Home / History / Biography / میں نے تصوف کیوں سیکھا !

میں نے تصوف کیوں سیکھا !

میں نے کیوں سیکھا !

October 29, 2013 at 8:22pm

علامہ دوست محمد قریشی مرحوم اپنے ایام دارالعلوم دیوبند کے بارے میں ایک واقعہ لکھ کر بتاتے ھیں کہ کیوں مسلمانوں کو تصوف کی طرف توجہ دینی پڑی،، ھندوستان جادو کی سر زمین تھی یہاں قدم قدم پر سادھو آسن جمائے بیٹھے تھے اور قوت نفسانیہ کے زور پر ما فوق الفطرت تماشے دکھا کر لوگوں کے لوٹ رھے تھے،، عوام کالانعام ان شعبدوں کو عنداللہ ان کی مقبولیت سمجھ کر انہیں حق پر سمجھتے اور ھندوؤں سے زیادہ ان کو گھیرے رھتے،، جس کی وجہ سے ضرورت محسوس کی گئی کہ اس عمل کے توڑ کے لئے ویسا ھی علم حاصل کیا جائے اور قوت نفسانیہ کو قوت نفسانیہ کے ذریعے شکست دی جائے تا کہ دلیل کے لئے رستہ صاف کیا جائے،، اس فن کی مشقوں میں دیوی دیوتاؤں کے نام کے منتروں اور بھجنوں کی جگہ قرآنی آیات اور مسنون اذکار کو استعمال کرتے ھوئے مسلمان اھل علم نے اللہ کی تائید اور نصرت سے ھندوؤں کو اسی طرح پچھاڑ دیا ،جس طرح محمد بن قاسم کی تلوار نے راجہ داھر کو پچھاڑا تھا،، زیادہ زمانہ نہیں گزرا تھا کہ لوگوں کا بہاؤ، معین الدیں چشتی اجمیری اور نظام الدین اولیاء کی جانب ھو گیا ،جو نہ صرف علم کی دنیا میں اپنا مقام رکھتے تھے،بلکہ جود و سخا میں بھی اپنے نبیﷺ کی سنت کے متبع تھے،ان کا در مسلم غیر مسلم سب کے لئے بلا تعصب کھلا ھوا تھا،رات دن بھوکے آتے اور پیٹ بھر کر کھاتے،بعض دفعہ ایک ھی برتن میں ھندو اور مسلم کھاتے، روتی بلکتی مائیں تڑپتے بچے لے کر آتیں اور اللہ والوں کی ایک پھونگ کے صدقے جو وہ اللہ کا کلام پڑھ کر مارتے ھنستی مسکراتی صحتمند بچے لے کر جاتیں،، ھر مذھب والے کو بلا تعصب سورہ فاتحہ کا ورد دیا جاتا جو ھندو اور مسلم سب کے لئے یکساں مفید ھوتا،، اس حکیمانہ طریقہ کار کا نتیجہ تھا کہ نظام الدین اولیاء نے 90 ھزار کے لگ بھگ ھندو مسلمان کیئے جبکہ خواجہ معین الدین چشتی نے 9 لاکھ کے لگ بھگ لوگوں کے سینے توحید کے نور سے منور کیئے ! اس سلسلے میں کچھ واقعات تو مولانا سید مناظر احسن گیلانی صاحب نے اپنی کتاب ” احاطہ دارلعلوم میں بیتے ھوئے دن” میں لکھے ھیں جبکہ مرشدی علامہ دوست محمد قریشی نے بھی چند واقعات اپنی کتاب ” کشف الحقیقہ عن المعرفۃ والطریقہ ” میں لکھے ھیں، ان میں سے ایک واقعہ کے بارے میں فرماتے ھیں کہ ” مرشدی نے باب باندھا ھے ” کیا اھل بدعت کے پیروں کی توجہ میں اثر ھوتا ھے ؟ ” اس کے تحت لکھتے ھیں کہ نہ صرف اھل بدعت بلکہ صریحاً کافر کی توجہ میں بھی اثر ھوتا ھے،اس کی مثال کچھ یوں سمجھ لیجئے کہ ایک کٹورہ پیشاب کا بھر کر رکھ لیجئے اور دوسرا پانی سے بھر لیجئے،،منہ دونوں مین نظر آ جائے گا مگر ایک سلیم الفطرت شخص پیشاب کے کٹورے میں منہ دیکھنا کبھی پسند نہیں کرے گا ! اس سے حق و باطل کا فیصلہ نہیں ھو سکتا جب تک کہ حامل توجہ کا کردار سنت کے مطابق نہ ھو،یعنی اس فن میں شکست و فتح کشتی یا کبڈی کے کھیل کی مانند ھے،، کافر یا بدعتی کا توجہ میں غالب آ جانا اس کے کی حقانیت کی دلیل نہیں بن سکتا جس طرح کرکٹ میں فتح یا شکست سے دین کی حقانیت کا فیصلہ نہیں ھو سکتا ! ایک ھندو نوجوان اس عاجز کے دور تعلیم میں مسلمان ھوا ، وہ دورہ حدیث کے لئے دیوبند میں داخل تھا، طبیعت میں زبردست قابلیت تھی، ذھن رسا اور زبان مین بلا کی فصاحت تھی،دل دردِ سے لبریز تھا، نوجوان شیخ سارا دن شیخ الاسلام مولانا سیدی حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ سے حدیث کے اسباق یاد کرتا ، حضرت شیخ الادب مولانا اعزاز علی صاحب ،اور مولانا محمد ابراھیم بلیاوی سے کتابیں پڑھتے،، طلباء عصر کے بعد سیر کو نکلتے ،جبکہ یہ نومسلم شیخ سب سے الگ ھو کر ھندو برھمنوں کے پاس چلا جاتا،، ساتھ کوئی ایک آدھ میرے جیسا کند ذھن بھی لگ جاتا کہ تبلیغ کا طریقہ سیکھ لیا جائے اور کچھ اجر بھی پا لیا جائے، بہت سارے ھندو برھمن اس نوجوان کے ھاتھوں مسلمان ھوئے تا آنکہ شہر بھر میں چرچا ھو گیا کہ اس نوجوان سے کوئی ھندو بچ نہیں پاتا،، ھندو برھمن اس کا رستہ چھوڑ کر چلتے اور بڑے بڑے برھمن اس سے کنی کتراتے،،، ایک دن یہ شیخ نوجوان عصر کے بعد ایک برھمن کے پاس چلا گیا اس حالت میں کہ وہ وید پڑھ رھا تھا ،، نوجوان نے کہا کہ شیخ جی ادھر میری طرف بھی توجہ کیجئے ، برھمن نے پہلے توجہ اپنے قلب پر کی اور پھر توجہ بھری نگاہ نوجوان کے دل پر ڈالی ،، شیخ صاحب کہتے ھیں کہ میرا قلب اللہ اللہ چھوڑ ،، رام رام کرنے لگ پڑا،، یہ وہ لمحہ تھا جب شیخ کو ھوشیار ھو جانا چاھئے تھا اور سامنے سے ھٹ جانا چاھئے تھا،،مگر شیخ جی اس میدان کے آدمی نہ تھے انہوں نے دوبارہ اس کو دعوت دے ڈالی کہ برھمن جی میری طرف توجہ فرمائیں،، برھمن نے دوبارہ توجہ کی اور نورِ ایمان سلب کر کے کفر بھر دیا،، پھر تیسری توجہ کے ساتھ اپنی تصویر اس کے دل میں چسپاں کر دی،جب اسے محسوس ھو گیا کہ نوجوان اس کے قبضے میں آ چکا ھے تو اس سے مخاطب ھوا اور بولا شیخ جی آپ ھیں بھی ھندو اور رھیں گے بھی ھندو، جاؤ اپنے وطن واپس چلے جاؤ،دارالعلوم سے بستر اٹھاؤ اور ریل گاڑی سے اپنے گھر چلے جاؤ ،، دارالعلوم مین جب شیخ جی واپس آئے تو کایا ھی پلٹی ھوئی تھی ،،گم سم اور ٹک ٹک سب کو دیکھ رھے ھیں،، حضرت مدنیؒ کو دکھایا گیا،آپ نے فرمایا انہیں حضرت عبدالقادر رائےپوری صاحب کے پاس لے جاؤ،، صبح ھوئی شیخ صاحب نما زسے بھی فارغ اور اسباق سے بھی فارغ،،،حضرت مدنی کے حکم کے مطابق طلباء شیخ جی کو عبدالقادر رائیپوری صاحب کے پاس چھوڑ آئے،،حضرت نے اٹھ دن صرف کھلایا پلایا اور بات تک نہ پوچھی،، نویں دن نوجوان حضرت کی خدمت مین حاضر ھوا اور عرض کیا کہ آپ مجھے کلمہ پڑھا مسلمان کریں یا مجھے گھر جانے کی اجازت دیں،، حضرت رائے پوری نے پوری قوت کے ساتھ ایک تھپڑ اسے رسید کیا اور فرمایا ” تو تھا بھی مسلمان ھے بھی مسلمان اور رھے گا بھی مسلمان جا جا کر اپنا سبق پڑھ،،جناب شیخ کا دل دوبارہ اللہ اللہ کے ردھم پہ جاری ھو گیا اور کفر نکل گیا،،، اس میں جو لوگ تصوف سے واقف ھیں وہ جانتے ھیں کہ شیخ نے کون سی ٹیکنکل غلطی کی،، کبھی کسی کو اپنے پر توجہ دینے کی دعوت نہیں دینی چاھئے،،یہ قلعہ دل کا دروازہ کھولنے والی بات ھے،،نوجوان کی دعوت پر ھی ھندو برھمن نے دل پہ تصرف کیا،، حضرت رائے پوری صاحب نے بھی نوجوان کو چھوڑ دیا تا آنکہ اس نے تنگ آ کر وھی دعوت حضرت رائے پوری کو بھی دے ڈالی اور آپ نے تصرف بالید کا سب سے طاقتور اور مسنون داؤ استعمال کیا،، ورنہ برھمن کا قبضہ چھڑانا مشکل تھا،، حضرت ابئ ابن کعب رضی اللہ عنہ کے قلب پر بھی نبی کریم ﷺ نے تصرف بالید کا مظاھرہ کیا تھا ،جس کے نتیجے میں وہ شدید کفر جو ان کے زمانہ کفر سے بھی شدید تر تھا،اس طرح صاف ھوا کہ قلب کی شفافیت میں عرشِ الہی کے نیچے جا کھڑے ھوئے،، ان کے اپنے بقول میں گویا اللہ کے سامنے کھڑا تھا،،( بخاری

یہ اصل میں کچھ یوں ھوتا ھے جیسے  کوئی فلیش ڈرائیو غیر روایتی طریقے سے نکالی جاتی ھے تو سارا ڈیٹا ضائع ھو جاتا ھے،، اسی طرح تصرف بالید مکمل طور پر قلب کو فارمیٹ کر دیتا ھے !

ابوظہبی کے مشہور و معروف اسپتال کے چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر صاحب تشریف لائے،، ملاقات عشاء کے بعد مسجد سے ملحق مجلس یا لائبریری میں ھوئی،،گویا ھوئے کہ ان کا ایک ھی بیٹا تھا جو امریکہ ماسٹر کرنے گیا ھوا تھا، ایک پیر صاحب سے لنک ھو گیا اور ان پیر صاحب نے اسے والدین سے اس طرح برگشتہ کر دیا ھے کہ وہ والدین سے بات تک کرنا پسند نہیں کرتا، فون تک اٹینڈ نہیں کرتا اور اب تو کہتا ھے کہ آپ لوگ مجھے ڈسٹرب مت کیا کریں،،زندگی کی جمع پونچی اس کی تعلیم پر لگا دی ھے،اکلوتا بیٹا ہاتھ سے نکل گیا ھے ! ھم لوگ خود جا کر مل کر آئے ھیں وہ تو منہ بھی نہیں دکھانا چاھتا ! اب تو حد ھی ھو گئی ھے وہ ھماری تجویز کردہ جگہ پر تو نہیں کرنا چاھتا،مگر موصوف پیر صاحب کے مدرسے کی پرائمری پاس لڑکی سے شادی کرنا چاھتا ھے،، ان حالات میں ھمارے پاس اور کوئی رستہ نہین بچا کہ ان پیر صاحب کو پاکستان میں ھی نمٹا جائے،، میں نے انہیں سمجھایا کہ اس طرح معاملہ مزید بگڑ جائے گا،، پہلے موصوف سے بات کر لینے دیجئے،، پیر صاحب ابوظہبی تشریف لائے تو ایک مشترکہ دوست کے ذریعے پیر صاحب سے وقت لے کر ڈاکٹر صاحب کی ملاقات کرائی گئی جو بے سود رھی، پیر صاحب نے ٹکا سا جواب دے دیا کہ جناب آپ اپنی اولاد سے رابطہ کریں،،میں اس سلسلے میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتا،،پیر صاحب سے میری بھی سلام تھی کیونکہ وہ بھی نقشبندی تھے اور تصوف مین میرے ” کزن ” لگتے تھے،ان کے مرشد اور میرے مرشد پیر بھائی تھے ! میں نے بھی گزارش کی کہ اگر لڑکے پر آپ کا اثر ھے تو اسے خیر کے لئے استعمال کریں اور سمجھائیں گے والدین کا دل نہ دُکھائے، نیز والدہ بیمار ھے باپ پریشان ھے تو فون پہ ان سے رابطہ کر کے انہیں تسلی دے اور جہاں وہ کہتے ھیں وھاں شادی کرے ! مگر بات بنی نہیں، میں نے اپنے پیر صاحب کو ساری صورتحال بتائی اور حل پوچھا،، انہوں نے فرمایا کہ میں ان پیر صاحب سے ذاتی طور پر واقف ھوں ،انہوں نے عملِ تسخیر کیا ھوا ھے، اور دل و دماغ کو hack     کر لیتے ھیں،، اپنی تصویر ٹیگ کر دیتے ھیں اور بندہ ان کا ھی دیوانہ بن جاتا ھے،،یہ بات میں نے بعد میں ان پیر صاحب کی ایک کتاب میں بھی پڑھی جس میں انہوں نے اپنے تصرف کی قوت کا اظہار کچھ اس طرح کیا ھوا تھا کہ ” وہ روس کی آزاد شدہ ریاستوں کے جب دورے پر تھے تو جس علاقے میں جانا ھوتا تھا،اس علاقے کو نقشے میں پن پؤائنٹ کرتے اور اس پر توجہ کرتے تو اس علاقے کے لوگ ان کے پہنچنے پر ان کو یونہی پہچانتے جیسے لوگ اپنی اولاد کو پہچانتے ھیں،، بعض کو وہ خواب میں آتے کہ فلاں وقت اللہ کا یہ بندہ تمہارے گاؤں پہنچ رھا ھے،اس کے استقبال کے لئے نکلو،،اور جب یہ اس گاؤں یا بستی پہنچتے تو لوگ باھر استقبال کو پہنچے ھوتے، یہانتک کہ کھانا تک ان کی پسند کا بن چکا ھوتا،، خیر جناب اپنے بزرگوں سے مشورہ کیا کہ مسئلہ تو حل کرنا ھو گا ! جواب ملا یہ آپ کا پراجیکٹ ھے،، اسے مکمل کیجئے اور خرقہ خلافت لے لیجئے،، طریقہ کار انہوں نے سمجھایا کہ لطائف کے combination  کو کیسے ھینڈل کرنا ھے،، ایک لطیفے کے زور پر پہلی تصویر کو undo کرنا ھے اور دوسرے کے ساتھ اس کے والد کی تصویر کو restore کرنا ھے،، وقت طے کر لیا گیا اور رات اسی مشقت میں گزرتی ،، الحمد للہ بزرگوں کے بتائے گئے اندازے سے بھی پہلے کام مکمل ھو گیا،، بچہ اس ذھنی غلامی سے آزاد ھوا،، والدین سے معافی مانگی اور ان کی پسندیدہ جگہ پر شادی بھی کر لی،، والدین سے گلے شکوے بھی ھوتے ھیں،مگر بدترین شخص وہ ھوتا ھے جو ان کو بڑھاوہ دے کر اولاد کے دل میں والدین کی نفرت کو پلا دے،، یہ کیفیت بالکل وھی تھی جو سامری نے بنی اسرائیل کے ساتھ کی تھی،، اللہ کے بارے میں شکوے شکایت کو اساس بنا کر اس نے بچھڑے کو ان کے دلوں مین مصور کر دیا تھا،،جسے قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ھے،، و اُِبوا فی قلوبھم العجل،، ان کے دلوں میں بچھڑا پلا دیا گیا تھا،،،! اس پراجیکٹ کی کامیابی پر 2002 میں مجھے سلسلہ نقشبند میں مجاز بنایا گیا،، اس طرح میری بیماریوں میں ایک اور بیماری کا اضافہ ھو گیا

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *