Home / History / Biography / میری بس اور اس کی سواریاں

میری بس اور اس کی سواریاں

ایک صاحب نے گلہ کیا ھے کہ میں فرینڈ ریکوئیسٹ قبول کرنے میں بخل سے کام لیتا ھوں ،، میں نے عرض کیا کہ اس میں بھی آپ کا بھلا ھی ھوتا ھے کیونکہ میں فرینڈ بنانے کے بعد ان فرینڈ نہیں کرتا ،، بس بلاک کرتا ھوں ، “جس پنڈ نئیں جانڑاں اوہدا ناں کی لینڑاں” “کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے ”
1- ایک پوسٹ لگتی ھے تو بریلوی دوست درخواست بھیج دیتے ھیں ،،، دوسری لگتی ھے تو دیوبندی درخواست بھیج دیتے ھیں ، تیسری لگتی ھے تو غیر مقلدین کی برسات ھوتی ھے ،، چوتھی پہ حق چار یار کا ھجوم ھوتا ھے ،پانچویں پہ شیعہ احباب کی لائن لگی ھوتی ھے ،،،،،،،،،،،، اور ھم بس کی طرح سب سواریوں کو سوار کر لیتے ھیں ،،
اب کھینچا تانی ھوتی ھے ،، میں اپنے سمیت تمام مسلمانوں کو صرف مسلمان ھی سمجھتا ھوں مگر وہ اپنے اپنے مسالک کی عینک اتارنے کو تیار نہیں ھوتے ،، میں مولانا طارق جمیل صاحب کا کلپ بھی لگا دیتا ھوں جو سمجھتا ھوں کہ عام مسلمان کو فائدہ دے گا ،، ذاکر نائیک صاحب کا کلپ بھی لگاتا ھوں ،مولانا اسحاق مرحوم کا کلپ بھی لگاتا ھوں اور جاوید احمد غامدی صاحب کا بھی ،، سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے اقوال بھی شیئر کرتا ھوں ، ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کا کلپ بھی لگتا ھے جن سے میں نے بولنا سیکھا ھے ھے ،انجینئر مرزا طارق صاحب کا بھی کلپ لگاتا ھوں اور زیدی اور اثنا عشری شیعہ علماء کے کلپ بھی شیئر کرتا ھوں جن سے ان کے بارے میں ان کا موقف خود ان کے منہ سے مسلمان سنیں کیونکہ ھر مسلک نے ایک دوسرے کے خلاف اتنا پروپیگنڈہ کر دیا ھے کہ اب مسلمانوں میں ایک دوسرے کی نظر میں کوئی بھی مسلمان نہیں ،، سب اپنی اپنی نظر میں مسلمان ھیں ،،
جو نئے نئے دوست بنتے ھیں وہ پریشان ھو کر پوچھتے ھیں کہ ” تم کیا بلا ھو ؟ ” ھم تمہیں بریلوی سمجھ کر آئے تھے ، ” جو کہ میں جدی پشتی ھوں ” ھم تمہیں دیوبندی سمجھ کر آئے تھے ” جو کہ میں ھوں ، میں نے علمائے دیوبند سے ھی علم لیا ھے ” تمہارا عقیدہ دیکھ کے ھم نے سمجھا تھا تم ” اھل حدیث ھو ” بھائی میں جب حدیث کو حجت سمجھتا ھوں تو اھل حدیث تو ھوں ،، مگر احادیث کی ترجمانی میں کسی کی رائے کو بھی اختیار کر سکتا ھوں ،،،
الغرض جب سواریوں کو تشویش ھونا شروع ھو جاتی ھے کہ یہ بس ان کی مطلوبہ منزل کی طرف نہیں جا رھی اور وہ Panic کا شکار ھو کر فتوے دینا شروع کرتے ھیں تو اب میں انہیں اپنی بس سے اتارنا شروع کرتا ھوں ،،، اب وہ میری وال کبھی نہیں دیکھ سکے گا ،،کیوں کہ دیوار کے باھر سے پتھر مارنے والے مجھے بالکل اچھے نہیں لگتے ،،
اگر میرا دوست بننا ھے تو دل و دماغ میری طرح وسیع کرو،، قوتِ برداشت پیدا کرو اور ھر نقطہ نظر کو پڑھنے کی ھمت پیدا کرو ،،مانو یا نہ مانو یہ آپ کی صوابدید پر منحصر ھے ،، مگر آپ کو یہ اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں کہ میں نے اپنی وال پہ کس کو جگہ دی ھے ،یہ میرا گھر ھے جسے میں چاھوں گا اسے مہمان بناؤں گا ،،،،،،،،،،،،،،،،،،
تنگ نظری پر مشتمل کمنٹس کرنے والوں کو گھر تک چھوڑنے کے لئے پھر مجھے ان کے مسلک کے کارپٹ کے نیچے سے بھی کچھ نکال کر دکھانا پڑتا ھے جو کہ میرے لئے ایک ناگوار فریضہ ھوتا ھے ،، میرے پرانے دوستوں کو بھی کوفت ھوتی ھے کہ اختلافی باتیں شروع ھو گئ ھیں اور مجھے بھی ذاتی طور پر اذیت سے گزرنا پڑتا ھے ،، اس لئے میں دوستی کی درخواست کو دو چار دن دیتا ھوں ، اور اسی دوران اس بندے کے صبر کا غبارہ پھٹ پڑتا ھے اور مجھے لعن طعن کرنا شروع کر دیتا ھے ، نتیجے میں درخواست کنفرم ھونے کی بجائے بلاک ھو جاتی ھے ،،،،،،،،،،،،،،،

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *