Home / Humanity / الجھی ڈور

الجھی ڈور

اگرچہ وہ ایک ذمہ دار شوھر ، اور بچوں کی ضروریات خود سے خیال رکھنے والا باپ تھا مگر بہت ترش رو اور سخت مزاج آدمی تھا ، بیوی اور بچے سہمے رھتے تھے اور وہ اس کو اپنی کامیابی خیال کرتا تھا ،، گھر میں سب کے درمیان اجنبیت کی ایک نادیدہ سی دیوار تھی ،، کوئی ایک دوسرے سے دل کی بات نہیں کرتا تھا ، گھر ایک جیل کا منظر پیش کرتا تھا ،جس میں چند لوگ اکٹھا رھنے پر مجبور تھے اور پتہ نہیں کب تک ،، جیل میں بھی مدت کا تعین ھوتا ھے کہ کتنی جیل کاٹنی ھے ،،، کوئی بھی دوسرے کی اھمیت کو تسلیم نہیں کرتا تھا اور اگر دل سے تسلیم کرتا بھی تھا تو منہ سے اقرار کرنے کو تیار نہیں تھا یا اقرار کا حوصلہ نہیں رکھتا تھا ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
آج دوسرا تھا اور وہ بھی 40 سینٹی گریڈ گرمی کا ،، جمعہ پڑھ کر وہ مولوی صاحب کی ھی مجلس میں بیٹھ گیا جہاں سارے لوگ اپنے اپنے مسائل پیش کر رھے تھے ،،،،،، آخر اس نے بھی اپنا مسئلہ پیش کر دیا ،،،،،،،،
مولوی صاحب نہ میرے دل میں سکون ھے اور نہ میرے گھر میں سکون ھے ،، اللہ نے مال بھی دیا ھے ،صحت بھی دی ھے ، اولاد بھی اچھی دی ھے ،، بیوی بھی بہت اچھی صابر شاکر دی ھے ،مگر بس سکون نہیں دیا ،، لگتا ھے کہیں ڈور الجھ گئ ھے اور سلجھ کر نہیں دے رھی ،،،،،،،، سکونِ قلب کا کوئی وظیفہ ھی عنایت فرما دیں ،،،،،،،،،
بھائی صاحب اللہ پاک کے ساتھ ڈور کبھی نہیں الجھتی وہ انسان سے محبت کرتا ھے اور ڈور خود سلجھاتا رھتا ھے ،، ڈور کہیں انسانوں میں ھی الجھتی ھے ،، کیونکہ انسان آپس میں ڈور سلجھانا چاھتے نہیں یا سلجھانا جانتے نہیں ،، آپ نے ابھی اپنی اولاد اور بیوی کی یہاں مجمعے میں جو تعریف کی ھے کبھی یہ تعریف ان کے منہ پر بھی کی ھے ؟ مولوی صاحب نے کیا ،،جی نہیں ،، مگر مجھے احساس ھے کوئی ضروری ھے کہ بندہ اب یہ بات ان کو لکھ کر بھی دے ؟ دیکھیں آپ کے بیوی بچے کوئی علم غیب نہیں رکھتے کہ وہ آپ کے احساس کو خود سے جان لیں گے ،، گھریلو زندگی سائیکل کی طرح چلتی ھے ،، اوپر والا پیڈل نیچے جائے گا تو نیچے والا اوپر آئے گا اور یوں پہیہ چلے گا ،، اگر آپ چاھتے ھیں کہ کوئی آپ کی اھمیت کا ادراک کرے ، آپ کے احسانات کا اعتراف کرے تو سب سے پہلے یہ دروازہ آپ کو کھولنا ھو گا ،، آپ کو نیچے جانا ھو گا ،، جب گھر میں سکون ھو گا تو دل میں بھی آ جائے گا ، سیانے کہتے ھیں ھوا چلے تو چوھے کی کھُڈ میں بھی لگتی ھے ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
وہ گھر پہنچا تو بیوی بچوں کے لئے کھانا تیار کر رھی تھی،،صائمہ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ھوں کہ اللہ پاک نے مجھے تم جیسی صابر شاکر بیوی عطا کی ھے ، کوئی اور ھوتی تو شاید میرے جیسے تندخو انسان کے ساتھ چند دن بھی نہ نکالتی ،، بس یہ ایک دو جملے سنتے ھی اس کی بیوی کو سکتہ سا ھو گیا ،،؎
