Home / Humanity / Family / گھریلو رشتے

گھریلو رشتے

میاں بیوی ھوں یا والدین اور بچے ،،،،،،، یہ بہت گہرے ھوتے ھیں ،، بہت گہرے سمندر سے بھی گہرے ،،، سمندر میں روز روز سیلاب و طوفان نہیں آتے ،،کوئی بڑا سونامی اس کو اچھال کر باھر پھینک سکتا ھے ،، بیٹیاں سمجھتی ھیں ماں ان کی دشمن ھے بات بے بات گالی اور طعنے دیتی ھے ،، بعض نادان تنگ آ کر خود کشی کر لیتی ھیں ، بیٹا سمجھتا ھے کہ باپ اس دشمن ھے کبھی اس کو خوش نہیں دیکھ سکتا ، والد اس کی خوشیوں کا دشمن ھے ،،،،،،،، ادھر باپ سمجھتا ھے کہ مجھ سے پیار نہیں کرتی ، سارے اپنی روٹی کے لئے مجھ سے چمٹے ھوئے ھیں ،مجھے دیکھ کر کبھی کسی کے چہرے پہ مسکراھٹ نہیں آتی ،، بیوی سمجھتی ھے کہ شوھر تو بس اس کے مرنے کا انتظار کر رھا ھے ،، اور شوھر سمجھتا ھے کہ بیوی کی صورت ایک جونک اس کو چمٹ گئ ھے ،،
یہ رشتے عمل کے ھوتے ھیں ،، قول کے نہیں ھوتے ،محبت اپنے عمل اور باڈی لینگویج سے ثابت کرنے کے رشتے ھوتے ھیں ،،، آئی لو یو وھاں ھوتا ھے جہاں اس کے سوا کچھ کیا نہیں جا سکتا ،،،،،،،، مگر جب عمل کے دروازے کھلے ھوں تو پھر مجرد آئی لو یو ،، فراڈ کے سوا کچھ نہیں ،،
وہ بیٹا جسے ھر وقت گلہ رھتا تھا کہ باپ اس سے محبت نہیں کرتا ، باپ ھر وقت گھوں گھوں کرتا پاس سے گزرتا ھے ،کبھی شفقت اور محبت کی نگاہ نہیں ڈالتا ،،،،،،،،،،،، پھر ایک دن اس بچے کی گاڑی کا ایکسیڈنٹ ھو گیا ،، اور بچہ ٹریفک پولیس والوں نے گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا کیونکہ ایکسیڈنٹ میں ایک آدمی مر گیا تھا ،، میں دیکھنے گیا ،، تو میں نے باپ کو دھاڑیں مارتے ، سسکیاں لیتے ،اذیت سے بل کھاتے اور سلاخوں پہ سر ٹیک کر بلکتے دیکھا ،، بیٹا اندر زار و قطار رو رھا تھا ،،، سونامی آ چکا تھا اور بیٹے کو پتہ چل گیا تھا کہ جس کے بارے میں اسے گمان تھا کہ وہ اس سے پیار نہیں کرتا ،، وہ پیار کا سمندر چھپائے بیٹھا تھا ،،،
؎
آسودہِ ساحل ” تو ھے تُو لیکن شاید یہ تجھے معلوم نہیں !
ساحل پہ بھی موجیں اٹھتی ھیں ،خاموش بھی طوفان ھوتے ھیں !!
شوھر کو گلہ تھا کہ بیوی اس سے نفرت کرتی ھے ، بس اس کے مرنے کا انتظار کر رھی ھے ،،
شوھر بیمار ھو گیا اور گردے کا آپریشن تجویز کیا گیا ،، شوھر کی اتنی استطاعت نہیں تھی کہ بیوی نے سارا زیور لا کر اس کے قدموں میں رکھ دیا ،،،،،،،،، اسے بیچ دیجئے اور آپریشن کرا لیجئے ،، آپ کے بغیر میں ان کا اچار ڈالوں گی بیوی نے روتے ھوئے کہا ،،،،،،، سونامی آ گیا تھا اور غلط فہمیوں کی باڑ کو تہس نہس کر گیا تھا ،،،،،،،،،،
والد کو گلہ تھا کہ بچے اس کا احترام نہیں کرتے ، اس کی کوئی بات نہیں مانتے اور نہ اس سے محبت کرتے ھیں ، وہ ھمیشہ افسردہ رھا کرتا تھا ،،،،،،،،، اور پھر وہ اسٹروک کا شکار ھو گیا ،،،،،،،، دل کے ” دو والو ” بند تھے جن کے لئے آپریشن تجویز کیا گیا تھا ،،،،، بچوں کی روٹی چھوٹ گئ ، جو دھکے سے بھی نماز نہیں پڑھتے تھے وہ ٹوپی سر پہ رکھے نوافل پہ نوافل پڑھے چلے جا رھے تھے ، بیٹی باپ کے سامنے نہیں آ رھی تھی ،باپ کو دیکھتے ھی اس کی چیخ نکل جاتی تھی ،، بچے اپنے دوستوں سے کہہ رھے تھے کہ یار کریں اللہ پاک ھمارے ابو کو صحت دے ،، پھر جب انہیں آپریشن تھیئٹر لے جانے لگے تو وہ بڑا بچہ جو سب سے زیادہ شرمیلا تھا اور کم ھی والد کا سامنا کیا کرتا تھا جس کی وجہ باپ کو گلہ تھا کہ وہ سفید آنکھوں والا ھے ،، کبھی محبت کی نگاہ سے مجھے نہیں دیکھتا ،،،،،،، وھی بڑا بیٹا بیساختہ آگے بڑھا اس نے والد کے ماتھے پہ پیار کیا اور پھر ان کے سینے پہ سر رکھ کر سسک پڑا ،، پاپا آئی لو یو ،، اللہ آپ کو ٹھیک کر کے واپس لائے گا ،، اللہ پاک ھماری دعائیں ضرور قبول کرے گا ،، پاپا ھم سب آپ کا انتظار کریں گے ،،،،،،،،،،، سونامی آ چکا تھا ،، غلط فہمیوں کا دھڑن تختہ ھو چکا تھا ،،،،،،،،
محبت کے اس اظہار کے لئے کیا ضروری ھے کہ بندہ موت کے منہ میں جائے ؟
کیا یہ سب کچھ گھر میں روزانہ نہیں ھو سکتا ؟
جانِ تمنا کب تک تم نہ پیار میرا پہچانو گے ،،،،،
زندہ رھنا ھو گیا مشکل مر جائیں تو مانو گے ؟؟

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *