمر فاروقؓ والی بنائی گئ عشرہ مبشرہ کی کمیٹی خلافت کی امیدوار تھی،، چاھے جس طرح بھی یہ سیٹ خالی ھوئی تھی،، اس کا انتخاب کے طریقے سے کوئی تعلق نہیں تھا ،، حضرت علیؓ نے انتہائی دیانتداری کے ساتھ عشرہ مبشرہ میں سے بچنے والےباقی دیگر دو ساتھیوں طلحہؓ اور زبیرؓ کو بیعت کی پیشکش کی ،، اب ان دونوں کے انکار کے بعد سوائے حضرت علیؓ کے اور کوئی امیدوار بچتا ھی نہیں تھا،پھر ان دونوں کو دیانتداری کے ساتھ حضرت علیؓ کی بیعت کر لینی چاھئے تھی،جو کہ ھوا نہیں اور یہ غلطی غزوہ احد کی غلطی سے بڑی غلطی تھی،نتیجہ بھی اس سے زیادہ ھولناک نکلا ! الغرض فرد پر محنت کے نتیجے میں ایک صالح معاشرہ قائم ھوا ،، ان لوگوں نے یعنی افراد نے نبی کو دعوت دے کر بلایا ،، جب نبیﷺ کو اقتدار حاصل ھو گیا ،تو جہاد اور جنگ کے قوانین نازل ھوئے ،،جب ریاست بن گئ تو ریاستی احکامات نازل ھوئے ،، نہ کہ آپ ھاتھ پاؤں کاٹنے اور سنگسار کرنے کے احکامات لے کر گلی گلی پھرتے تھے کہ لوگو ! آؤ میرا ساتھ دو میں نے لوگوں کو سنگسار کرنا اور ان کے ھاتھ کاٹنے ھیں،،جیسا کہ آج کل لوگو اپنا موٹو بنائے پھرتے ھیں، اور جو بستی بھی دس دن کے لئے قبضہ کرتے ھیں،، وھاں ھاتھ کٹے لوگوں کی کھیپ چھوڑ کر پسپا ھو جاتے ھیں،، بجائے لوگوں کو کھانے کو کچھ دینے کی فکر کرنے کے، کھانے کی چوری کرنے والوں کے ھاتھ کاٹ کر آسمان کی طرف منہ کر کے دیکھتے ھیں کہ اب اللہ خوش ھو کر من و سلوی نازل کرے گا ! جبکہ عمر فاروقؓ نے قحط سالی میں ھاتھ کاٹنے کی سزا معطل کر دی تھی کہ لوگ چوری پر مجبور ھو گئے ھیں اور مجبوری میں ان پر کوئی گرفت نہیں،، رفع عن امتی ثلاث،، الخطا والنسیان وما استکرھوا علیہ ! اسی طرح سرحدی علاقوں میں لوگوں کے غیر مسلموں کے ساتھ کثرت سے میل جول رکھنے کی وجہ سے ان میں دینی تعصب کی کمی کی بدولت وھاں حدود کا نفاذ روک دیا گیا،، فوج میں دوران جنگ حدود کا نفاذ روک دیا گیا،،کہ سزا مومن کی بہتری کے لئے ھے اسے کافر بنانے کے لئے نہیں،، سزاؤں سے مطلوب و مقصود مومن کا فائدہ ھے،نقصان نہیں،مومن مطلوب ھے سزائیں مطلوب نہیں ھیں ۔۔لوگ فسق کے ساتھ جی لیں مگر مسلمان رھیں یہ بہتر ھے اس سے کہ اسے سزا دے کر کافر کر دیا جائے ! اور آج یہ دینی تعصب بہت کمزور پڑ گیا ھے،، نیز غیر مسلموں کے ساتھ انٹرایکشن اور لین دین فاروقؓ کے زمانے سے کروڑ گنا زیادہ ھے،مسلمان کمزور تر ھوگئے ھیں غیر مسلموں کی شان بڑھ کر پرکشش ھو گئ ھے ،، اور غیر مسلم دنیا صرف ایک کلک کے فاصلے پر ھے سفر کرنے کی بھی ضرورت نہیں ھے ،بندہ حرم میں سنت پڑھ کر جماعت کے انتظار میں بیٹھا ھوتا ھے تو اپنا بلیک بیری کھول کر دنیا کے کسی ملک میں بھی جا سکتا اور وھاں کی خبریں پڑھ سکتا ھے ! آج مسلمان جتنا پیار اور محبت کا مستحق ھے اتنا کبھی بھی نہیں تھا ،،، کٹے ھاتھ اور اڑے ھوئے سر دکھا کر مسلمان میں اسلام کی محبت نہیں ڈالی جا سکتی !