ھم کو جھوٹی تسلی نہ دیجئے !
غم میں اب اور اضافہ نہ کیجئے !
جس سے آنکھوں میں آ جائیں آنسو !
وہ خوشی لے کے ھم کیا کریں گے؟
اس نے کھانا پکانا چھوڑ دیا اور اندر جا کر بین کر کے رونا شروع ھو گئ ،،،،،
اس نے سمجھا کہ شاید گرمی کی وجہ سے شوھر کا دماغ چل گیا ھے ،،
یا اللہ اسی کے سہارے تو میں جی رھی تھی ،، یہی تو میرے سر کی چادر تھا ،، اچھا بھلا تو تھا ،بچوں کا کتنا خیال رکھتا تھا ، کہنے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی تھی اور ھر مسئلہ خود سے حل کر دیتا تھا ،، اس کا دماغ بھی چل گیا ھے اب ھم کہاں جائیں گے کیا کریں گے ؟؟
وہ بھی کھانا چھوڑ کر اندر چلا گیا ،، دیکھو میرا دماغ چلا نہیں ھے ، بلکہ میرا دماغ اب کام کرنے لگا ھے ،،، اللہ پاک درختوں کے ساتھ پھل لگاتا ھے مگر یہ پھل انسان کو ھی توڑنا اور سنبھالنا ھوتا ھے ،، مجھے یہ پھل سمیٹنا اور سنبھالنا نہیں آتا تھا ،، خود میرے کانوں کو بھی یہ الفاظ بڑے اجنبی اور عجیب سے لگ رھے ھیں مگر یہ حقیقت ھے کہ اللہ پاک نے مجھے بیوی ھی نہیں اولاد بھی بہت اچھی اور فرمانبردار عطا فرمائی ھے ، میں یہ سب محسوس کرتا تھا مگر شاید اس کا اقرار اپنی کمزوری سمجھتا تھا ،،جبکہ آج مجھے پتہ چلا ھے کہ یہ میری اصل طاقت ھے کہ میں تم لوگوں کی خوبیوں کا اعتراف کروں تا کہ تم لوگ ان خوبیوں کی حفاظت کر سکو ، اس سے پہلے کہ بہت دیر ھو جائے ،،،،، باھر اس کا بیٹا اور بیٹی بھی آبدیدہ سے بیٹھے تھے ،، آج گھر میں وہ بے تکلفی کا ماحول بن رھا تھا جو گھر اور سرائے میں تفریق کرتا ھے ،، ٹینشن گھر سے یوں ختم ھو رھی تھی جیسے ایگزاسٹ چلانے سے دھواں کم ھونا شروع ھو جاتا ھے ، دونوں بچے بھی باھر سے اٹھ کر اندر جا بیٹھے تھے ،، پتہ ھے ابو آپ بہت نائس انسان ھیں ،اس کی بیٹی سدرہ نے اس کے گلے میں بازو ڈال کر کہا ،، میں کلاس فیلوز میں آپ کی بہت تعریف کرتی ھوں ،، بیٹا یہیں ڈور الجھی ھوئی تھی ،میں بھی باھر تو آپ لوگوں کی تعریف کرتا تھا مگر آپ لوگوں کے سامنے کرنے سے جھجھکتا تھا ،، جبکہ یہ تو آپ لوگوں کا حق تھا ، آپ کی امانت تھی کہ آپ کی اچھائیوں کی تعریف کی جائے جس طرح اللہ پاک اپنے بندوں کی اداؤں کی تعریف کرتا ھے ،،،، وہ کام جو رب العالمین کرتا ھے اس کو کرتے ھوئے رب الاسرہ کیوں شرماتا ھے ،، یہ میری خامی تھی جس کو درست کرنا میری ذمہ داری تھی ،، گھر میں اپنائیت ،انس اور محبت کی پھوار صاف محسوس کی جا سکتی تھی ،، دوڑ سلجھ چکی تھی ،،،،،،

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *